دھرم سنسد میں مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکیاں
سپریم کورٹ نے اتر اکھنڈ حکومت کو نوٹس جاری کی
دس دن میں جواب داخل کرنے کاحکم
نئی دہلی:12۔جنوری (سحرنیوزڈاٹ کام)
ریاست اتر اکھنڈ کے ہری دُورا میں 17 تا 19 ڈسمبر ایتی نرسنگھانند کی قیادت میں منعقدہ دھرم سنسد میں شرکا کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف انتہائی اشتعال انگیزتقاریرکرتے ہوئے ملک کو ہندوراشٹر بنانے کے لیے 20لاکھ مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کی دھمکی اور ہندووں کو ہتھیار خریدنے کی ترغیب دی گئی تھی۔

اس دھرم سنسد کی انتہائی اشتعال انگیز تقاریر کے ویڈیوز کو باقاعدہ سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمس پر وائرل کیا گیا تھا۔اس معاملہ چاروں جانب سے شدید مذمت ہوئی تھی اور سابق فوجی سربراہوں،سماجی جہد کاروں،صحافیوں اور یہاں تک کہ بین الاقوامی ٹینس کھلاڑی مارٹینا نووراتیلووا کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
اس سلسلہ میں وزیراعظم نریندرمودی ،مرکزی حکومت، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، مرکزی وزارت داخلہ،اتر اکھنڈ حکومت اور مرکزی ایجنسیوں کی خاموش ہی ہیں۔
اتراکھنڈ پولیس نے اس سلسلہ میں ایک کیس درج کیا تھا تاہم کارروائی یا کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔تاہم اس کے چند دن بعد ہی دھرم سنسد میں مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکی دینے والوں نے ایک پولیس عہدیدار کو آشرم طلب کرتے ہوئے نامعلوم افراد کے خلاف ایک شکایت حوالے کی تھی اس موقع پر پولیس عہدیدار اور ان افراد کو قہقہے لگاتے ہوئے دیکھا گیا تھا!!

اس سلسلہ میں 26 ڈسمبر کو 76 سپریم کورٹ کے وکلا نے چیف جسٹس آف انڈیا جناب این وی رمنا کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس معاملہ ازخود سوموٹو کے تحت کارروائی کرنے کی درخواست کی تھی۔
سپریم کورٹ نے آج اتراکھنڈ حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ 10 دن کے اندر دھرم سنسد یا مذہبی اسمبلی کی نفرت انگیز تقاریر کے معاملے پر ایک درخواست کا جواب دے،سپریم کورٹ پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس انجنا پرکاش اور صحافی قربان علی کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔
ساتھ ہی سپریم کورٹ نے عرضی گزاروں کو 23 جنوری کو اترپردیش کے علیگذھ میں منعقد ہونے والے ایک اور دھرم سنسد کو روکنے کی درخواست کے ساتھ مقامی حکام سے رجوع کرنے کی اجازت دی۔درخواست گزاروں نے نفرت انگیز تقاریر کی ایک خصوصی ٹیم کے ذریعہ آزادانہ اور قابل اعتماد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
۔۔
” سپریم کورٹ کے وکلا کی جانب سے معزز چیف جسٹس کو روانہ کیے گئے مکتوب اور دھرم سنسد میں کی گئیں اشتعال انگیز تقاریر کے ویڈیوز اور تفصیلات اس لنک پر دیکھی جاسکتی ہیں "

