اسی کا شہر،وہی محتسب،وہی قاتل
ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا
مدھیہ پردیش کے کھرگون میں مکانات و دُکانات کا انہدام
پردھان منتری آواس یوجنا اسکیم کی رقم سے تعمیر مکان بھی زمین دوز
بے گھر ہوئیں حسینہ فخرو اور مقصودہ نے رو رو کر سنائی ظلم کی داستاں!!
بھوپال:14۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال سے 318 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود”کھرگون Khargone"ضلع میں اتوار کو رام نومی کے دن نکالی گئی شوبھایاترا کے دؤران زائداز 30 مکانات و دکانات میں آگ لگادی گئی تھی۔اس دؤران کم ازکم 70 خاندانوں کو اپنے گھر چھوڑکر بھاگنا پڑا تھا۔ذرائع کے مطابق تالاب چوک مسجد کے قریب تصادم اس وقت شروع ہوا جب جلوس کے دوران کچھ لوگوں نے اشتعال انگیز گانوں کی مخالفت کی۔جلوسیوں کا الزام ہے کہ مسجد سے منسلک مکانات اور دُکانات سے جلوس پر پتھراؤ کیا گیا۔جبکہ مسلمانوں کا کہناہے کہ جلوس میں سے ان کی دُکانات پر پتھراؤ ہوا!!۔اس پتھراؤ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوا تھا۔
کھرگون میں رام نومی کے جلوس کے دوران تشدد کے دوسرے دن پیر کو چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان نے کہا تھا کہ مدھیہ پردیش حکومت نے کہا تھا کہ سرکاری اور نجی املاک کو پہنچنے والے نقصان کی وصولی فسادیوں سے کی جائے گی۔
جبکہ وزیر داخلہ مدھیہ پردیش مسٹر نروتم مشرا نے پیر کے دن پریس کانفرنس میں وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ”جس گھر سے پتھر آئے ہیں وہ خود ہی پتھروں کا ڈھیر بن جائے گا”۔
پیر کے دن ہی اندور کے ڈویژنل کمشنر پون شرما نے کھرگون میں نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ اب تک 84 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان ملزمان کی 50 غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان غیر قانونی تعمیرات کی مسماری شروع ہوچکی ہے۔
اطلاعات کے مطابق شوبھایاتراکے دوران پتھراؤ کے الزام میں ان 50 مکانات اور دکانات کو پیر کے دن سے کئی جے سی بی مشینوں کے ذریعہ غیرقانونی تعمیرات قرار دیتے انہیں منہدم کردیا گیا۔ان منہدمہ عمارتوں میں زیادہ تعداد مسلم طبقہ کی بتائی گئی ہے۔
ایسے میں سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر پر ایک روتی بلکتی ضعیف مسلم خاتون کا ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے جن کا مکان بھی حکومت کی جانب سے آنِ واحد میں جے سی بی مشینوں کے ذریعہ منہدم کرکے انہیں بے گھر بنادیا گیا۔اس ضعیف خاتون کا نام "حسینہ فخرو "ہے۔
https://twitter.com/hrishikesh____/status/1514215441853427712
مدھیہ پردیش حکومت اور کھرگون کے مقامی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام مکانات اور دُکانات غیرقانونی تعمیرات تھے۔تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے سال اور اتنے مہینے حکومت کیوں سوتی رہی اور رام نومی کے دن تشدد کے واقعات کے دوسرے ہی دن ان تمام مکانات اور دکانات پر بلڈوزر کیوں چلائے گئے؟
"این ڈی ٹی وی کے صحافی انوراگ دواری کھرگون میں حسینہ فخرو کے آنسو پونچھتے ہوئے”
