اُڑپی ضلع کے ایک اور کالج میں حجاب پہن کر آنے والی طالبات کو گیٹ پر ہی روک دیا گیا

اُڑپی ضلع کے ایک اور کالج میں حجاب پہن کر آنے والی طالبات کو گیٹ پر ہی روک دیا گیا
لڑکوں نے کل زعفرانی کھنڈوا پہن کر احتجاج کیا تھا،آج پرنسپل نے خود گیٹ بند کردیا
حجاب پہننے پر بضد لڑکیوں کو لات مارکر اسکولوں سے نکالاجائے : پرمود متالک کا بیان

اُڑپی: 03۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

جنوبی کرناٹک کے اُڑپی ضلع کے کنڈا پور ایک اور کالج میں آج حجاب(اسکارف) اور برقعہ پہن کر کالج آنے والی مسلم طالبات کو گیٹ پر ہی کالج میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

یاد رہے کہ 28 ڈسمبر 2021ء کو اُڑپی کے ہی ایک گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج (پی یو کالج) میں 6 مسلم طالبات کو حجاب پہن کر کالج آنے پر روک دیا گیا تھا تاہم وہ اسے اپنا دستوری حق قرار دیتے ہوئے بدستور کالج پہنچتی رہیں لیکن انہیں کلاس روم میں داخلہ سےروک دیا گیا۔زائد از دیڑھ ماہ لڑکیاں روز کالج پہنچتی رہیں۔کرناٹک حکومت جہاں بی جے پی برسراقتدار ہے نے کوئی مداخلت نہیں کی اور نہ ہی کالج انتظامیہ نے اپنے سخت رویہ میں کمی کی۔وہیں یہ 6 مسلم طالبات بھی بدستور اپنی دستوری لڑائی لڑتی رہیں۔

بعدازاں 31 جنوری کو ان طالبات میں شامل ایک طالبہ کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع ہوئی ہیں۔اس مسلم طالبہ کی جانب سے ایک رٹ پٹیشن داخل کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ انہیں حجاب پہن کرتعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جائے جو کہ ان کی مذہبی شناخت ہے۔اس رٹ پٹیشن میں طالبہ نے ہائی کورٹ سے کہا ہے کہ دستور کی دفعات 14 اور 25 نے انہیں اس کی دستوری ضمانت بھی دی گئی ہے۔

کرناٹک ہائی کورٹ میں اس مسلم طالبہ کی یہ عرضی ایڈوکیٹ شتھابیش شیوانا،ارناو اے باگلواڑی اور ابھیشیک جناردھن کے ذریعہ دائر کی گئی ہے۔

قبل ازیں اس سلسلہ میں 31 جنوری کو ہی مقامی رکن اسمبلی رگھوپتی بھٹ نے اُڑپی کے اس گورنمنٹ گرلز پری یونیورسٹی کالج میں ایک میٹنگ کے بعد کہا تھا کہ جو طالبات حجاب پہن کر کلاس روم میں داخل ہونے کی ضد کررہی ہیں وہ کالج تبھی آئیں جب وہ بنا حجاب کے کالج آئیں ورنہ اس طرح روز کالج آکر اپنا تعلیمی سال برباد نہ کریں۔

اُڑپی کے اس گورنمنٹ گرلز کالج میں چند زعفرانی تنظیموں کی باقاعدہ حجاب کے خلاف مہم کا آغاز کرتے ہوئے کالج کی غیرمسلم لڑکیوں نے بھی زعفرانی رنگ کی اوڑھنیاں پہن کر کالج آنا شروع کردیا تھا۔ان کا مطالبہ تھا کہ جب مسلم لڑکیوں کو حجاب پہننے کی اجازت ہے تو پھر یہ کیوں زعفرانی رنگ کا کھنڈوا اپنے گلوں میں ڈال کر کالج نہیں آسکتیں؟ جس کے بعد اس کالج میں مسلم لڑکیوں کے اسکارف پہننے پر پابندی کا کالج انتظامیہ حکم صادر کیا تھا۔

