اننت گیری ہلز پر چیتے کی موجودگی، سیاحوں کی آمد پر پابندی، عوام کو چوکس رہنے کی ہدایت
انتباہی بورڈ نصب،وقار آباد ضلع کے محکمہ جنگلات اور پولیس عہدیداروں کی گشت
حیدرآباد/وقار آباد: 12۔نومبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ)
وقارآباد ضلع کےمشہور سیاحتی مقام اننت گیری ہلز جسے ریاست تلنگانہ کا اوٹی بھی کہا جاتا ہے پر 7 نومبر کی شام الیکشن ڈیوٹی پر موجود سرکاری عہدیداروں نے ایک چیتے کو قریب سے اس وقت دیکھا تھا جب وہ ان کی کار کے سامنے سے سڑک عبور کر رہا تھا۔جس کی اطلاع انہوں نے محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کی دی تھی۔
بعدازاں 9 نومبر کی صبح وقارآباد سے دس کلومیٹر کےفاصلہ پر موجود منے گوڑہ اور گنگوپلی کے آم کےباغات میں ایک چیتا دیکھا گیاتھا۔کئی کسانوں نے اس کی تصدیق کی تھی۔کسان انجلپا نے بتایا تھا کہ جب وہ اپنے کھیت میں فصلوں کو پانی دینے کی غرض سے برقی موٹر چالو کرنے گیا تو انتہائی قریب ایک چیتا موجود تھا جس نے اس پر چھلانگ لگانے کی کوشش کی تھی۔
اسی دن شام کو اننت گیری ہلز کی دوسری جانب موجود موضع گودم گوڑہ میں بھی چیتانظر آنے کی اطلاع ملی تھی اور بکریوں کےمالک شنکریانے بتایا تھا کہ چیتا اس کی 100 بکریوں کے ریوڑ میں سے ایک بکری لے کر فرار ہوگیا۔تاہم اس نے کہا تھاکہ اس نے اس چیتا کو نہیں دیکھا دیگر ساتھیوں نے اس کو یہ بات بتائی تھی۔
گنگو پلی اور گودم گوڑہ کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہے۔اس وقت ایسا مانا گیاتھا کہ ان علاقوں میں دو چیتے گشت کررہے ہیں۔! یہ واضح نہیں ہو پایاہے کہ وہ چیتے ہیں یا تیندوے؟ جس نے بھی ان کو دیکھا ہے چیتا ہی کہہ رہا ہے۔ایک کسان نے بتایاتھا کہ دس دن قبل بھی پوڈورموضع میں ایک چیتا گائے کے بچہ کا شکار کرتے ہوئے اسے اپنے ساتھ اٹھاکر لے گیا تھا۔
ان اطلاعات کے بعد اننت گیری ہلز اور اس کے قریبی مواضعات میں خوف و ہراس پیدا ہوگیا ہے۔وہیں محکمہ جنگلات وقارآبادضلع کےعہدیدار اور ملازم چوکس ہوگئے ہیں اور چیتا کی تلاش جاری ہے،گشت میں اضافہ کیا گیا ہے۔باوثوق اطلاع کےمطابق ان علاقوں میں دو چیتے گشت کر رہے ہیں۔!!
اسی دؤران آج 12 نومبر کو محکمہ جنگلات وقارآباد ضلع کی جانب سے اننت گیری ہلز کی اہم سڑک پر بورڈ آویزاں کرتے ہوئے انتباہ دیا گیاہے کہ اس علاقہ میں چیتا گشت کر رہا ہے،عوام اور گاڑی چلانے والے ہوشیار رہیں۔تعطیلات کے دوران مختلف مقامات سے سیاحوں کی بڑی تعداد اننت گیری ہلز پہنچتی ہے۔چیتا کی اس علاقہ میں موجودگی اور گشت کو دیکھتے ہوئے محکمہ جنگلات کی جانب سے اننت گیری ہلز پر سیاحوں کی آمد پر عارضی طور پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔اور ہدایت دی گئی ہے کہ بلاء اجازت کوئی بھی اننت گیری ہلز کے جنگلات میں داخل نہ ہوں۔
محکمہ پولیس کی جانب سے بھی اننت گیری ہلزپر گشت اور تلاشی مہم جاری ہے۔گاڑی سواروں کوروک کر چوکس کرتےہوئےکہاجارہاہے کہ چیتا سے ہوشیار رہیں اور اگر چیتا کہیں نظر آجائے تو پولیس یا محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کو فوری اطلاع دیں۔
دوسری جانب وقارآباد اور تانڈور کےدرمیان موجود اس اننت گیری ہلز سے روزآنہ سینکڑوں گاڑیاں وقارآباد اور حیدرآباد آیا جایا کرتی ہیں۔جن میں موٹرسیکل راں بھی شامل ہیں۔اسی طرح وقارآباد سےاننت گیری ہلز،کیرالی،دھارور،کوٹ پلی اور دیگرمقامات تک کسان،دیہی افراد اور زرعی مزدور بھی موٹرسیکلوں اورآٹو رکشاؤں کے ذریعہ سفر کرتے ہیں۔جب سے چیتے کی موجودگی اورمختلف مقامات پر اس کی گشت کی اطلاعات سےان میں خوف و ہراس پیدا ہوگیا ہے۔جبکہ اننت گیری ہلز سے وقارآباد ٹاؤن کا فاصلہ بھی صرف 6 کلومیٹر ہے۔
اس علاقہ کے عوام کا الزام ہے کہ دو ہفتوں سے چیتوں کی گشت کی اطلاعات کے باؤجود محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کی جانب سے صرف عوام کو چوکس رہنے کی صلاح دی جا رہی ہے اور گشت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔منصوبہ بند طریقہ سے اس چیتا یا چیتوں کو پکڑنے کی محکمہ جنگلات کی جانب سے کوشش نہیں کی جارہی ہے۔؟ضرورت شدیدہےکہ محکمہ جنگلات بڑے پیمانے پر اقدامات کرتے ہوئے ان چیتوں کو پکڑکر زو پارک روانہ کرے،تاکہ عوام میں خوف کا ماحول ختم ہو، سیاح بلاء خوف دوبارہ اننت گیری ہلز کی سیاحت کے لیے آسکیں اور عوام اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
” یہ بھی پڑھیں "
رکن اسمبلی و بی آر ایس امیدوار حلقہ اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کی انتخابی مہم زوروں پر


