جب سابق چیف منسٹر آندھرا پردیش وتلگودیشم سپریمو چندرا بابو نائیڈو
پریس کانفرنس میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے
وائی ایس آر پارٹی پر اہانت آمیز برتاؤ کا الزام
آندھرا پردیش/امراوتی :19۔نومبر(سحر نیوزڈاٹ کام)
سابق چیف منسٹر متحدہ ریاست آندھراپردیش و تلگودیشم پارٹی سپریمو چندرا بابو نائیڈو کے صبر کا آج باندھ ٹوٹ گیا اور انہوں نے ان کے اور ان کے افراد خاندان کے ساتھ کیے جارہے برتاؤ پرمنگل گیری کے پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس کے دؤران پھوٹ پھوٹ کر روپڑے

71 سالہ سینئر سیاستداں چندرا بابو نائیڈو جو کہ 1995 تا 2004 دومرتبہ 8 سال 255 دنوں تک متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے چیف منسٹر رہ چکے ہیں۔جبکہ 2014 میں ریاست کی تقسیم کے بعد 2014 سے 2019 تک ریاست آندھراپردیش کے چیف منسٹر بھی رہے ہیں۔وہیں 2004 تا 2014 متحدہ ریاست آندھر اپردیش کی اسمبلی میں اپوزیشن کا عہدہ بھی سنبھال چکے ہیں۔تاہم 2019 کے انتخابات میں شکست کے بعد سے وہ ریاست آندھراپردیش کی اسمبلی میں قائد اپوزیشن ہیں۔
جبکہ چندرابابو نائیڈو چتور کے اسمبلی حلقہ کپم سے 1989سے 2019کے اسمبلی انتخابات تک متواتر سات مرتبہ بحیثیت رکن اسمبلی منتخب ہوتے آئے ہیں۔
قبل ازیں چندرا بابو نائیڈو اسمبلی میں برسراقتدار وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے خلاف برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسمبلی سے یہ کہتے ہوئے باہر نکل آئے کہ جب تک وہ دوبارہ چیف منسٹر کا عہدہ حاصل نہیں کریں آندھراپردیش اسمبلی میں قدم نہیں رکھیں گے۔
بعدازاں پریس کانفرنس میں چندرا بابو نائیڈو یہ کہتے ہوئے زار وقطار روپڑے کہ وائی ایس جگن موہن ریڈی کی پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گزشتہ دو سال سے ان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کیا گیا ہے اور گزشتہ سال دو سال سے ان کے خلاف مختلف الزامات کے ذریعہ گالی گلوچ تک کرتے ہوئے ان کی بے عزتی کی جارہی ہے۔
روتے روتے نڈھال ہوچکے چندرا بابو نائیڈو بات کرنے کے موقف میں بھی نہیں تھے۔بعدازاں انہوں نے دوبارہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ برسراقتدار وائی ایس آر کانگریس پارٹی اپوزیشن کی ہر جگہ بے عزتی کرنے میں مصروف ہے۔
ان پر شخصی حملے بھی کیے جارہے ہیں اور اس دوران انہوں نے بارہا مرتبہ بے عزتی برداشت کی ہے۔اب ان کی اہلیہ کی بھی بے عزتی کی جارہی ہے جبکہ ان کی اہلیہ کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن ان کی بھی کردار کشی کی جارہی ہے۔
چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ ان کی طویل سیاسی زندگی میں کبھی بھی انہیں اس طرح کے ہتک آمیز برتاؤ کا سامنا کرنا نہیں پڑا تھا جیسا کہ اب کرنا پڑرہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ 38 سال سے اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت آرہے ہیں اور کبھی بھی انہوں نے اپوزیشن قائدین کے ساتھ اہانت آمیز برتاو نہیں کیا۔
دوسری جانب اسمبلی میں چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے بیان دیا ہے کہ وہ اس وقت اسمبلی اجلاس میں موجود نہیں تھے بارش کی صورت حال پر ضلع کلکٹران کے ساتھ اجلاس میں تھے۔
جگن موہن ریڈی نے کہا کہ اسمبلی میں کسی نے بھی چندرا بابو نائیڈو کے افراد خاندان کے تعلق سے بات نہیں کی بلکہ چندرا بابو نائیڈو نے خود ان کے چاچا اور بہن کے متعلق بات کی۔اور جب وہ اسمبلی میں پہنچے تو چندرابابو نائیڈو جذباتی خطاب کررہے تھے۔وائی ایس جگن موہن ریڈی نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو مایوسی کا شکار ہیں۔

