گھریلوملازمہ پر تشدد، بیٹی بچاؤ مہم کی ریاستی کنوینر اور چوری کا بچہ خریدنے پر ایک بی جے پی کارپوریٹر گرفتار

جھارکھنڈ میں گھریلو ملازمہ پر تشدد، بیٹی بچاؤ مہم کی ریاستی کنوینر
اور متھرا میں چوری کا بچہ خریدنے پر ایک بی جے پی کی کارپوریٹر گرفتار
تلنگانہ کے وزیر کے ٹی آر نے جھارکھنڈ کی متاثرہ لڑکی کی مدد کا اعلان کیا

رانچی/متھرا:31۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

بی جے پی کی دو خاتون لیڈران ملک کی دو الگ الگ ریاستوں سےگرفتار ہوئی ہیں۔جھارکھنڈ کےرانچی سے گرفتارخاتون سابق آئی اےایس آفیسر کی اہلیہ ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نےاپنی گھریلو ملازمہ جوکہ قبائیلی ہےکو 8 سال تک تشدد کا اتنانشانہ بنایاکہ وہ ہسپتال میں زیر علاج ہے۔تو اترپردیش کےمتھرا میں شوہر اور دیگر 6 افراد سمیت گرفتار ہونے والی دوسری خاتون بی جے پی کی مقامی کارپوریٹر ہے۔جس نے ایک گینگ کی جانب سے ریلوے اسٹیشن سے چرایا ہوا ایک بچہ خریدا تھا۔

ریاست جھارکھنڈ  کی بی جے پی لیڈر سیما پاترا کو اپنی گھریلو ملازمہ جوکہ قبائیلی ہیں پر تشدد کرنے کے معاملہ میں آج صبح ارگورہ پولیس نے رانچی کے اشوک نگر میں اس کی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا۔اس غیرانسانی عمل کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سیما پاترا کے خلاف ارگورہ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

سیما پاترا ایک ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار مہیشور پاترا کی بیوی ہیں۔اس کے ساتھ سیما پاترا بی جے پی کی خواتین ونگ کی نیشنل ورکنگ کمیٹی کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔سیما پاتراکے فیس اکاؤنٹ کے پروفائل کےمطابق وہ مرکزی حکومت کی”بیٹی بچاؤ،بیٹی پڑھاؤ”مہم کی جھارکھنڈ کی کنوینر ہے۔

سوشل میڈیا پر اس واقعہ کا ویڈیو وائرل ہوا اور عوامی غم و غصہ اورتنقید کے بعد بی جے پی نے سیما پاترا کو پارٹی سےمعطل کردیا۔نیشنل کمیشن فاروومینس نےجھارکھنڈ کےپولیس سربراہ کو ایک مکتوب لکھتے ہوئے مطالبہ کیاتھا کہ اگر الزامات سچے ہیں توخاتون کوفوری گرفتارکیا جائے۔ جھارکھنڈ بی جے پی یونٹ کے صدر دیپک پرکاش نے سیما پاتراکی معطلی کے احکامات جاری کیے۔

ریٹائرڈ آئی اے ایس کی بیوی اور بی جے پی سےمعطل لیڈر سیما پاترا پر ارگورہ پولیس اسٹیشن میں آئی پی سی کی کئی دفعات سمیت ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

دلت وائس کےمصدقہ ٹوئٹر ہینڈل پر اس متاثرہ خاتون کاویڈیو ٹوئٹ کرتےہوئے لکھا گیا ہے کہ”جھارکھنڈ میں اس قبائلی خاتون کے ساتھ جو ظلم ہوا وہ انتہائی دردناک ہے،مسلسل 8 سال تک اسے قید میں رکھا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا،اس کے دانت توڑ دیے گئے اسے پیشاب دیا گیا، اسے کئی بار لوہے کی سلاخوں سے جلایا گیا "۔اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملزم کو پھانسی دی جائے۔

متاثرہ قبائلی لڑکی سنیتا کے مطابق سیماپاترا نے اسے کئی سال تک تشدد کا نشانہ بنایالیکن اسے ان حرکتوں کے پیچھے کی وجوہات یا اس نے کیا غلط کیاتھا،اس کاعلم نہیں تھا۔اس لڑکی کوخود سیما پاترا کے بیٹے آیوشمان نے بچایا تھا۔ایک دن آیوشمان نےکسی طرح موبائل فون کے ذریعہ اپنے ایک دوست وویک آنند باسکےجو کہ سرکاری ملازم ہیں کو میسیج کرکے سنیتا پر ان کی ماں کے مظالم  کی اطلاع دی اور چند تصاویربھی روانہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی طرح سنیتا کو بچالیا جائے۔اطلاع پر ارگورہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کی گئی۔اس کے بعد رانچی پولیس اور ضلع انتظامیہ کی ٹیم نےسنیتا کوسیماپاتراکے چنگل سے آزاد کروایا۔اور مفرورسیما پاترا کو آج گرفتار کرتے ہوئے عدالت میں پیش کیا جہاں سے سیما پاترا کو 14 دن کی عدالتی تحویل میں روانہ کردیا۔

