بازار میں گھوم کر مِڈ ڈے میل کے خالی تھیلے فروخت کرنے والے ٹیچر تمیزالدین خدمات سے برطرف
ٹیچر نے کہا کہ سرکاری احکام تھے،انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹیچر نے حکومت اور انتظامیہ کی شبیہ خراب کی ہے!
نئی دہلی/پٹنہ:10۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ریاست بہارکے کٹیہارضلع میں ایک سرکاری ٹیچر کی جانب سے مِڈ ڈے میل (دوپہر کا کھانا) کے اناج کے خالی تھیلوں کو بازار میں ایک بیوپاری کی طرح گھوم پھر کر آواز لگاتے ہوئے فروخت کرنے والا ویڈیو سامنے آیا ہے۔
جس کے بعد حکومت بہار کے انتظامیہ نے اس سرکاری اسکول کے ٹیچر کو خدمات سے برطرف کردیا ہے۔
وہیں این ڈی ٹی وی کی خبر میں بتایا گیا ہے کہ مڈ ڈے میل کے تحت تعلیمی سال 2015-2014، اور2016-2015ء میں اسکول کو حاصل شدہ چاول کے خالی تھیلوں کو فروخت کرنے کی اس ٹیچر کو انتظامیہ نے خود ہدایت جاری کی تھی اور یہی وجہ تھی کہ سرکاری ٹیچر ان خالی تھیلوں کو بازار میں گھوم پھرکر اور آواز لگاتے ہوئے فروخت کرنے پر مجبور ہوئے تھے!!

کٹیہار ضلع کے کدوا سونیلی بازار جو کہ بہار کے نائب وزیراعلیٰ تارکشور پرساد کے آبائی ضلع کے کدوا اسمبلی حلقہ کا حصہ ہے میں منظر عام پر آنے والا یہ انوکھا اور ساتھ ہی افسوسناک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے کہ ایک مقدس پیشہ سے وابستہ شخص بازار میں گھوم پھر کر تھیلے فروخت کرنے پر مجبور ہے!!
اس سارے واقعہ کی تفصیلات کے مطابق محمد تمیز الدین جو کہ سرکاری اسکول کے ٹیچر بتائے جاتے ہیں اورجن کا ویڈیو وائرل ہوا ہے میں نظر آرہا ہے کہ وہ اپنے گلے میں ایک بیانر لٹکائے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر اناج کے خالی تھیلےاُ ٹھائے ہوئے ہیں اور ان کے بائیں ہاتھ میں بھی ایک کمپیوٹر سے تحریر کردہ ہندی میں لکھا ہوا بیانر ہے جن پر لکھا ہوا ہے کہ ” میں بہار کے سرکاری اسکول کا ٹیچر ہوں،اور سرکارکے حکم پر یہ خالی تھیلے بیچ رہا ہوں”! جبکہ ہاتھ میں موجود بیانر پر لکھا ہوا ہے کہ ” تھیلا لے لو تھیلا،دس روپئے میں ایم ڈی ایم کا تھیلا”
ٹوئٹر پر پوسٹ کردہ ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح ایک سرکاری ٹیچر بازار میں آواز لگاتے ہوئے تھیلے فروخت کررہے ہیں!
ساتھ ہی ٹیچر محمد تمیز الدین ہندی اور بھوجپوری زبانوں میں آواز بھی لگارہے ہیں کہ ” چچا جی ہم ماسٹر ہیں،” چچا تھیلا لے لو تھیلا،مضبوط تھیلا،سرکار کا تھیلا” ، "،چچا میرا تھیلا نہیں بکے گا تو میری تنخواہ رُک جائے گی ” ” ایک تھیلا خرید لیجئے چچا پلیز ، دکاندا ر بھائی تھیلا لے لو ” !
اس ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سرکاری انتظامیہ نے ٹیچر محمد تمیز الدین پر محکمہ کے احکام کی خلاف ورزی کرنے،حکومت اور انتظامیہ کی شبیہ خراب کرنےکے ساتھ ساتھ مختلف الزامات کے تحت کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے برطرف کردیا ہے۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ بناء کسی سرکاری حکم کے کس طرح ٹیچر محمد تمیز الدین اپنی جانب سے اس طرح بازار میں گھوم کر سرکاری تھیلے فروخت کرسکتے ہیں؟!
کیونکہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دؤر میں کچھ بھی چھپانا ناممکن ہے۔
ایک ٹوئٹر صارف ٹھاکر شکتی لوچن شنڈلیا نے اس ٹیچر کی جانب سے تھیلے فروخت کیے جانے کے دؤران ان کا ویڈیو لے کر ٹوئٹر پر پوسٹ کیا ہے اور ٹیچر کو خود احساس ہے کہ ان کا ویڈیو بنایا جارہا ہے!!
بہر حال یہ ایک تحقیق طلب معاملہ ہے جس کی تحقیقات کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آئیں گے !!

