پٹرول ،ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے لیے افغانستان کا بحران اور طالبان ذمہ دار : بی جے پی ایم ایل اے

پٹرول،ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے لیے افغانستان کا بحران اور طالبان ذمہ دار
کرنا ٹک کے بی جے پی ایم ایل اے اروند بیلاڈ  کا بیان

بنگلورو : 05۔ستمبر (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

ملک میں گزشتہ سات سال کے دؤران تمام اشیائے ضروریہ ،پٹرول،ڈیزل ، پکوان گیس کی قیمتوں نے 70 سالہ ریکارڈ توڑ کر رکھ دیا ہے۔پٹرول،ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتیں ایک سال کے اندر آسمان چھونے لگی ہیں،چاول،دالیں ،خوردنی تیل کی قیمتیں گزشتہ سال کی بہ نسبت اب دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی ہیں۔ بلیک مارکٹرس اور کمپنیوں پر کوئی لگام نہیں کسی جارہی ہے۔مہنگائی کی مار سے اپنے کاروبار اور روزگار و ملازمتوں سے محروم ہونے والوں کا برا حال ہے۔

دوسری جانب گودی میڈیا کے اینکر روز رات 9 بجتے ہی ٹی وی اسکرین پر مخصوص چہروں کی نصف درجن سے زیادہ کھڑکیاں کھول کر اور محفلیں سجاکر پرائم ٹائم میں اپنے گلے پھاڑ پھاڑ کر افغانستان، پاکستان، طالبان اور مسلمان پر چلانے میں مصروف ہیں۔ ان بیچاروں کو افغانستان کی خواتین اور بچوں کا غم کھائے جارہا ہے جبکہ ایک ہفتہ قبل ملک کے دارالحکومت دہلی میں رابعہ سیفی کی اجتماعی عصمت ریزی اور انتہائی سفاکی اور درندگی کے ساتھ اس کے قتل کا واقعہ نظر نہیں آرہا ہے!!

شاید اسی کو چراغ تلے اندھیرا کہا جاتا ہے کہ اپنے ملک کے عوام مہنگائی کی چکّی میں پِس رہے ہیں اورانہیں کسی اور ملک کے عوام کی فکر لاحق ہے!

گزشتہ دنوں تو ایک نیوز چینل کے گودی میڈیا کا اینکر باقاعدہ ایک بورڈ اور مارکر کے ذریعہ اپنے ناظرین کو سمجھارہا تھا کہ یوپی اے حکومت میں پکوان گیس سیلنڈر کی قیمت کیا ہوا کرتی تھی اور آج این ڈی اے حکومت میں کیا قیمت ہے اس طرح اس نے ثابت کردیا کہ پکوان گیس کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے!! جبکہ عوام واقف ہیں کہ صرف ایک سال میں پکوان گیس سیلنڈر کی قیمت میں زائداز 300 روپئے کا اضافہ ہوا ہے۔

جب بھی برسر اقتدار جماعت یا گودی میڈیا سے اس مہنگائی کے متعلق سوال کیا جاتا ہے تو جواب ایسے دئیے جاتے ہیں کہ جیسے ہم ابھی بھی پتھر کے دؤر میں جی رہے ہیں یا پھر ان کے جواب سن کربے اختیار اپنا سر کھجانا لازمی ہوجاتا ہے!!

اسی دؤران کرناٹک کے بی جے پی ایم ایل اے اروند بلاڈ سے دو دن قبل میڈیا نے بڑھتی مہنگائی کے متعلق پوچھا تو ان کا جواب تھا کہ اس کے لیے افغانستان میں جاری بحران اور طالبان ذمہ دار ہیں!!

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے بحران کی وجہ سے خام تیل کی فراہمی میں کمی آئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پکوان گیس، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

2013 سے مغربی ہبلی۔دھارواڑ سے ایم ایل اے منتخب ہوتے آرہے اروند ملاڈ جو کہ کرناٹک میں جاری بلدیہ کے انتخابات کی مہم میں مصروف ہیں نے کہا کہ ووٹر قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کو سمجھنے کے لیے کافی سمجھدار ہیں۔

یہ وہی ایم ایل اے موصوف ہیں جنہیں سمجھا جارہا تھا کہ کرناٹک میں حالیہ تبدیلی کے وقت سابق چیف منسٹر بی ایس ایڈی یورپا کے مقام پر انہیں کرناٹک کا چیف منسٹر بنایا جائے گا!!

یاد رہے کہ ہندوستان خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے لیکن افغانستان سے خام تیل نہیں خریدا جاتا صرف ڈرائی فروٹس،مسالحے اور دیگر اشیاء خریدی جاتی ہیں۔

خبررساں ایجنسی رائٹرس کے مطابق جولائی 2021 تک بھارت کو خام تیل فروخت کرنے والے سرفہرست 6 ممالک عراق،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات ، نائیجیریا ، امریکہ اور کینیڈا ہیں۔

گزشتہ ماہ مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتا رامن نے پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کو یوپی اے حکومت میں جاری کردہ آئیل بانڈس کے سود کی ادائیگی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اپنا پلہ جھاڑ لیا تھا۔

جس پر راہل گاندھی نے الزام لگایا تھا کہ مودی حکومت نے سات سالوں کے دوران پٹرولیم اشیاء سے 23 لاکھ کروڑ سے زیادہ کمائے ہیں اور بی جے پی اقتدار میں ہے۔راہول گاندھی نے کہا تھا کہ این ڈی اے دؤر اقتدار میں پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں 42 فیصد اورڈیزل کی قیمتوں میں 55 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ملک میں اشیائے ضروریہ ،پٹرول ، ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں سے عوام کا برا حال ہے ایسے میں بی جے پی قائدین کے بیانات نمک پاشی کے مترادف ہی قرار دئیے جاسکتے ہیں۔

کیوں کہ مدھیہ پردیش بی جے پی صدر کتنی ضلع ،مدھیہ پردیش رام رتن پائل نے 20 اگست کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مہنگائی کے سوال پر ایک صحافی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ طالبان والے افغانستان چلے جائیں جہاں پٹرول 50 روپئے فی لیتر ہے! 

یاد رہے کہ 18 اگست کو بہار اسمبلی کے بی جے پی رکن ہربھوشن ٹھاکر بچول بھی پٹنہ میں اسی قسم کا بیان دے چکے ہیں کہ جو کوئی اس ملک میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتا وہ طالبان والے افغانستان چلا جائے جہاں پٹرول اور ڈیزل بھی سستا ہے۔

اس سے قبل یکم اگست کواس مہنگائی کے سوال پر مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ نے تو پریس کانفرنس میں تمام گودی میڈیا کو چت کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ مہنگائی اور ملک کی کمزور معیشت کے اصل ذمہ دار اس ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہروہیں۔

مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ نے دو قدم آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ جواہر لال نہرو نے 15 اگست 1947ء کو لال قلعہ کی فصیل سے جوخطاب کیا تھا اس خطاب کی غلطی کی وجہ سے ملک کی معیشت بگڑی ہےاور مہنگائی زیادہ ہوئی ہے۔

مدھیہ پردیش کے وزیر موصوف کا ویڈیو اور مکمل تفصیلات کے لیے اس لنک کو کلک کریں: 👇

جواہر لال نہرو نے 15 اگست 1947ء کو لال قلعہ سے جو خطاب کیا تھا اس کی وجہ سے آج مہنگائی بڑھی اور معیشت بگڑی ہے