” پڑھی ہیں باپ کے چہرے کی جھریاں میں نے”
حیدرآباد میں سات سالہ عدنان نے اپنے تشہیری انداز سے
” پپا کی حلیم ” کو مشہور کردیا،والد کے "حلیم سنٹر” پر گاہکوں کا ہجوم
کئی اہم شخصیتوں نے کھائی حلیم،عدنان کی بھرپور ستائش
حیدرآباد: 15۔اپریل (سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
عوامی جذبات اور منفرد لب و لہجہ کے نامور شاعر معراج فیض آبادی نے کبھی کہا تھا کہ؎
مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے
واقعی ہر باپ اپنی آخری سانس تک اپنے بچوں کی فکر کرتا ہے۔جب تک اس کی صحت ساتھ دیتی ہے،اس کی ہڈیوں اور کاندھوں میں ذمہ داریوں کے بوجھ کو اٹھانے اور برداشت کرنے کی طاقت ہوتی ہے وہ بنا کسی شکوہ و شکایت کے اپنی اولاد کو دنیا کی ہر خوشی فراہم کرنے کے لیے اپنی خود کی خوشیوں اور خواہشات کو ذمہ داریوں کی صلیب پر چڑھادیتا ہے اس کے باؤجود وہ اپنی اؤلاد سے کوئی امید نہیں رکھتا کہ وہ اس کی قربانیوں کا حق ادا کریں یا پھر اس کا صلہ اسے ضرور دیا جائے۔

وہیں معاشرہ کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ کئی ایسے والدین ہیں جو اپنے بچوں کی غیرذمہ داری اور لاپرواہی سے پریشان ہیں۔چند والدین ایسے ہیں جن کے بچے جوان اور تعلیمیافتہ ہونے کے باؤجودبیروزگاری کی وجہ سے ان پر ذمہ داریوں کا مزید بوجھ ڈالےہوئے ہیں۔ تو ایسے بچے بھی ہیں جو شادی کے بعد والدین کے احسانوں کو فراموش کردیتے ہیں اور میں،میری بیوی،میرے بچوں کی سوچ تک محدود ہوجاتے ہیں۔!
یہ بات مشہور ہے کہ دنیا میں”صرف ایک ہی شخص ایسا ہوتاہے جو یہ چاہتا ہے کہ اس کے بچے اس سے زیادہ ترقی کریں اور وہ شخص باپ ہوتا ہے”!
تمام والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ان کی خواہشات پر پورا اتریں۔اؤلاد کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ جب وہ خود مختار ہوجائیں،کمانے لگیں تو اپنے والدین کی ضعیفی میں ان کا سہارا بنیں۔ان کی جھکی ہوئی کمر کے لیے "جب ایک لکڑی ان کا سہارا بن سکتی ہے تو اؤلاد کیوں نہیں؟
ایسے میں گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک ایسے معصوم و کمسن بچے کا ویڈیو وائرل ہوا ہےجس کے ذریعہ ایک سات سالہ لڑکے نے اپنی صلاحیتوں اورمعصومیت کے ذریعہ ایسا کمال کردیا کہ وہ اتنی چھوٹی عمر میں اپنے والد کا سہارا بن گیا۔اور ان کے کاروبار کو شہرت عطاکردی جو کہ یکم رمضان سے قائم اپنے حلیم سنٹر پر گاہک نہ آنے سے شدید پریشان تھے۔
اس ہونہارمحمد عدنان کا سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو دیکھ کر حیدرآباد کی کئی مشہورشخصتیں،صحافی اور یوٹبرس وسوشل میڈیا کی نامورشخصیتیں اس حلیم سنٹر پر پہنچ گئیں اور یوں ان کا کاروبار چمک اٹھا۔
حیدرآباد کے ساکن محمد الیاس پیشہ سے باورچی ہیں اور پانچ رکنی خاندان کے سربراہ ہیں۔گھر چلانے کے لیے کبھی کبھار پان شاپ بھی چلالیتے ہیں۔محمد عدنان جس کی عمر صرف سات یا آٹھ سال ہوگی!اپنے والدین سمیت دو بھائیوں اور ایک بہن پرمشتمل خاندان میں سب سے چھوٹا ہے۔
افسوس کہ 2020 میں کورونا وبا کے آغاز بعد سے اس خاندان کو بھی دیگر کی طرح معاشی مسائل کا شدید سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ان کے تینوں بچے اسی معاشی پریشانی کی وجہ سے تعلیم ترک کرچکے ہیں۔پھر بھی محمد الیاس جوں توں اپنے خاندان کی کفالت میں مصروف ہیں۔
محمد الیاس نے ماہ رمضان کے آغاز کے ساتھ بورہ بنڈہ چوراستہ پر موتی نگر،انڈیا بازار کے قریب اپنی ایک حلیم کی دکان لگائی لیکن افسوس کہ ان کے پاس یکم رمضان سے بہت کم گاہک آنے لگے لیکن محمد الیاس نے ہمت نہیں ہاری۔اسی دؤران محمد الیاس کے معصوم و کمسن فرزند محمد عدنان اس حلیم سنٹر کے قریب ایک رات خالص دکھنی زبان میں یہ کہتے ہوئے گاہکوں کو متوجہ کررہے تھے کہ
" آئیے بھائی!یہ ہمارے”پپا کی حلیم ہے چکن کی حلیم ہے” الحمدللہ،آپ کو آناہے تو آئیے،خریدیں،یہ دیکھو ہریس ہے،یہ اصلی گھی ہے،مسقطی گھی،اور یہ شیروا ہے بھئی،یہ الحمدللہ یہ ڈبے،ڈبیاں ہیں،یہ کوتمیر پودینہ ہے،یہ لیمو ہے،یہ چمچے ہیں،یہ کاجو ہے،یہ پیاز ہے تلی ہوئی،یہ غلہ ہے،یہ پاکٹاں ہیں،یہ لائٹاں بھی ہیں،دیکھو بھئی،ہمارے پپا کی حلیم ایسی رہتی ہے،آپ آتے جائیے،ہماری حلیم کو دیکھئے،آئیے،دیکھو بھئی، دیکھو بھئی! کھائیے اور مزے لیجئے،اللہ حافظ”
اس معصوم محمد عدنان کا یہ ویڈیو سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہوگیا۔اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد حیدرآباد کے مشہور و ممتاز سماجی کارکن "اظہر مخصوصی”جو کہ گزشتہ 3,675 دنوں سے بلاناغہ بے گھر اور ضرورت مند افراد کو دبیر پورہ میں”بھوک کا کوئی مذہب نہیں ہوتا” Hunger Has No Religion# کے نعرے کے ساتھ اور 2,368 دنوں سے گاندھی ہسپتال سکندرآباد کے قریب مریضوں اور ان کے تیمارداروں/رشتہ داروں کو مفت کھانا کھلانے کا ایک ریکارڈ رکھتے ہیں۔جنہیں کئی بین الاقوامی و قومی ایوارڈز حاصل ہوچکے ہیں اور انہیں اداکار امیتابھ بچن اور سلمان خان اپنے ٹی وی شوز میں مدعو کرچکے ہیں۔

