بہار کے کٹیہار میں رام نومی جلوس کے موقع پر غیرمسلم بھائیوں نے جامع مسجد کے سامنے انسانی زنجیر بناکر حفاظت کی

سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں
آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت

کٹیہار میں رام نومی جلوس کے موقع پر غیر مسلم بھائیوں نے
جامع مسجد کے سامنے انسانی زنجیر بناکر حفاظت کی

پٹنہ: 14۔اپریل (سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

ملک کی چند ریاستوں میں گزشتہ چند ماہ میں فرقہ پرستی اور مذہبی منافرت کا برہنہ رقص جاری ہے۔حجاب،حلال،لاؤڈ اسپیکر پر اذاں اور مسلمانوں کے دیگر امور پر روز ایک اعتراض،روز ایک نیا شوشہ!

10 اپریل کو رام نومی کے موقع پر نکالی گئیں شوبھا یاترا کے دؤران ملک کی نصف درجن ریاستوں میں مساجد کے قریب جلوسوں کوروک کر اشتعال انگیز نعرے،تلواروں کے ساتھ رقص،بھڑکاؤ اور دلآزار نغمے پتھراؤ،تشدد پھر کرفیو!! ایسے واقعات سے ملک کا ہرامن پسند شہری اب تنگ آچکا ہے کہ بس اب بہت ہوچکا!!۔

ایسے میں آج سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک انتہائی خوبصورت اور دلنشین تصویر وائرل ہوئی ہے۔جسے دیکھ کر بقول شاعر یہ اطمینان ہوتا ہے کہ "نہیں دنیا اتنی بُری نہیں” بتایا جارہا ہے کہ یہ تصویر ریاست بہار کے ” کٹیہار” کی ہے۔

جہاں رام نومی جلوس کے دؤران غیرمسلم برادران وطن کی بڑی تعداد نے پولیس کی موجودگی کے باؤجود کسی بھی ناگہانی واقعہ کو روکنے کی غرض سے جلوس کے گزرنے کے دؤران کٹیہار کی جامع مسجد کے سامنے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ کر انسانی زنجیر بناتے ہوئے اس جامع مسجد کی حفاظت کی اور ملک سمیت ساری دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ اس ملک میں بالخصوص مسلمانوں کو ہرگز خوفزدہ یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے!

اس ملک کی اصل طاقت اسی طرح کی کھلی ذہنیت اور بہترسوچ کے حامل لوگ ہیں جن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔یہی وہ لوگ ہیں جو کھل کر حق و انصاف کا پرچم بلند کرتے ہیں اور کچھ لوگ سوشل میڈیا کے ذریعہ سماج میں پھیلائی جارہی بدامنی اور منافرت کو روکنے کے لیے اپنی جانب سے پوری کوشش کرتے ہیں۔کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ نفرت قوموں کو صرف تباہی دیتی ہے۔

نامور شاعر بشیر بدر نے کبھی کہا تھا کہ ؎

سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں

آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت

یاد رہے کہ 10 اپریل کو ہی رام نومی شوبھا یاترا کے دؤران زعفرانیوں کی بھیڑ نے اسی بہار کے مظفر پور کی ایک مسجد پر زعفرانی پرچم لہرادیا تھا۔

آج کے اس دؤر میں کٹیہارکے یہ لوگ واقعی قابل ستائش ہیں جو چرن سنگھ بشر کےاس شعر کوسچ ثابت کرنےمیں مصروف ہیں کہ؎

یہ دنیا نفرتوں کے آخری اسٹیج پہ ہے

علاج اس کا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے