چیف منسٹر تلنگانہ چندراشیکھرراؤ کا باقاعدہ قومی سیاست میں داخلہ، تلنگانہ راشٹرا سمیتی اب بھارت راشٹرا سمیتی میں تبدیل

چیف منسٹر تلنگانہ چندراشیکھرراؤ کا باقاعدہ قومی سیاست میں داخلہ
تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) اب بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) میں تبدیل

حیدرآباد:05۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

چیف منسٹرتلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ جوچند ماہ سےملک کی غیر بی جے پی جماعتوں سے مسلسل رابطہ میں تھے اور انہوں نےتمل ناڈو،مہاراشٹرا، بہار،جھارکھنڈ اور دہلی پہنچ کر ان ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سےملاقاتیں کی تھیں اور کانگریس اور بی جے پی کوچھوڑکرتمام اہم اورسینئر اپوزیشن قائدین سےملاقاتیں کی تھیں۔اس وقت یہ قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ چیف منسٹر تلنگانہ قومی سطح پر غیر کانگریسی و غیر بی جے پی سیاسی محاذ بنانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔تاہم انہوں نے اس وقت کہاتھاکہ ان کاایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔انہوں نےکہا تھا کہ چند ماہ انتظار کریں اور دیکھیں۔

وہیں چنددنوں ایسی اطلاعات زیرگشت تھیں کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ اپنی سیاسی جماعت تلنگانہ راشٹرا سمیتی کوقومی جماعت میں تبدیل کرنے والے ہیں۔آج 5 اکتوبر کو دسہرہ تہوار کےدن چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نےتلنگانہ راشٹرا سمیتی کانام تبدل کرتے ہوئے اسے بھارت راشٹرا سمیتی (BRS#) کے نام کا اعلان کردیا۔جس کے بعد چیف منسٹرکے۔ چندرشیکھرراؤکےقومی سیاست میں داخلہ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ علحدہ ریاست تلنگانہ کے حصول کے لیے کے۔چندراشیکھرراؤ نے 27 اپریل 2001 کو حیدرآباد میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) کی بنیاد ڈالی تھی۔اب 21 سال بعد ٹی آر ایس پارٹی قومی سطح کی بی آر ایس پارٹی میں تبدیل ہوئی ہے۔ان 21 سال کے دؤران کے۔چندرا شیکھرراؤ اور ان کی ٹی آر ایس پارٹی نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ٹی آر ایس متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں کانگریس اور مرکز میں کانگریس اقتدار والی یوپی اے کا حصہ رہ چکی ہے۔

خود چندراشیکھرراؤ مرکزی وزارت میں اور ان کی پارٹی کے چند ارکان اسمبلی متحدہ ریاست آندھراپردیش میں مختلف وزارتوں پرفائز رہتے ہوئے استعفے دے کر تلنگانہ تحریک میں شدت پیدا کی۔

بعدازاں سرکاری ملازمین کی تنظیم،دیگر جماعتوں،تنظیموں،طلبہ اور عوام کواس تحریک سے جوڑکر 2 جون 2014 کو علحدہ ریاست تلنگانہ کے حصول میں کامیابی حاصل کرلی۔اس کے لیے کے۔چندراشیکھرراؤ نے مرن برت بھی رکھاتھا اور طلبہ سمیت کئی افراد نے اس پرامن جدوجہد کے دؤران اپنی جانیں قربان کی تھیں۔

2014ء میں منعقدہ 119 ارکان اسمبلی پرمشتمل تلنگانہ کے اولین اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس نے 110 اسمبلی حلقوں سے تنہا مقابلہ کرتے ہوئے 63 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔جبکہ تلنگانہ میں موجود 17 لوک سبھا نشستوں میں سے 11 پر کامیابی درج کروائی تھی۔تاہم ٹی آر ایس کانگریس اور بی جے پی دونوں سے دوری بنائے رکھی۔

وہیں چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤنے اسمبلی کی معیاد کے اختتام کے 6 ماہ قبل ہی 6 ستمبر 2018 کو ریاستی اسمبلی کو تحلیل کردیا تھا۔اور ڈسمبر 2018 میں منعقدہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں کے۔چندراشیکھرراؤ کی قیادت میں ٹی آر ایس پارٹی 88 اسمبلی نشستوں پر شاندار کامیابی کے ساتھ اقتدار پر واپس ہوئی تھی۔بعدازاں 12 کانگریسی ارکان اسمبلی کے گروپ نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔جبکہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ٹی آر ایس نے 9 لوک سبھا نشستوں پر کامیاب ہوئی اور اسے دو نشستوں پر شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ 