اظہر مخصوصی نے محمد عدنان کے اس ویڈیو کو 12 اپریل کو اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ”اس کو بولتے باپ کا سہارا بننا”۔چھوٹو میاں ان شا اللہ کل رات 8 بجے ہم آپ کے پپا کی حلیم کھانے آرہے ہیں۔2022 کی بیسٹ رپورٹنگ،ڈبے ڈبیاں،آئی سیلوٹ یو چھوٹے میاں”۔اس ویڈیو کو ہزاروں افراد نے لائیک اور شیئر کیا۔
12 اپریل کو ہی Akai News India@ نے اپنےفیس بک اور واٹس ایپ گروپس میں محمد عدنان کا یہ ویڈیو پیش کیا تھا۔
حسب وعدہ اظہرمخصوصی سمیت 13 اپریل کی رات،صحافیوں اور یوٹیوبرس کے علاوہ دیگر شہریوں کی بڑی تعداد محمدعدنان کے والد محمد الیاس کے اس حلیم سنٹر پر پہنچ گئے۔اور اس موقع پر انہوں نے اس پورے پروگرام کو فیس بک پر لائیو پیش کردیا۔تمام کی جانب سے محمد عدنان کے اس جذبے کی زبردست ستائش کی گئی ان کی گلپوشی کرتے ہوئے حوصلہ افزائی کی گئی۔
اس موقع پر اظہرمخصوصی نے محمد عدنان کے ساتھ تمام لوگوں سے اپیل کی کہ وہ محمد عدنان کے "پپا کی حلیم” کھانے ضرور آئیں،اظہر مخصوصی نے اس موقع پر کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ اس معصوم محمد عدنان اور ان کے والد کے ویڈیوز کو شیئر کریں تاکہ ان کا کاروبار ترقی کرکے اور ان کی معاشی حالت درست ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے برانڈز کو ہم پروموٹ کرتے ہیں لیکن یہ عدنان جیسا برانڈ انمول ہے۔اس بچے کی تشہیر کریں۔
سوشل میڈیا کے ذریعہ حاصل اس تشہیر کے بعداب محمد عدنان کے والد محمدالیاس کے حلیم سنٹر جو کہ اب "پپا کی حلیم” کے نام سے مشہور ہوگیا ہے پر گاہکوں کی قطار لگ گئی ہے۔
سابق کپتان ٹیم انڈیا محمد اظہرالدین کے فرزند محمد اسد الدین اور ان کی اہلیہ محترمہ آنم مرزا جو کہ ثانیہ مرزا کی بہن ہیں بھی اس”پپا کی حلیم” سنٹر پر پہنچے اور حلیم کا لطف لیا۔معصوم عدنان سے بات کرتے ہوئے ان کی سراہنا کی۔

دوسری جانب حیدرآباد کے مشہور اداکار کو مزاحیہ فنکار شہباز خان نے بھی اپنی ٹیم کے ساتھیوں کے ساتھ محمدعدنان کے مکان پہنچ کر ان کے والد محمد الیاس سے ملاقات کی۔اس موقع پر انہوں نے اس کمسن محمد عدنان کی صلاحیتوں اور والد کی مدد کے جذبے کی جم کر ستائش کی۔
بہرحال محمد عدنان کی یہ کوشش اور جذبہ کام آگیا۔آج سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر اس کمسن لڑکے کے سینکڑوں ویڈیوز وائرل ہورہے ہیں۔جنہیں لاکھوں ناظرین نے دیکھ اور خوب ستائش کی جارہی ہے۔غیرمسلم برادران وطن کی بڑی تعداد بھی محمد عدنان نے اس "پپا کی حلیم” کھانے کے لیے بورہ بنڈہ پہنچ رہی ہے۔یہ لڑکا یقیناً قوم کے غیرذمہ دار نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہے!!۔


