اگر دس منٹ کی اذان صوتی آلودگی کا باعث بنتی ہے تو مندروں میں اونچی آواز میں موسیقی اور بھجن کا کیا ہوگا؟ : گجرات ہائی کورٹ

اگر دس منٹ کی اذان صوتی آلودگی کا باعث بنتی ہے تو مندروں میں اونچی آواز میں موسیقی اور بھجن کا کیا ہوگا؟
گجرات ہائی کورٹ نے اذان کے خلاف مفاد عامہ کے تحت دائر درخواست کو مسترد کر دیا

نئی دہلی: 02۔ڈسمبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

گجرات ہائی کورٹ نے 28 نومبر کو مفاد عامہ کے تحت دائر کردہ ایک درخواست کو مسترد کر دیا جس میں مبینہ طور پر اذاں کے لیے مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

معزز چیف جسٹس سنیتا اگروال اور جسٹس انیرودھ مئے پرمشتمل دو ججوں کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ یہ مفاد عامہ کی درخواست سائنسی طور پر اپنا مقدمہ مضبوط بنانے میں معاون نہیں ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ اذان کے نتیجے میں آواز کی آلودگی کی خطرناک سطح ہوتی ہے۔

قانونی ویب سائٹ” بار اینڈ بنچ ” Bar & Bench کی رپورٹ کےمطابق معزز چیف جسٹس سنیتا اگروال نے کہاکہ یہ مکمل طور پر غلط فہمی والی درخواست ہے۔ہم یہ سمجھنے میں ناکام ہیں کہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ اذان دینے والی انسانی آواز، آواز کی آلودگی پیدا کرنے کی حد تک شدت تک کیسے پہنچ سکتی ہے؟ جس سے بڑے پیمانے پر لوگوں کے لیے صحت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق مفاد عامہ کےتحت درخواست دائر کرنے والے دھرمیندر پرجاپتی نے کہا کہ اس نے جس ہسپتال میں کام کیا تھا اس کے قریب دن میں پانچ مرتبہ اذان کی آواز پر اعتراض کیا کہ اس سے مریضوں کو پریشانی ہوتی ہے۔

قانونی نیوز ویب سائٹ ” لائیو لا ” Live Law کے مطابق معزز چیف جسٹس سنیتااگروال نے درخواست گزار کے وکیل سے پوچھا کہ ان کے خیال میں اذان کی شدت کی سطح کیا ہوتی ہے؟ جس پر وکیل نے کہا کہ یہ آواز کی شدت سے سے تجاوز ہوتی ہے۔

معزز چیف جسٹس سنیتا اگروال نےریمارک کیاکہ آپ کا ڈی جے DJ بہت زیادہ صوتی آلودگی پیدا کرتا ہے۔ہم اس قسم کی درخواست کو قبول نہیں کر رہے ہیں۔یہ ایک ایمان اور عمل ہے جو برسوں سے ایک ساتھ چل رہا ہے اور یہ صرف 5 سے 10 منٹ کا لمحہ ہوتاہے اور اذان 10 منٹ سے بھی کم ہوتی ہے۔

بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق جب درخواست گزار دھرمیندر پرجاپتی کے وکیل نے استدلال پیش کیا کہ مندروں میں آرتی کے برعکس اذان دن میں کئی بار ہوتی ہے، تو معزز چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آرتی بھی اسی طرح خلل پیدا نہیں کرتی؟

معزز چیف جسٹس گجرات ہائی کورٹ سنیتا اگروال نے کہا کہ لہذا آپ کے مندروں میں، صبح سویرے شروع ہونے والے ڈھول اور موسیقی کے ساتھ صبح کی آرتی۔اس سے کسی کو کوئی شور یا پریشانی تو نہیں ہوتی؟ کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس گھنٹہ [گھنٹی] اور گھڑیال [گھونگ] کا شور مندر کےاحاطے میں رہتاہے اور احاطے سے باہر نہیں نکلتا؟معزز چیف جسٹس نے مزید کہاکہ صوتی آلودگی ایک”سائنسی مسئلہ”ہے اور درخواست گزار سے پوچھا کہ کیا صوتی آلودگی کی پیمائش کے سائنسی طریقے ان کی دلیل کی تصدیق کر سکتے ہیں۔؟

لائیو لا کی رپورٹ کےمطابق معزز چیف جسٹس نے اپنے حکم میں کہاکہ اگر آپ اس پر بحث کر سکتے ہیں تو ہم آپ کو اجازت دیں گے۔لیکن آپ یہ بحث نہیں کر رہے ہیں۔آپ نے رٹ پٹیشن میں کوئی بنیاد نہیں بتائی ہے۔آواز کی سطح کےحوالے سے التجا کہاں ہے؟علاقے میں شور کی آلودگی کی تشخیص کے سائنسی طریقہ کار کے حوالے سے استدعا کہاں ہے؟ معزز چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے کیا نتیجہ اخذ کیا کہ” ہم یہ سمجھنے میں ناکام ہیں کہ صبح کے وقت لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ اذان دینے والی انسانی آواز کس طرح صوتی آلودگی پیدا کرنے کی حد تک سطح حاصل کر سکتی ہے جس سے عوام کی صحت کو بڑے پیمانے پر خطرات لاحق ہوتے ہیں۔؟

آواز کی سطح کو بڑھانے کے ساتھ صوتی آلودگی کی پیمائش/تشخیص ایک سائنسی طریقہ ہےجس میں کسی خاص آلے وغیرہ سےپیدا ہونےوالی آواز کو یہ دیکھنے کے لیے ناپا جا سکتا ہے کہ اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی آواز سطح کی اجازت کی حد سے زیادہ پہنچ رہی ہے۔

معزز چیف جسٹس سنیتا اگروال گجرات ہائی کورٹ نے اس اذان پر پابندی کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے مستر کر دیا کہ درخواست میں ایسی کوئی بنیاد نہیں بتائی گئی ہے جس سے یہ ظاہر ہو سکے کہ دن کےمختلف اوقات میں منٹوں کے لیے دی جانے والی اذان سے پیدا ہونے والی آواز سے آواز کی سطح میں اضافہ ہوگا اور اس سے صوتی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔

” یہ بھی پڑھیں ”

تمل ناڈو میں ای ڈی کا عہدیدار انکت تیواری 20 لاکھ روپے کی رشوت لیتے ہوئے پکڑا گیا

 

بنگلورو کے 48 اسکولوں میں بم رکھے جانے کی دھمکی،ای۔میل میں بسم اللہ اور اللہ اکبر کا استعمال !!