حکومت کی جانب سے منہدم کیے گئے حسینہ فخرو کے مکان کے متعلق جان کرآپ خود حیران رہ جائیں گے کہ یہ مکان مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی رقم سے تعمیر کیا گیا تھا۔جب عمارتیں غیرقانونی تھیں توحسینہ فخرو کو کیوں مرکزی حکومت کی اسکیم”پردھان منتری آواس یوجنا”کے تحت ریاستی حکومت نے ڈھائی لاکھ روپئے جاری کیے اور کیوں اس خاتون کومکان تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی تھی؟
میڈیا اطلاعات کے مطابق مزدور پیشہ حسینہ فخرو کو پردھان منتری آواس یوجناکےتحت ڈھائی لاکھ روپئے کی رقم ملی تھی اورخاندان نے گھر بنانے کے لیے پائی پائی کی شکل میں ایک لاکھ جمع کیے تھے۔بلڈوزروں سے رؤندے گئے اس گھر کی تعمیر 6 ماہ قبل مکمل ہوئی تھی۔
اپنے آشیانہ سے محروم حسینہ فخرو نے میڈیا کو رو رو کر بتایا کہ ان کے مکان میں کوئی مرد نہیں رہتا اور نہ ہی رام نومی کی شوبھا یاترا پر پتھراؤ سے ان کا کوئی تعلق ہے۔حسینہ فخرو نے بتایا کہ پولیس ان کے مکان میں داخل ہوئی اور لاٹھیوں پر مارتے ہوئے انہیں ان کے گھر سے باہر لایا گیا اور ان کے گھر کو جے سی بی مشین کے ذریعہ ایک جھٹکے میں منہدم کردیا گیا۔وہیں ٹوئٹر پر ایک اور ضعیف زخمی خاتون مقصودہ کا ویڈیو بھی زیر گشت ہے جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ وہ حالت روزہ میں تھیں "بہت مارا مجھے،پھر میں بیہوش ہوگئی،تم دیکھ لیتے تو رونا آتا تم کو بھی”
https://twitter.com/fake2fact/status/1514493597432774657
” دی وائر” انگریزی کی رپورٹ کے مطابق غیر قانونی تعمیرات کے نام پر مسلمانوں کی 32 دُکانات اور 16 مکانات کو بلڈوزس کی مدد سے زمین دوزکردیا گیاہے مسجد کی منہدم شدہ 12 دکانات میں ایک دکان نریندر گپتا کی بھی ہے۔اوربقول پی آر او یہ املاک "بلوائیوں”کی تھیں۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق پولیس کی جانب سے کھرگون تشدد کے بعد 33 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں جبکہ مسلمانوں کی جانب سے درج شکایات پر صرف 3 ایف آئی آر درج ہوئی ہیں!! اس طرح اس تشدد کے بعد 104 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو کہ مسلم ہیں؟!
"دی وائر” انگریزی میں ویب سائٹ پر شائع "کاشف کاکوی” کی رپورٹ کے مطابق”پولیس کے ایک ریٹائرڈ اسسٹنٹ سب انسپکٹر ناصر احمد خان (63 سالہ) مدھیہ پردیش کے کھرگون ضلع کے تاودی محلہ میں اپنی تین منزلہ عمارت سے رام نومی کے جلوس کو دیکھ رہے تھے جب تالاب چوک میں تشدد پھوٹ پڑا۔
اس سے پہلے کہ ناصراحمد خان سمجھ پاتے کہ کیا ہورہا ہے،ان کے پڑوس میں پتھراؤ شروع ہوگیاانہوں نے”دی وائر”انگریزی کو بتایا کہ” میرے پڑوسی انیل پٹیل اور گنیش ورما کی قیادت میں 50 سے زیادہ لوگوں کے ایک ہجوم نے میرے گھر پر پتھراؤ شروع کیا اور احاطے کے اندر آنے کے لیے لوہے کے گیٹ کو توڑنے کی کوشش کی۔وہ نہ صرف پتھر برسارہے تھے بلکہ فرقہ وارانہ گالیاں بھی دے رہے تھے۔
میں نے چیخ کر انیل سے پوچھا”تو کیا کررہا ہے،ہم لوگ پڑوسی ہیں”چند منٹ بعد انیل کی بیوی بھیڑ میں شامل ہو گئی۔ہجوم کومشتعل کرنے کے ارادہ سے اس نے کہا”ایک ہی مسلمان ہے گلی میں،اس کو گھر کے ساتھ جلادو”۔انہوں نے مزیدکہاکہ انیل کا تعلق دائیں بازو کے ہندو گروپ بجرنگ دل سے ہے۔
کھرگون میں پہلے شوبھایاترا کے دؤران تشدد،آگ زنی اور پھر حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائی پر نامور شاعر بشیر بدر کا مشہور زمانہ یہ شعر ذہن میں ابھرتا ہے کہ؎
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