یہ معاملہ ابھی تازہ ہی تھا کہ کل 2 فروری کو کرناٹک کے اڑپی ضلع کے ہی کنڈا پور کے سرکاری پی یو کالج کے لڑکے(طلبا) مسلم طالبات کی جانب سے حجاب پہن کر کالج آنے کے خلاف اپنے گلوں میں زعفرانی کھنڈوا پہن کر کالج  پہنچے اور احتجاج کیا کہ حکومت کے احکام کے باوجود یہ مسلم لڑکیاں کیوں اسکارف پہن کر کالج آرہی ہیں؟

” کل کنڈا پور میں زعفرانی کھنڈوا پہنچ کر کالج پہنچے لڑکے ” 

کل کے اس احتجاج کے بعد آج کنڈا پور کے اس گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج (پی یو کالج) میں اسکارف اور برقعہ پہن کر کالج آنے والی مسلم طالبات کو کالج میں داخل ہونے نہیں دیا گیا انہیں کالج کے گیٹ پر ہی روک دیا گیا۔

سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر پر وائرل اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کالج کے گیٹ پر کھڑے ہو کر کالج کے پرنسپل رام کرشنا نےخود ان طالبات کو روک دیا اور ان سے کہا کہ اگر وہ کلاس رومز کے اندر ہیڈ اسکارف پہننا چاہتی ہیں تو کلاس میں نہ جائیں۔

https://twitter.com/rabiasyed97/status/1489133906775670785

جرنلسٹ”رابعہ شیریں Rabia Shireen@”نے ٹوئٹر پر ان ویڈیوز کو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”یہ مسلم طالبات رو رو کر پرنسپل سے درخواست کررہی ہیں کہ انہیں کلاس میں جانے کی اجازت دی جائے اور ان کامستقبل خراب نہ کیا جائے کیونکہ امتحان صرف 2 ماہ میں ہونے ہیں”۔

 

جرنلسٹ رابعہ شیریں نے ان طالبات کی ایک تصویر جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کالج میں داخل ہونے سے روک دی گئیں طالبات کالج کے باہر پڑھائی میں مصروف ہیں کو ٹوئٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”گورنمنٹ کالج کی ایک طالبہ نے مجھ سے کہا” جب ان کے بچوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے تو کیا وہ بھی ایسا ہی کریں گے؟وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کے بچے ہیں لیکن ہمارے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں کرتے۔ان میں کوئی رحم نہیں،انسانیت نہیں ہے۔”

دوسری جانب ایک اور جرنلسٹ”عمران خان Imran Khan@ نے آج بعد دوپہر اپنے ٹوئٹ کے ساتھ کنڈاپور کالج کی طالبات کا ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”حجاب کا معاملہ جو آج سماعت کے لیے آیا تھا اس معاملہ کو کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل تک ملتوی کر دیا ہے۔ دریں اثناء کنڈا پورہ کالج، اُڑپی کے طلباء اس فیصلہ کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں کہ کوئی ہدایت ملے اور اپنی پڑھائی دوبارہ شروع کر دی جائے۔جنہیں آج ہی پرنسپل نے خود ان پر کالج کے دروازے بند کر دئیے”۔

اسی دؤران کل کرناٹک کے ہبلی میں صدر سری رام سینا پرمود متالک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئےحجاب پہن کر اسکولوں کو آنے پر بضد مسلم طالبات کی ذہنیت کو دہشت گردانہ قرار دیتے ہوئے انہیں اسکولوں سے لات مارکر نکال دینے کا مشورہ دیا ہے۔

پرمود متالک جو کہ فرقہ وارانہ بیانات اور اقدامات کے لیے اپنی ایک مخصوص پہچان رکھتے ہیں نے چار قدم آگے بڑھ کر کہا کہ یہ لوگ آج حجاب کی بات کریں گے،اس کے بعد برقعہ پہن کر اسکولوں اور کالجوں کو آئیں گے پھر نماز اور مساجد کے قیامکی باتیں کریں گے۔

پرمود متالک نے سوال کیا کہ کیا یہ لوگ بھارت کو پاکستان یا افغانستان بنانا چاہتے ہیں؟ ساتھ ہی انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر حجاب یا برقعہ پہننا ہے تو پھر پاکستان چلے جاؤ!!