دو مسلم نوجوانوں کو زدوکوب کے بعد گاڑی کے ساتھ زندہ جلادینے کا معاملہ:
ہریانہ پولیس نے ناصر اور جنید کو زخمی حالت میں تحویل میں لینے سے کیا تھا انکار
ملزم رنکو سینی کا راجستھان پولیس کی تفتیش میں سنسنی خیز انکشاف،بیرسٹر اویسی کی شدید تنقید
جئے پور: 19۔فروری
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)
ریاست ہریانہ کےبھیوانی میں جمعرات کو ایک جلی ہوئی بولیرو گاڑی سے دو جلے ہوئے جسموں کی باقیات برآمد ہوئی تھیں۔اس گاڑی کے انجن/ چیسی کے نمبر کو اسی دن راجستھان کےبھرت پور میں درج شدہ لاپتہ افراد کی ایف آئی آر سے جوڑا گیا تھا۔جس کے بعد ہریانہ اور راجستھان دونوں ریاستوں کی پولیس اس معاملے کی تحقیقات میں مصروف تھیں۔
بعدازاں راجستھان پولیس نے ایک ٹیم کو ہریانہ بھیجا تا کہ اس واقعہ کی تفصیلات کی تصدیق کی جا سکے۔جلی ہوئی بولیرو گاڑی اور اس میں دو انسانی باقیات ریاست ہریانہ کے بھیوانی کے لوہارو تھانہ علاقے کےتحت برواس گاؤں کےقریب پائی گئی تھیں۔مقامی لوگوں نے پولیس کو مطلع کیا اور پولیس کے ساتھ فارنسک ٹیم بھی جائے مقام پر پہنچ گئی تھی۔
جس کے بعدمہلوکین کی شناخت راجستھان کےموضع گھاٹ میکا،بھرت پورضلع کےساکن ناصر 25 سالہ اور جنید (عرف جونا) 35 سالہ کی حیثیت سے ہوئی تھی۔اور اندیشہ جتایا گیاتھا کہ ناصر اور جنید کو پہلے شدید زدو کوب کر کے زخمی کیا گیا پھر ان دونوں کوان کی بولیرو گاڑی میں رسیوں سے باندھ کر پٹرول چھڑک کر زندہ نذر آتش کیا گیا تھا۔!!
اس معاملہ میں راجستھان پولیس نے ایک کیس درج رجسٹر کرتے ہوئے پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیااور ان میں سے ایک رنکو سینی کو جمعہ کی رات گرفتار کرتےہوئے راجستھان منتقل کیا۔ان پانچوں کی گینگ کے اصل سرغنہ رنکو سینی اور مونو مانیسربتائے گئے ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ خود کو گاؤ رکھشک کہتے ہیں،لاٹھیوں اور بندوقوں کے ساتھ یہ کھلے عام گائےکے نام پر غنڈہ گردی میں مصروف ہیں۔!!ان کےخلاف ماضی میں کئی مجرمانہ ریکارڈ کی بھی اطلاع ہے اور بی جے پی کےکئی قائدین کےساتھ لی گئیں ان کی تصاویر اب سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔!!
