آئی پی ایس عہدیدار کے ہونٹوں کو لپ اسٹک کے ذریعہ رنگین بناتی ان کی کمسن بیٹی،سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل

” بیٹیاں سب کے مقدر میں کہاں ہوتی ہیں "
آئی پی ایس عہدیدار کے ہونٹوں کو
لپ اسٹک کے ذریعہ رنگین بناتی ان کی کمسن بیٹی
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل

حیدرآباد: 12۔جنوری(سحرنیوزڈیسک)

کہتے ہیں کہ بیٹیاں بہ نسبت اپنی ماں کے اپنے باپ سے بہت زیادہ قریب ہوتی ہیں اور زیادہ تر گھرانوں میں دیکھا بھی یہی جاتا ہے۔وہیں سماج کا یہ المیہ ہے کہ بیٹیوں کو زیادہ تر بوجھ مانا جاتا ہے جبکہ بیٹیوں کو رحمت قرار دیا گیاہے۔

وہیں ایک سخت گیر بالخصوص پولیس عہدیدار اپنی خدمات کے دؤران کتنا ہی سخت دلی اور کڑک مزاجی کا مظاہرہ کرے وہ اپنے گھر اور بچوں کے ساتھ ایک معمولی انسان کی طرح ہے رہتا ہے۔

بیٹیوں کے متعلق کئی اقوال عام ہیں کہ بیٹیاں ٹینشن Tension نہیں بلکہ وہ ٹین سنس TenSons (دس بیٹے)کے مساوی ہوتی ہیں۔

خیر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز بالخصوص ٹوئٹر،انسٹا گرام اور فیس بک پر چند ایسے دلچسپ ویڈیوز وائرل ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان تھوڑی دیر کے لیے اپنے سارے مسائل اور مشکلات کو بازو رکھ کر ان ویڈیوز سے لطف اندوز بھی ہوتا ہے۔

ٹوئٹر پر ایک ایسا ہی ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک باپ کے ہونٹوں پر ان کی کمسن لڑکی لپ اسٹک لگارہی ہے اور و ہ شخص بھی بنا کسی برہمی یا انکار کہ ہنستے اور باتیں کرتے ہوئے اس کمسن لڑکی کے ہاتھ سے اپنے ہونٹوں کو رنگین کرلینے میں مصروف ہے۔

یہ کوئی عام یا معمولی انسان نہیں بلکہ ایک آئی پی ایس عہدیدار ہیں۔جی ہاں تمل ناڈو کے محکمہ پولیس کے شعبہ مالی و اقتصادی جرائم کے شعبہ میں ایس پی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے آئی پی ایس عہدیدار وجئے کمار vijaypnpa_ips@ نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے ایک ویڈیو پوسٹ کیا ہے۔اور اس ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا ہے کہ ” بیٹیاں/بچے دنیا کی ساری خوشیاں لاتے ہیں، میرے ساتھ میری بیٹی نیلا "۔

آئی پی ایس عہدیدار و ایس پی شعبہ مالی و اقتصادی جرائم حکومت تمل ناڈو وجئے کمار اس ویڈیو میں فرش پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کی بیٹی نیلا سے بات کرتے ہوئے لپ اسٹک لگوالینے میں مصروف ہیں اسی طرح اس کمسن لڑکی کے پاس میک اپ کا بہت سارا سامان بھی ہے۔

وجئے کمار آئی پی ایس کی جانب سے ٹوئٹر پر پوسٹ کیے گئے اس ویڈیو کو اب تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد ٹوئٹر صارفین نے دیکھا ہے جبکہ 14،000 صارفین نے اس ویڈیو کو لائیک اور سینکڑوں کی تعداد میں اس ویڈیو کو ری ٹوئٹ کیا گیا ہے اور اس پر کمنٹس کرتے ہوئے اس معصوم لڑکی کی سراہنا کی جارہی ہے۔