وقارآباد ضلع میں شدید ژالہ باری، ہواوں اور بارش سے
ہزاروں ایکڑ اراضی پر بشمول آم دیگر فصلیں تباہ، کسان پریشان
وقارآباد : 19۔مارچ
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ نمائندہ خصوصی)
ریاست تلنگانہ کے وقارآباد ضلع میں موجود اسمبلی حلقہ جات وقارآباد، تانڈور، پرگی اور کوڑنگل میں گزشتہ تین دنوں سےوقفہ وقفہ سے جاری شدید ژالہ باری، گرج و چمک اور تیز ہواوں کے ساتھ ہونے والی بارش کے باعث ضلع کے مختلف مقامات بالخصوص پوڈور منڈل کے منے گوڑہ، اینکے پلی، مرپلی اور مومن پیٹ میں موجود آم کے باغات میں آم کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
یاد رہےکہ حیدرآباد سے 70 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود منے گوڑہ مختلف اقسام کے آموں کی کاشت کے لیے ریاست اور ملک بھر میں مشہور ہے اور یہاں بڑی تعداد میں آم کے باغات پائے جاتے ہیں۔آم کی فصل اس ماہ کے اختتام تک بازاروں میں فروخت کےلیے روانہ کی جانی ہے۔ آم کے تاجر محمد رفیع نے بتایا کہ گذشتہ تین دنوں سے ہو رہی بارش اور ژالہ باری کی وجہ سے آم کی فصل کو شدید نقصان ہوا ہے۔ طوفانی ہواؤں کی وجہ سے آم ٹوٹ کر زمین پر گر گئے ہیں۔جو آم درخت پر موجود ہیں وہ ژالہ باری کی وجہ سے خراب ہو رہے ہیں۔ اگر اسی طرح غیرموسمی بارش کا سلسلہ جاری رہا تو آم کی فصل پر لگائی ہوئی لاگت کا حاصل ہونا بھی مشکل ہوجائے گا۔
موضع ایراولی کے ریڈی نامی کسان نے بتایاکہ وہ اس نے اپنے کھیت میں ٹماٹر کی کاشت کی تھی لیکن غیرموسمی بارش کی وجہ سے پوری فصل خراب ہوچکی ہے۔اسی طرح ضلع وقارآباد میں مختلف ترکاریوں،جوار،مکئی اور دیگر فصلیں بھی برباد ہوئی ہیں۔ فصلوں کی تباہی سے کسان شدید پریشان ہیں متاثرہ کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فصلوں کے نقصان کا معاوضہ دیا جائے۔
https://www.facebook.com/khanyahiya276/videos/631724675448608
ریاستی وزرا سبیتا اندرا ریڈی اور نرنجن ریڈی کی ہدایت کے بعد محکمہ زراعت کے عہدیدار ضلع میں ہونے والے فصلوں کے نقصانات کا تخمینہ لگانے میں مصروف ہیں۔
وقارآباد ضلع میں گزشتہ تین دنوں سے گرج اور چمک کے ساتھ زبردست بارش اور ژالہ باری ریکارڈ کی جارہی ہے۔جمعہ کی صبح سے کل ہفتہ کی صبح تک ضلع میں 240 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔گزشتہ رات بھی دو بجے سے وقارآباد اور تانڈور کے علاوہ دیگر مقامات پر دھواں دھار بارش ہوئی۔وہیں آج دن میں موسم خشک رہا۔
یاد رہے کہ 16 مارچ کی دوپہر وقارآبادضلع کے مرپلی منڈل مستقر اور اس کےمواضعات میں ایک گھنٹہ تک شدید ژالہ باری ہوئی تھی،جس کےبعد یہ علاقہ کشمیر جیسا منظر پیش کررہا تھا۔جہاں ہر طرف برف ہی برف نظر آرہی تھی۔یہ واقعہ قومی میڈیا کی سرخیوں میں بھی رہا اور اسکے ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہوئے۔اسی رات دوبارہ مرپلی منڈل، وقارآباد اور تانڈور میں گرج و چمک کے ساتھ ژالہ باری اور شدید بارش ہوئی۔

ژالہ باری کے دوسرے دن ریاستی وزیرتعلیم مسز پی۔سبیتا اندرا ریڈی اور وزیر زراعت نرنجن ریڈی،چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراو کی ہدایت پر بذریعہ ہیلی کاپٹر مرپلی پہنچے اور کھیتوں میں پہنچ کر تباہ شدہ فصلوں اور گرے ہوئے اولوں کا مشاہد ہ کرتے حیرت اور افسوس کا اظہار کیا۔
اس موقع پر دونوں وزرا نے کہاکہ حکومت ان متاثرہ کسانوں کی مدد کرےگی اور ضلع کلکٹر وقارآباد نارائن ریڈی کو ہدایت دی کہ اندرون دو یوم ژالہ باری اور بارش سے تباہ ہونے والی فصلوں کے نقصانات کا جائزہ لیتے ہوئے تفصیلی رپورٹ روانہ کی جائے۔

” مرپلی میں ہونے والی شدید ترین ژالہ باری اور اس کے بعد کے مناظر پرمشتمل ویڈیوز کے ساتھ تفصیلی رپورٹ "