اس معاملہ میں سینئرصحافی برکھادت کے ایک ٹوئٹ کو ری۔ٹوئٹ کرتے ہوئےریاست تلنگانہ کے وزیر آئی ٹی،صنعت وبلدی نظم نسق کے۔تارک راما راؤ(کے ٹی آر)نے آج اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”برکھا،مجھے اس نوجوان لڑکی کی تعلیم کے لیے اپنی ذاتی حیثیت سے حصہ دینے میں خوشی ہوگی۔براہ کرم مجھے اس کے خاندان کی تفصیلات روانہ کریں”۔

دوسری جانب گزشتہ ہفتہ اترپردیش کےمتھرا کے ریلوے اسٹیشن سے اغوا کیے گئے سات ماہ کے بچے کو پیر کے دن بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی)کے ایک مقامی لیڈر کے مکان سے برآمد کیا گیا۔جس نے مبینہ طور پر اس بچہ کو بچوں کی اسمگلنگ کےریکیٹ سے ایک لاکھ 80 ہزار روپے میں خریدا تھا۔پولیس کے مطابق بچہ 24 اگست کومتھرا ریلوے اسٹیشن کےپلیٹ فارم پر اپنی ماں کے پاس سورہا تھا جب اس کااغوا کرلیا گیا۔کئی دنوں کی تلاش کے بعد اس مغویہ بچہ کو فیروز آباد کی ایک بی جے پی کارپوریٹر ونیتا اگروال اور اس کے شوہر کرشنا مراری اگروال کے گھر سے برآمد کیا گیا۔

تفتیش کاروں نے ایک ریاکٹ کی نشاندہی کی،جس کی سربراہی ہاتھرس کے ایک ڈاکٹر جوڑا کررہا تھا۔پولیس نےکہاکہ اس ریکیٹ کے دیگر ارکان کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔اس معاملہ میں پولیس نے ڈاکٹر جوڑے پریم بہاری 38 سالہ اور اس کی بیوی دیاوتی 38سالہ کو گرفتار کرلیا۔جو ہاتھرس میں بنکی بہاری ہسپتال میں چلائےجانےوالے ایک ہسپتال کواپنے غیرقانونی کاروبار کے لیے استعمال کرتے تھے۔اور ان کے چار ساتھی دیپ کمار،پونم،منجیت اور وملیش کو بھی ان کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔اور اس بچہ چوری اور بچہ کی خریدی کے معاملہ میں فیروز آباد شہر سے بی جے پی کارپوریٹر ونیتا اگروال49 سالہ اور اس کے شوہر کرشنا مراری 51 سالہ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

"ریلوے پلیٹ فارم سے بچہ چرائے جانے کا سی سی ٹی وی ویڈیو "

گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی)کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی)محمدمشتاق نے میڈیا کو بتایا کہ بچہ پلیٹ فارم پراپنی ماں کے ساتھ سو رہا تھا جو اس معاملہ میں شکایت کنندہ تھی۔جی آر پی متھرا میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 363 کے تحت اغوا کے لیے مقدمہ درج کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے قریبی اضلاع سے جمع کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعہ دیپ کمار کی نقل و حرکت کا پتہ لگایا۔دیپ کمار کو روڈ ویز بس میں سفر کرتے ہوئے دیکھا گیا اور کنڈکٹر نے اس کی شناخت کی اور اسے گرفتار کرلیا گیا۔اس سے اس سارے معاملہ کا انکشاف ہوا اور ڈاکٹر جوڑے کا سراغ لگایا گیا جس کے بعد مغویہ بچہ کے ٹھکانے کا سراغ مل گیا۔

ایس پی نے کہا کہ چرائے گئےبچے کے لیے 1.80 لاکھ روپے میں سودے پر بات چیت ہوئی تھی اور گرفتار کیے گئے افراد سے 85,000 کی رقم برآمد کی گئی ہے۔گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی)کےسپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی)محمدمشتاق نے میڈیا کو بتایا کہ اس معاملہ کی تحقیقات کے لیے جملہ 9 ٹیمیں بنائی گئی تھیں۔انہوں نے کہااس معاملہ کی تحقیقات ہنوز جاری ہیں اور ایسے اشارے مل رہے ہیں جو ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ یہ کوئی عام معاملہ نہیں ہے اور آنے والے دنوں میں اور بھی بہت کچھ سامنے آ سکتا ہے۔

ان دونوں معاملات میں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین بی جے پی پر تنقید کررہے ہیں۔متھرا والے واقعہ پرسابق وزیراعلیٰ اترپردیش و سماج وادی پارٹی قائد اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ”بی جے پی نے بچوں کا حال اورمستقبل تو چرا ہی لیا ہے،اب کم سے کم یہ کام تو نہ کریں۔”