تانڈور کے گورنمنٹ جونیئر کالج کی طالبات سے فرنیچر منتقل کر وایا گیا، پرنسپل اور کالج کے اسٹاف پر عوام کی تنقید، پرنسپل کی مضحکہ خیز وضاحت

تانڈور کے گورنمنٹ جونیئر کالج کی طالبات سے فرنیچر منتقل کر وایا گیا
پرنسپل اور کالج کے اسٹاف پرعوام کی تنقید، پرنسپل کی مضحکہ خیز وضاحت

وقارآباد/تانڈور : 27۔جون
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

طلباء اور طالبات کو ہر مقام پر تلقین کی جاتی ہے کہ وہ موجودہ دؤر میں سبقت حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کریں۔ماہرین تعلیم ،مختلف اعلیٰ عہدیداروں سے لے کر موٹیویشنل اسپیکرز بھی اپنے خطابات میں طلبہ کو ہمیشہ تلقین کرتےہیں کہ زندگی کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے سخت محنت و جدوجہد کریں۔

ایسا محسوس ہوتاہے کہ گورنمنٹ جونیئر کالج تانڈور کے پرنسپل اور دیگر اسٹاف نے اس تلقین کا مطلب یہ سمجھ لیا کہ ان طلباء و طالبات سے فرنیچر منتقل کر واتے ہوئے ان سے سخت محنت کر وانا ہی اس جانب اشارہ ہوگا!! کیاریاست تلنگانہ میں حکومت کی تبدیلی کے 6 ماہ بعد بھی سرکاری محکمہ جات، اسکولوں اور کالجوں کی حالت جوں کی توں ہی سمجھی جائے!

آج وقارآباد ضلع کے تانڈور میں موجود گورنمنٹ جونیئر کالج کے مناظر دیکھنے والے صحافیوں اوروہاں سے گزرنے والو ں کی ان طالبات پر نظر پڑی جو بھاری بھاری کم فرنیچر اٹھا کر منتقل کرنے میں مصروف تھیں۔تو وہ بھی افسوس کرتے ہوئے گزر گئے اور سوچا ہوگا کہ شاید سرکاری کالجس میں تعلیم کے نصاب میں یہ محنت بھی شامل ہوگی۔!!

اس افسوسناک واقعہ کی تفصیلات کے مطابق وسیع و عریض گراؤنڈ کےحامل گورنمنٹ جونیئر کالج تانڈور میں دو کروڑ روپئے کے صرفہ سے موجودہ قدیم عمارت کے قریب زائد کلاس رومس تعمیر کیے گئے ہیں۔کالج گراونڈ کے احاطہ میں قدیم اور جدید کلاس رومس کے درمیان زائد از نصف کلومیٹر کے فاصلہ پر تعمیر ان کلاس رومس کی تعمیر کے آغاز کے بعد بھی کلاس رومس مقفل رکھے گئے تھے۔

طلبہ کی نمائندگی پرجدید کلاس رومس تو کھول دئیے گئے لیکن ان میں فرنیچر موجود نہیں تھا۔طالبات منتظر تھیں کہ شاید جلد ہی قدیم کلاس رومس سے فرنیچر منتقل کئے جائیں گے تاہم انہیں مایوسی ہی ہاتھ لگی۔آج اس کالج کی طالبات کے ذریعہ قدیم کلاس رومس کی اوپری منزل سے اٹھاکر دوسری جانب موجود جدید کلاس رومس کی اوپری منزل تک فرنیچر منتقل کر وایا گیا۔

جب یہ منظر وہاں سے گزرنے والوں اور جائے مقام پر پہنچے صحافیوں نے یہ منظر دیکھا اور میڈیا،سوشل میڈیا پر اس کی ویڈیوز،خبریں وائرل ہوئیں تو ان طالبات کے سرپرستوں اورعوام میں غصہ کی لہر دوڑ گئی اور ان کی جانب سے کالج کے پرنسپل اور اسٹاف پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیوں فرنیچر کو مزدوروں کے ذریعہ جدید کلاس رومس تک منتقل نہیں کیاگیا اور کیوں طالبات کو اتنا مجبور کیا گیا کہ وہ خود فرنیچر اٹھا کر جدید کلاس رومس تک منتقل کریں۔؟

اس واقعہ پر کالج کے پرنسپل راج موہن راؤ کی وضاحت مضحکہ خیز ہے کہ انہوں نے طالبات کو ایسی کوئی ہدایت نہیں دی تھی بلکہ طالبات نے خود اپنی جانب سے فرنیچر کو منتقل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مزدوروں کو رقم کی ادائیگی کے لیے کالج میں فنڈ نہیں ہے اور نہ ہی کالج میں اٹنڈر ہی موجود ہیں۔

دوسری جانب عوام کا استفسار ہےکہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کے اپنے ہی ضلع وقارآباد کے تانڈور ٹاون میں اسکولوں،کالجس اور انتظامیہ کا جب یہ حال ہے تو پھر دیگر اضلاع میں اسٹاف، ان کا معیار اورسرکاری اسکولوں وکالجوں کے اسٹاف کا طرز عمل کیا ہوگا۔؟؟

عوامی مطالبہ ہے کہ پرنسپل اور اسٹاف کے خلاف کارروائی کی جائے اور ساتھ ہی کالج کے طلباء و طالبات کو تمام سہولتیں فراہم کی جائیں کیونکہ ان میں زیادہ تر کا تعلق غریب اور متوسظ طبقہ سے ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں "

تلنگانہ کے میدک میں عیدالاضحیٰ سے قبل جو ہوا وہ منصوبہ بند سازش کا حصہ تھا، اے پی سی آر فیاکٹ فائنڈنگ ٹیم کا دؤرہ، رپورٹ جاری