آندھرا پردیش میں بارش اور سیلاب کا قہر، 70سے زائد افراد بہہ گئے
دس افراد ہلاک، ندی میں دو بسیں پھنس گئیں، کڈپہ اور چتور شدید متاثر
آندھراپردیش:19۔نومبر(سحر نیوزڈاٹ کام)
خلیج بنگال میں ہوا کے دباؤ میں زبردست کمی سے اٹھنے والا طوفان آج صبح ساحل سمندر کو پار کر گیا جس کے باعث پڑوسی تلگو ریاست آندھرا پردیش شدید بارش اور سیلاب کی بھیانک لپیٹ میں ہے۔

رائلسیما کا علاقہ اس بارش سے شدید متاثر ہوا ہے۔مندروں کے شہر تروپتی میں شدید بارش اور سیلاب سے شدید نقصانات ہوئے ہیں تروپتی کی وینکٹیشورا مندر میں بھگتوں کے لیے درشن کو دو دنوں کے لیے روک دیا گیا ہے۔اس مندر کو جانے والے گھاٹ پر13مقامات پر مٹی کے تودے ٹوٹ کر گرگئے ہیں اور سیلابی پانی ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔
ریاست کے اضلاع چتور،کڈپہ،اننت پور اور نیلورمیں شدید بارش ریکارڈ کی گئی اور کئی مقامات پر سیلاب جیسی صورت حال ہے اور محکمہ موسمیات نے ان اضلاع میں مزید شدید ترین بارش کی پیش قیاسی کی ہے۔
ان اضلاع میں ندیاں،نالے اور ذخائر آب لبریز ہوکر اپنی سطح سے اوپر بہہ رہے ہیں۔کئی علاقے کے عوام پانی میں محصورہوگئے ہیں جبکہ نشیبی علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کو خصوصی کیمپ میں منتقل کیا گیاہے۔اننت پور ضلع کے بوکا پٹنم میں سیلاب میں پھنسے ہوئے 11 افراد کو انڈین ایرفورس کے ہیلی کاپٹر سے بحفاظت نکال لیا گیا۔
کڈپہ ضلع کے راما پورم کے قریب چیئرو ندی کے سیلابی پانی میں دو آرٹی سی بسوں کے پھنس جانے کے باعث تین مسافرین کو موت واقع ہوئی ہے جن میں ایک بس کا کنڈاکٹر بھی شامل ہے۔بعدازاں بچاؤ ٹیم نے مکمل طور پر ندی کے پانی میں پھنس چکیں ان دونوں بسوں کے مسافرین کو بحفاظت باہر نکال لیا۔
وہیں کڈپہ ضلع کے ہی پلا پتور کی مندر میں درشن کی غرض سے پہنچ کر پھنس گئے 30 افراد سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں۔جو کہ لاپتہ ہیں ان کی تلاش کے لیے ایرفورس اور ہیلی کاپٹر کی مددلی گئی ہے۔
اسی طرح کڈپہ ضلع کے ہی انامیا پراجکٹ کا پشتہ ٹوٹ جانے کے باعث قریبی مواضعات گنڈلور،شیشامامباپورم اورمنداپلی زیر آب آگئے ہیں۔جبکہ چیئر ندی کا سیلابی پانی نندالوراور راجم پیٹ میں داخل ہوگیا ہے جہاں بتایا جارہا ہے کہ اس سیلابی پانی میں 40 افراد بہہ گئے ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔کڈپہ ضلع میں شدید بارش کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق اس بارش کے دؤران چتورضلع میں پانچ افراد کی موت ہوئی ہے جہاں 543 مواضعات سیلابی پانی میں محصور ہوگئے ہیں اور 700 مواضعات سے سڑک رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔وہیں 1221 مواضعات میں برقی سربراہی منقطع ہے۔چتور ضلع میں 160 تالابوں کے پشتے ٹوٹ گئے ہیں۔اور 70 مقامات پر سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جس سے 250 کلومیٹر تک سڑکیں پانی میں بہہ گئی ہیں۔

ان اضلاع میں شدید بارش کے بعد اضلاع پرکاشم ،گنٹور، کرشنا کے ساحلی علاقوںکے علاوہ وشاکھا پٹنم ،وجئے نگرم میں موسلادھار بارش ہورہی ہے۔اسی دؤران آج شام دستیاب اطلاع کے مطابق پالارو میں سیلابی پانی کا زور بہت زیادہ ہوگیا ہے جس میں ایک عمارت بہہ گئی ہے جبکہ کئی مواضعات میں پانی داخل ہوگیا ہے جہاں این ڈی آر ایف کی ٹیمیں بچاؤ کاموں میں مصروف ہے۔
چیف منسٹر آندھراپردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی نے ایک اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے بارش کی تباکاریوں کا جائزہ لیا۔بارش اور سیلاب میں مرنے والوں کے افراد خاندان کو فی کس پانچ لاکھ روپئے ایکس گریشیا کا اعلان کیا۔

چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے اضلاع نیلور، پرکاشم ، چتور،اننت پور اور کڈپہ کے ضلع کلکٹران سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ بات کی اور انہیں ہدایت دی کہ ان اضلاع میں بارش کے نقصانات کا جائزہ لیتے ہوئے مکمل رپورٹ حکومت کو دیں۔عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے والے کال سنٹرس قائم کرنے کی ہدایت دی۔

