چھتیس گڑھ کے رائے پورضلع میں نابالغ لڑکی کے ساتھ بدترین سلوک کا واقعہ، زخمی کرکے بال پکڑ کر سڑک پر گھسیٹنے والا شخص گرفتار

چھتیس گڑھ کے رائے پور ضلع میں نابالغ لڑکی کے ساتھ بدترین سلوک کا واقعہ
زخمی کرکے بال پکڑ کر سڑک پر گھسیٹنے والا شخص گرفتار، ویڈیو وائرل

رائے پور/حیدرآباد: 20۔فروری
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

گزشتہ چند سال سے ملک کی مختلف ریاستوں میں تشددکے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوتاجارہاہے۔سخت قوانین کےباؤجود ان ظالموں کو نہ پولیس کا خوف ہے،نہ عدالتوں کا اور نہ سزاؤں کا! ہر تیسرا فرد چھوٹی چھوٹی بات پر آپے سے باہر ہونے اور تشدد پر اتر آنے کے لیے تیار نظر آتا ہے۔!!

وہیں ایک سب سے بڑا،گمبھیراور افسوسناک پہلو یہ ہےکہ سڑکوں پر کھلے عام ہونے والے قتل،مارپیٹ،حملوں اور مظالم کےواقعات کواطراف و اکناف میں موجود عوام کی بڑی تعداد بھی نظر انداز کرنے میں مصروف ہے۔ پہلے تو یہ ہوتا تھا کہ بیچ بچاؤ کے لیے راہ چلتے اور وہاں موجود لوگ فوری پہنچ جایا کرتےتھے۔اور معاملہ کو جلد ہی ختم کردیا جاتا۔یا پھرمعاملہ زیادہ بڑا ہو تو پولیس کو اطلاع دے دی جاتی تھی،جبکہ اس وقت نہ موبائل فونس کی آسان سہولت حاصل تھی اور نہ سوشل میڈیا موجود تھا،لیکن آج ترقی کےباوجود حالات اتنےافسوسناک اورغیر انسانی ہوگئے ہیں کہ سڑکوں،گلیوں اور عوامی مقامات پر کوئی بھی واقعہ پیش آجائے نہ مداخلت کے لیے کوئی تیار ہے اور نہ بیچ بچاؤ کرنے۔!!

زمانے کی ترقی کے ساتھ سماج میں ایک لعنت یہ در آئی ہےکہ سڑکوں پر حادثہ ہو یا قتل یا لڑائی جھگڑے وہاں موجود زیادہ تر لوگ فوری اپنے اپنے موبائل فون سے ویڈیو بناناشروع کردیتے ہیں۔اب یہ بات وہی جانیں کہ اس غیر انسانی عمل سے انہیں کیا حاصل ہوتا ہے جب ان کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتا ہے۔؟

نامور شاعر بشیر بدر نے کبھی کہا تھا کہ ؎

تم ابھی شہر میں کیا نئے آئے ہو
رک گئے راہ میں حادثہ دیکھ کر

وہیں موجودہ حالات و واقعات پر نامور شاعر ندا فاضلی نے کبھی پیش قیاسی کی تھی جو شاید اب سچ ہوتی نظر آرہی ہے۔!!
بدل رہے ہیں کئی آدمی درندوں میں
مرض پرانا ہے اس کا نیا علاج بھی ہو

جبکہ باقی صدیقی نے بھی اپنے ایک شعر میں موجودہ دؤر کی بے حسی پر کبھی کہا تھا کہ ؎

ہر نئے حادثے پہ حیرانی
پہلے ہوتی تھی اب نہیں ہوتی

چھتیس گڑھ کی راجدھانی رائے پور کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہورہا ہے۔جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص اپنے سیدھے ہاتھ میں کوئی ضرب دینے والی شئے پکڑا ہوا ہے اور اپنے دووسرے ہاتھ سے ایک لڑکی کے بال پوری طاقت کے ساتھ پکڑکر کھینچتا ہوا لے جارہا ہے۔لیکن کیامجال کہ اطراف میں موجود لوگ اسے اس غیر انسانی حرکت سے روک سکیں۔!!اور وجہ دریافت کریں کہ لڑکی کون ہے اور اس کے ساتھ یہ ظلم سر بازار کیوں کررہا ہے؟؟

میڈیا اطلاعات کےمطابق رائے گڑھ کے گودھیاری علاقہ میں ہفتہ کی رات دیر گئےاس وقت سنسنی پھیل گئی تھی جب ایک شخص کو ایک 16 سالہ نابالغ لڑکی کو تیز دھاری ہتھیار سے کئی ضربات پہنچانے کے بعد اس لڑکی کے بال پکڑ کر زخمی حالت میں گھسیٹتے ہوئے دیکھا گیا۔

یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب اس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوگئی۔جس کے بعدمقامی پولیس نے اس واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کردیا۔چھتیس گڑھ پولیس نے کل اتوار کو اس معاملہ میں ایک شخص کو مبینہ طور پر ایک نابالغ لڑکی پر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کرنے اور پھر اسے سڑک پر گھسیٹنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔

پولیس نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں متاثرہ لڑکی کے ساتھ ساتھ ملزم کی بھی شناخت کرلی گئی۔جس کے بعد اس سلسلہ میں گدھیاری پولیس اسٹیشن میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) اور آرمس ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت ایک کیس درج رجسٹر کرلیا گیا۔پولیس کاکہنا ہے کہ لڑکی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے اور وہ ڈاکٹروں کی خصوصی نگرانی میں زیر علاج ہے۔

سینئرسپرنٹنڈنٹ آف پولیس(ایس ایس پی)رائے پور پرشانت اگروال کےمطابق متاثرہ لڑکی ملزم کی دکان پر ملازمت کرتی تھی اورملزم کی شناخت اومکار تیواری عرف منوج (47 سالہ)کے طور پر ہوئی ہے۔ایس ایس پی نے کہا کہ جیسے ہی واقعہ منظر عام پر آیا، پولیس فوری طور پر حرکت میں آگئی اور ملزم حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا۔

میڈیا نے پولیس ذرائع سے بتایاہے کہ ملزم نےمبینہ طور پر اس نابالغ لڑکی سےشادی کی پیشکش کی تھی جسے متاثرہ کی ماں نے مسترد کر دیا تھا۔ جس پرمشتعل ہوکر ملزم اومکار تیواری نےاس نابالغ لڑکی پر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کیا اور اسے بالوں سے گھسیٹتے ہوئے سرعام کھلبلی مچادی۔

وہیں ایس ایس پی رائے پور پرشانت اگروال نے میڈیا کو بتایا کہ متاثرہ لڑکی کی جانب سے ملازمت چھوڑ دینے کی تجویز اور دیگرمسائل سے برہم ہو کر ملزم اومکار تیواری نے اس نابالغ لڑکی پر حملہ کیا۔اور اس سارے معاملہ کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