تلنگانہ کے میدک میں عیدالاضحیٰ سے قبل جو ہوا وہ منصوبہ بند سازش کا حصہ تھا، اے پی سی آر فیاکٹ فائنڈنگ ٹیم کا دؤرہ، رپورٹ جاری

تلنگانہ کے میدک میں عیدالاضحیٰ سے قبل جو ہوا وہ منصوبہ بند سازش کا حصہ تھا
خاطیوں کے خلاف کارروائی اور بے قصور مسلم نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ
اے پی سی آر فیاکٹ فائنڈنگ ٹیم کا دؤرہ میدک، رپورٹ جاری

حیدرآباد : 22۔جون
( پریس ریلیز/سحر نیوزڈاٹ کام)

شہری حقوق کےتحفظ کی تنظیم”اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سیول رائٹس تلنگانہ چیاپٹر (APCR)” کی فیاکٹ فائنڈنگ ٹیم نےتلنگانہ کے میدک کے متاثرہ مقامات کا دورہ کرتے ہوئے حالات سے واقفیت حاصل کی۔وفد نے وہاں متاثرین سے ملاقات کی اور واقعات کی جانکاری لی۔اے پی سی آر کی اس ٹیم میں اے آر جنید، محمدمحسن، محمد فاضل احمد اور دیگر شامل تھے۔

اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سیول رائٹس تلنگانہ چیاپٹر(APCR) کے ذمہ داروں نے دؤرہ میدک کےبعد جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا ہےکہ عید الاضحی کےموقع پر حالات خراب کرنے کا شر پسندوں کا منصوبہ مسلمانوں کے صبر و تحمل کی وجہ سے ناکام ہوا۔لیکن عید سےقبل جو کچھ ہوا یہ منصوبہ بند سازش کا حصہ تھا اور اس واقعہ میں کئی بے قصور افراد زخمی ہوئے ہیں اور مسلمانوں کی املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا گیا ہے۔

اس وفد نے اپنی رپورٹ میں کہا ہےکہ میدک قصبہ کے ایک دینی مدرسہ میں بیلو ں کو چروایا جارہا تھا کہ ہفتہ 15 جون کی صبح دس بجے کے قریب بی جے پی اور بی جے وائی ایم کے چند کارکن مدرسہ کے قریب جمع ہوئے اور بیلوں کے ذبیحہ کےخلاف دھرنا دینا شروع کردیا اور جے ایس آر کے نعرے لگانے لگے۔

مدرسہ کے عہدیداروں نے اس بات کی اطلاع پولیس کو دی اور پولیس فوری وہاں پہنچ گئی۔اس دوران دوپہر دو بجے تک مزید افراد وہاں جمع ہوئے اور مطالبہ کیا کہ بیلوں کو گوشالہ بھیج دیا جائے۔ڈی ایس پی دوپہر ایک بجے کے قریب جائے مقام پر پہنچے اور انہوں نے مشورہ دیا کہ بیلوں کو قریبی ویٹرنری دواخانہ منتقل کیاجائے اور جانچ کے بعد قربانی کے لیے سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے۔انہوں نےتیقن دیا کہ دوسرے دن صبح بیلوں کو حوالے کر دیا جائے گا۔لیکن اتوار کی شام تک جانور مدرسہ والوں کو واپس نہیں کیے گئے۔

اسی دوران مسلمانوں کا ایک گروپ شکایت درج کروانے پولیس اسٹیشن جارہاتھا کہ شرپسند ہجوم نے مسلمانوں پر لاٹھیوں اور پتھروں سے حملہ کیا جس میں کئی بے قصورمسلمان شدید زخمی ہوگئے۔اس کے علاوہ بی جے پی اور بی جے وائی ایم کے کارکنوں نے میدک ٹاؤن میں مسلمانوں اور ان کی املاک پر حملہ کرکے سات مسلم نوجوانوں کو زخمی کر دیا۔

پرتشدد ہجوم نے آرتھوپیڈک ہسپتال میدک کے غیر مسلم ڈاکٹر نوین پر بھی حملہ کیا اور ان کے ہسپتال میں اس وقت توڑ پھوڑ کی گئی جب وہ انسانی بنیادوں پر ایک زخمی مسلم شخص کا علاج کر رہے تھے۔

انسپکٹر جنرل میدک نے اپنی پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہاکہ یہ ہندو گروپ کے لوگ تھے جنہوں نے امن و امان کو خراب کیا جس کی وجہ سےمسلمانوں اور ان کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچا اور ایسے فرقہ پرست عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ لیکن طرفہ تماشہ یہ کہ اب کئی بے قصور مسلم نوجونواں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ منصوبہ بند طریقہ سے یہاں مسلمانوں کو اور ان کی املاک کونقصان پہنچایا گیا وفد نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اب حالات قابو میں ہیں لیکن عوام بالخصوص اقلیتوں میں خوف پایا جاتا ہے۔

اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سیول رائٹس تلنگانہ چیاپٹر (APCR) نےحکومت تلنگانہ،پولیس انتظامیہ اور عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ میدک فرقہ وارانہ واقعہ کے خاطیوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور حکومت اس سارے واقعہ کا سخت نوٹ لے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے حالات نہ پیدا ہوں اور گرفتار کیے گئے بے قصور مسلم نوجوانوں کو فوری رہا کیا جائے۔

 

 

یہ بھی پڑھیں ” 

وقارآباد ضلع ایس پی کی حیثیت سے نارائن ریڈی نے اپنے عہدہ کا جائزہ حاصل کرلیا

جامن مختلف جسمانی مسائل کے حل کیلئے نہایت مفید پھل، سال میں ایک جامن ضرور کھائیں