تلنگانہ:کمسن طالبہ کے خط پر چیف جسٹس این وی رمنا کا بروقت اقدام
موضع کو بس سرویس کا آغاز،عوام اور طلبہ کی مشکلات ختم
حیدرآباد: 05۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
معزز چیف جسٹس این وی رمنا عدالت عالیہ کے اس منصب پر فائز ہونے کے بعد سے ہی اپنے کئی فیصلوں اور مختلف مقدمات کی سماعت کے دؤران ان کے ریمارکس کو اس ملک کے انصاف پسند عوام کا بہت بڑا طبقہ بہت زیادہ پسند کرنے لگا ہے۔
ایسے میں کورٹ کچہریوں سے ناواقف ایک کمسن طالبہ نے موضع کے عوام اور طلبہ کو درپیش مشکلات کے حل کی غرض سے معزز چیف جسٹس این وی رمنا کو ایک خط لکھا جس پر انہوں نے بروقت اقدام بھی کیا۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس طالبہ نے کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی سے چیف جسٹس کے فیصلوں اور ان کی شخصیت سے متعلق سنا ہی ہوگا!
اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق ضلع رنگاریڈی کے منچالا منڈل کے موضع چیدیڑ کی ساکن پی۔ویشنوی جو کہ آٹھویں جماعت کی طالبہ ہے نے چیف جسٹس این وی رمنا کو ایک خط لکھتے ہوئے بتایا کہ وہ اور اس کا بھائی پروین جو کہ نویں جماعت میں زیرتعلیم ہے اوران دونوں بھائی بہن کو اپنے سرکاری اسکول پہنچنے کے لیے 6 کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے۔جبکہ پی۔ویشنوی کی بڑی بہن پریتی موضع سے 18 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود کالج کے لیے سفر کرتی ہیں۔
اس طالبہ اس کے بھائی اور بڑی بہن کو اسکول کالج جانے اور واپس گھر لوٹنے کے لیے روزآنہ 150 روپئے آٹو رکشا کا کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔جبکہ ان کے والد کا کورونا وباء کی پہلی لہر میں انتقال ہوا ہے اور ماں چھوٹی ملازمت کرتے ہوئے ان کی پرورش کررہی ہیں۔
ویشنوی نے تلگو زبان میں معزز چیف جسٹس این وی رمنا کوروانہ کردہ اپنے خط میں انہیں بتایا کہ اسکول جانے اور اسکول سے واپس ہونے کے اوقات میں موضع سے آرٹی سی بس کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔

ساتھ ہی اپنے خط میں ویشنوی نے لکھا کہ موضع سے صبح سات بجے ایک آرٹی سی بس کی سہولت دستیاب ہے مجبوراً کئی طلبہ اس بس کے ذریعہ اسکول کے اوقات سے قبل ہی اسکول چلے جاتے ہیں۔اور شام میں ساڑھے چھ بجے اسکول سے گھر آنے کے لیے بس کی سہولت ہے جس کے لیے اسکول کے اوقات کے بعد دیڑھ تا دو گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے اور گھر پہنچنے تک شام کے سات بج جاتے ہیں۔
معزز چیف جسٹس کو لکھے اپنے خط میں اس طالبہ نے لکھا کہ جس طرح کورونا وبا سے پہلے اسکولی اوقات میں بسوں کی سہولت ہوا کرتی تھی اسی طرح اب بھی بس کی سہولت فراہم کی جائے تو موضع کے طلبہ کی پریشانیوں کا خاتمہ ہوگا۔
اس خط کو پڑھنے کے بعد معزز چیف جسٹس این وی رمنا نے اسسٹنٹ رجسٹرار سپریم کورٹ ایس کے رجیجا کو ہدایت دی کہ وہ اس طالبہ کے مسئلہ کو حل کریں۔
جس کے بعداسسٹنٹ رجسٹرار سپریم کورٹ ایس کے رجیجانے مینجنگ ڈائرکٹر تلنگانہ آر ٹی سی وی سی سجنار کو ایک مکتوب روانہ کیا جس پر فوری وی سی سجنار نے بھی عمل آوری کرتے ہوئے موضع کے لیے بس کی سہولت فراہم کی۔
ابراہیم پٹنم ڈپو کی بس(روٹ نمبر406) ابراہیم پٹنم سے براہ موضع چیدیڑ،داتو پلی تک صبح 7بجے،دوپہر 2 بجے،شام 5 بجے اور رات 9 بجے چلائے جانے کا نظم کیا گیا۔
موضع کے لیے بس سرویس کے آغاز سے خوش عوام نے ویشنوی کو مبارکباد دی جبکہ ویشنوی نے معزز چیف جسٹس این وی رمنا کی جانب سے اس کے خط کو پڑھ کر اس مسئلہ کو حل کرنے پر ان کا شکریہ اداکیا۔