اسی دؤران میڈیا نے راجستھان پولیس کے ایک عہدیدار کے حوالے سے یہ سنسنی خیز انکشاف کیاہے کہ رنکو سینی،جسے راجستھان پولیس نے دو مسلم نوجوانوں ناصر اور جنید عرف جونا کے مبینہ اغوا اور قتل کے الزام میں گرفتار کیاہے نے پولیس کی تفتیش کے دؤران یہ اعتراف کیا ہےکہ یہ نام نہاد گاؤ رکھشک زدو کوب کےبعد پہلے ناصر اور جنید کو ہریانہ پولیس کے پاس لے گئے تھے۔لیکن وہاں موجود پولیس عہدیداروں نے ان دونوں کو اپنی تحویل میں لینے سے انکار کر دیا،کیونکہ شدید مار پیٹ کے بعد ان کی حالت تشویشناک تھی۔
رنکو سینی کےساتھ ایک اور نام نہاد گاؤرکھشک مونو مانیسر کا نام بھی سامنے آیا ہے۔بھرت پور رینج کےانسپکٹر جنرل آف پولیس گورو سریواستو نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ رنکو سینی کے اس دعویٰ کی تصدیق کی جائے گی۔
تاہم اس سلسلہ میں ہریانہ پولیس نے اب تک رنکو سینی کے اس دعوے کا جواب نہیں دیا ہے۔
رنکو سینی 32سالہ پیشہ سے ٹیکسی ڈرائیور بتایاگیا ہے،جو ہریانہ کےضلع نوح کے فیروز پور جھرکا کا رہنے والاہے۔جسے کل ہفتہ کے دن راجستھان کی ایک عدالت نے پانچ دن کے پولیس ریمانڈ میں دیا ہے اور پولیس اس سے اس معاملہ میں تفتیش میں مصروف ہے۔راجستھان پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس جرم کے پیچھے گاؤ رکھشک ہیں اور تمام ملزمان کا تعلق ہریانہ سے ہے۔
میڈیا نے راجستھان کے ایک پولیس عہدیدار کےحوالے سے بتایا ہے کہ ایف آئی آر میں متاثرہ کے خاندان کی جانب سے نامزد ملزمان کے چند ناموں اور دیگر نئے ناموں کی تصدیق کی ہے،لیکن اس نے مونو مانیسر کے نام کی تصدیق نہیں کی۔
رنکو سینی کے اس انکشاف کےبعد سوشل میڈیا پرسوال اٹھائےجارہے ہیں کہ جب گاؤ رکھشکوں کاجھنڈ شدید زخمی ناصر اور جنید کو ہریانہ پولیس کےحوالے کرنے پہنچا تو کیوں پولیس نے انہیں فوری اپنی تحویل میں نہیں لیا؟ اور کیوں شدید زخمی ناصر اور جنید کو ہسپتال منتقل نہ کرتے ہوئے ان درندوں کے ساتھ واپس بھیج دیا۔؟ جبکہ ناصر اور جنید کے پاس سے گائے بھی دستیاب نہیں ہوئے تھے۔جیسا کہ گاؤ رکھشک انہیں گایوں کی اسمگلنگ میں ملوث بتاکر پہلے شدید اذیتیں پہنچائیں اور پھر گاڑی میں بٹھاکر انہیں آگ کی نذر کردیا۔؟
” اس واقعہ کی تفصیلات اور حقائق این ڈی ٹی وی کی اس 4 منٹ کی سوربھ شکلا کی رپورٹ میں "
https://www.facebook.com/NDTVIndia/videos/712191843871686
دوسری جانب رنکو سینی کا انکشاف متوفی کے ایک رشتہ دار محمد جابر کےاس بیان کی تصدیق کرتا ہے کہ ناصر اور جنید کو پہلے ہریانہ کے فیروز پور جھرکہ پولیس اسٹیشن لے جایاگیا،لیکن پولیس نے گاؤ رکھشکوں کو وہاں سے جانے کو کہا۔اس کےبعد ناصر اور جنید کو ہریانہ کے بھیوانی ضلع کے لوہارو لے جایا گیا،جہاں ایک مہندرا بولیرو ایس یو وی کے اندر سے ان کی جلی ہوئی نعشوں کی باقیات پائی گئیں۔
راجستھان کے بھرت پورضلع کے گھاٹ میکا گاؤں کے رہنے والے ناصر اور جنید کو چہارشنبہ کے دن گاؤرکھشکوں نے اغوا کیاتھا اور جمعرات کی صبح ان کی نعشوں کی باقیات اور جلی ہوئی گاڑی ہریانہ میں پائی گئیں۔
ایک متوفی کے افراد خاندان نے الزام عائد کیا تھاکہ ناصر اور جنید کو بجرنگ دل سے وابستہ گاؤ رکھشکوں نے بھرت پور سے اغوا کیا تھا۔وہیں دو دن قبل ایک پریس کانفرنس میں،بجرنگ دل قائدین نے کہاتھا کہ” اس کے ارکان کے خلاف بغیر ثبوت کےمقدمہ درج کرنا غلط ہے۔پولیس اس معاملے میں تفتیش مکمل کرے اور پھرملزم کو گرفتار کرے۔انہوں نے کہاتھا کہ بجرنگ دل کے ارکان کا اس اغوا اور قتل کیس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