آج قبل ازیں ٹی آر ایس کے ہیڈ کوارٹر تلنگانہ بھون میں چیف منسٹر کی صدارت میں منعقدہ جنرل باڈی اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی اس قرارداد پرچیف منسٹرکے۔چندراشیکھرراؤ کے بشمول جملہ 283 پارٹی کے ارکان پارلیمان،وزراء،ارکان اسمبلی،ارکان قانون ساز کونسل کےعلاوہ پارٹی کےاہم قائدین شامل ہیں جبکہ 8 ریاستوں کے 41 سیاسی قائدین،کسان رہنما اور دیگر بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔

اس کے لیے مہورت کے طور پر دوپہر 19-1بجے کا وقت مقرر کیاگیا تھا۔مقررہ وقت کےمطابق چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤنے نعروں اور زوردار تالیوں کے درمیان موجودہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) کا نام تبدیل کرتے ہوئے قومی سطح کی"بھارت راشٹرا سمیتی Bharat Rashtra Samithi#  ” (بی آر ایس ) کے نام کا باقاعدہ اعلان کردیا۔

اس اجلاس میں 8 مختلف ریاستوں کےسیاسی قائدین بھی شریک تھے۔جن سابق چیف منسٹر کرناٹک وصدر جنتادل ایچ ڈی کمارا سوامی کے علاوہ تمل ناڈو کے سیاسی قائدین شریک تھے جنہوں نے کے۔چندراشیکھرراؤ کو قومی سیاست میں داخلہ پر مبارکباد دی۔

تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو بھارت راشٹرا سمیتی میں تبدیل کیے جانے کی قرارداد لے کر ریاستی نائب صدر منصوبہ بندی کمیشن و سینئر پارٹی قائد بی۔ونود کمار ایک وفد کے ساتھ آج شام دہلی روانہ ہوگئے۔وہ کل الیکشن کمیشن آف انڈیا کو یہ قرارداد پیش کریں گے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے اس قرارداد کو منظور کیےجانے کے بعد بھارت راشٹرا سمیتی کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکزی سطح پر باقاعدہ آغاز ہوجائے گا۔

اطلاع ہےکہ الیکشن کمیشن کی منظوری کےبعد چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ ملک کی مختلف ریاستوں کے ہمخیال سیاسی قائدین سے ملاقاتوں کا آغاز کریں گے۔اور ان کا منصوبہ ہے کہ پہلے اقدام کے طور پر قومی سطح پر ایک کسان تنظیم قائم کی جائے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق قومی سطح پرسرگرم ہوتےہوئے چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ اپنی بھارت راشٹرا سمیتی کی ریاست تلنگانہ کے علاوہ ملک بھر میں رکنیت سازی مہم کا آغاز کریں گے۔

چندراشیکھرراؤ کی نظریں تلنگانہ کے ساتھ ساتھ پڑوسی ریاستوں آندھرا پردیش،کرناٹک اور مہاراشٹرا پر ہیں۔اور انہوں نے ان چاروں ریاستوں کی 100 لوک سبھا نشستوں کی نشاندہی کرلی ہے جہاں سے بھارت راشٹریہ سمیتی کے ارکان کو مقابلہ میں اتارا جائے گا۔

چیف منسٹر تلنگانہ کو یقین ہے کہ ان میں سے 50 سے زائد لوک سبھا نشستوں پر ان کے امیدوار کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ کی سب سے زیادہ نظر مہاراشٹراکے مراٹھواڑا علاقہ اور کرناٹک کے وہ علاقے جہاں تلگو طبقہ کی آبادی زیادہ پر ہے۔ اور ساتھ ہی بنگلورو کے چند لوک سبھا حلقوں پر بھی انہیں کامیابی کا یقین ہے۔

ساتھ ہی چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ کو یہ یقین بھی ہے کہ ریاست تلنگانہ میں جاری مختلف اسکیمات اور ریاست کے قیام کے 8 سال کے کم عرصہ میں تلنگانہ کی مختلف محاذوں پر ترقی ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی!!۔

دوسری جانب آج تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو قومی جماعت کے طور پر بھارت راشٹرا سمیتی میں تبدیل کیے جانے کے بعد تلنگانہ میں پارٹی قائدین اور کارکنوں میں جوش و خروش پیدا ہوگیا ہے۔ریاست کے کئی اضلاع میں جم کر آتشبازی کی گئی اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ کی جانب سے قومی پارٹی کے اعلان کے بعد مختلف غیر کانگریسی اور غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں اور قائدین کی جانب سے مبارکبادیوں اور نیک تمناؤں کا سلسلہ جاری ہوگیا ہے۔

صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حلقہ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اپنے ٹوئٹ میں کے۔چندراشیکھرراؤ کو مبارکباد دیتے ہوئے ٹی آر ایس پارٹی کی بی آر ایس میں تبدیلی اور شروعات پر نیک خواہشات پیش کی ہیں۔