ہریانہ میں پیش آئے اس روح فرسا واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئےصدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ پورا ایک گروپ ہے جو خود ساختہ گاؤ رکھشک بن کر لوگوں کو ڈراتا ہے،ان پر ظلم کرتا ہے اور ان سے وصولی کرتا ہے۔
انہوں نے ناصر کے بھائی اسماعیل کے بیان کا حوالہ یا کہ ناصر اور جنید کو شدید زدوکوب کیا گیااور ہریانہ پولیس نے ناصر اور جنید کو ان کے قبضہ سے اپنی تحویل میں نہیں لیا۔
صدر کل ہندمجلس اتحادالمسلمین ورکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے کہاکہ انہیں ہریانہ کی بی جے پی حکومت جب تک تحفظ فراہم کرتی رہے گی تب تک یہ اسی طرح ظلم و زیادتی اور قتل کرتے رہیں گے۔
بیرسٹر اویسی نے مطالبہ کیا کہ مرکز کی اور ہریانہ کی بی جے پی حکومت ان لوگوں سےاپنا رشتہ ناتہ توڑلے، قانون کو اپنا کام کرنے دیں۔انہوں نے کہا کہ راجستھان جہاں کانگریس کی حکومت ہے اگر شکایت کے فوری بعدحرکت میں آتی توشاید آج جنید اور ناصر زندہ ہوتے مگر وہاں بزدلی اور کمزوری سے کام کیا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیاکہ جو کوئی خودساختہ گاؤ رکھشا کےنام پر ظلم، زیادتی،قتل اور وصولی کررہےہیں انہیں سیاسی تائید وحمایت حاصل ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا کوئی حکومت چاہے تو انہیں ختم نہیں کرسکتی۔؟ ان پر روک نہیں لگاسکتی۔؟
بیرسٹر اویسی نے کہا کہ حکومت اگر چاہے تو یہ سب خود ساختہ گاؤ رکھشک نصف گھنٹے میں اپنے گھروں میں بیٹھ جائیں گے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں جیل میں ڈالیے،ان سے ہتھیار چھین لیجئے،۔انہوں نے خود ساختہ گاؤ رکھشکوں سے سوال کیا کہ آپ ہوتے کون ہیں؟ جو اس طرح سڑکوں پر نکل کر کیوں اس طرح کی حرکتیں کررہے ہیں۔؟ اگر کوئی شکایت ہے تو پولیس موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ہریانہ۔ راجستھان سرحد پر کیا اسی طرح کا غنڈہ راج چلتا رہے گا تو پھر پولیس کیوں موجود ہے۔؟
آج راجستھان کے ٹونک میں منعقدہ جلسہ عام سےخطاب کرتےہوئے صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے دو ٹوک لہجے میں کہا کہ آج اگر بھارت میں کسی کے خون کی اہمیت نہیں ہے تو مسلمان کے خون کی اہمیت نہیں ہے،دلت کے خون کی اہمیت نہیں ہے، آدیواسیوں کے خون کی اہمیت نہیں ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہاکہ ریاست تلنگانہ کے میدک ضلع میں پولیس حراست میں ایک مسلم بچہ کو مار دیاگیا۔انہوں سوال کیا کہ یہ ظلم آخر کب تک چلتا رہے گا۔؟ اقتدار کے نشہ میں کبھی جنید اور ناصر کو، کبھی پیلو خان کو تو کبھی اخلاق کو تو کبھی رکبر کو مارا جاتا ہے۔
بیرسٹر اویسی نے کہا کہ اس سلسلہ کو ختم کرنے کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہے جو ہمارے ووٹوں کی بھیک پر اقتدار حاصل کرتے ہیں۔مگر آج ان کی زبانیں خاموش ہیں۔ایسے واقعات پر بھی ان کی زبانیں نہیں کھلتی ہیں۔
قبل ازیں کل ہفتہ کو صدر کل ہندمجلس اتحادالمسلمین ورکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے ناصر اور جنید کے گاؤں پہنچ کر ان کے افراد خاندان سے ملاقات کرتے ہوئے ان سے تعزیت کا اظہار کیا۔اور اس واقعہ کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔

