ایک ہفتہ کی تاخیر سے بالآخر مانسون کیرالہ پہنچ گیا، کئی اضلاع میں شدید بارش، اندرون دس دن تلنگانہ میں مانسون سرگرم ہوگا

ایک ہفتہ کی تاخیر سے بالآخر مانسون کیرالہ پہنچ گیا، کئی اضلاع میں شدید بارش
تمل ناڈو اور کرناٹک کے بعد اندرون دس دن تلنگانہ میں مانسون سرگرم ہوگا

تھرواننت پورم : 08/جون
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

مرکزی محکمہ موسمیات کے مطابق بالآخر ایک ہفتہ کی تاخیر سے مانسون آج 8 جون کو کیرالہ پہنچ گیا۔ماہرین موسمیات نے قبل ازیں پیش قیاسی کی تھی کہ بحر عرب میں اٹھنے والا بی پورجائے طوفان مانسون کی آمد پر اثر انداز ہوگا اور کیرالہ میں اس کے اثرات کم ہونگے۔

ہر سال یکم جون کو مانسون کیرالہ پہنچا کرتاہے،تاہم گذشتہ ماہ مرکزی محکمہ موسمیات نے پیش قیاسی کی تھی کہ جاریہ سال مانسون کی آمد میں تاخیر کا امکان ہے اور جاریہ سال مانسون 4 جون تک کیرالہ پہنچے گا۔اب مکمل ایک ہفتہ کی تاخیر سے آج 8 جون کو مانسون کیرالہ میں داخل ہوگیا۔

اس کے ساتھ ہی ریاست کیرالہ کے مختلف اضلاع میں بارش کا آغاز بھی ہوگیا ہے۔ ایرنا کلم اورالپوزا میں مانسون کی آمد کے ساتھ ہی شدید بارش کی پیش قیاسی کرتےہوئے محکمہ موسمیات نے ایلو الرٹ جاری کردیا ہے۔کیرالہ کے ساتھ مانسون لکشادیپ میں بھی پھیل گیا ہے۔ اور وہاں بارش کا آغاز ہوگیا ہے۔

مرکزی محکمہ موسمیات نے پیش قیاسی کی ہے کہ اندرون 48 گھنٹے مانسون کیرالہ کےتمام مقامات کے علاوہ تمل ناڈو اور کرناٹک کے چند مقامات پر داخل ہوکر پھیل جائے گا۔وہیں جاریہ سال تلنگانہ میں بھی مانسون کی آمد میں تاخیر کی پیش قیاسی کرتے ہوئے مرکزی محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ اندرون ایک ہفتہ یا دس دنوں میں مانسون تلنگانہ میں داخل ہوگا۔

مرکزی محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق مانسون کے کیرالہ پہنچنے کی تواریخ میں تبدیلی ہوتی رہی ہے۔1972 میں مانسون تاخیر کے ساتھ 18 جون کو کیرالہ پہنچا تھا۔جبکہ گذشتہ سال 2022 میں اور سال 2018 میں 29 مئی کو ہی مانسون ریاست کیرالہ میں داخل ہوگیاتھا۔اس کے بعد سارے ملک میں پھیل گیا تھا۔جبکہ سال 2021 میں دو دن کی تاخیر سے 3 جون کو مانسون کیرالہ پہنچا تھا۔اسی طرح 2020 میں یکم جون کو اور 2019 میں 8 جون کو مانسون جاریہ سال کی طرح تاخیر سے کیرالہ پہنچا تھا۔

ریاست تلنگانہ میں ہر سال 12 جون سے مانسون کا آغاز ہوجاتا ہے۔گزشتہ سال ریاست میں اوسط سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی تھی تاہم مرکزی محکمہ موسمیات نے گذشتہ ماہ پیش قیاسی کی تھی کہ جاریہ سال ملک اور ریاست میں حوصلہ افزاء بارش ہونے کا امکان ہے۔

دوسری جانب ریاست تلنگانہ کے چند اضلاع میں گذشتہ چند دنوں سے موسم کاحال بھی سیاسی وعدوں کی طرح ہو کر رہ گیا ہے۔جہاں دن میں گرما کی شدت اور شام ہوتے ہوتے بشمول حیدرآباد کئی اضلاع میں ہلکی اور تیز بارش کے باعث موسم سرد ہو رہا ہے۔

چند دنوں سے ریاست کےمختلف اضلاع میں دن بھر آسمان پرکبھی سیاہ تو کبھی سفید بادلوں کی آنکھ مچولی کاسلسلہ جاری ہے۔آسمان پرسفید و سیاہ بادلوں کے گزرنے والے جھنڈ کے خوبصورت مناظر عوام کے دلوں کولبھارہے ہیں۔جیسےکہ یہ پیغام دےرہے ہوں کہ چار ماہ سے گرما کی شدت کوبرداشت کرنے کے بعد اب بارش کا لطف لینے اور اس سے ہونے والی پریشانیوں کا سامنا کرنےکے لیے تیار ہوجائیں۔

یاد رہےکہ مانسون کے آغاز کےساتھ ہی ریاست تلنگانہ کے ضلع عادل آباد میں زیادہ تر کپاس اورسویابین کی کاشت کا آغاز ہوجاتا ہے۔جبکہ نظام آبادضلع میں کسان چاول،گنا اور کپاس کی کاشت کو ترجیح دیتے ہیں۔اورمتحدہ ضلع ورنگل میں لال مرچ،کپاس اور چاول کی کاشت کی جاتی ہے۔اسی طرح متحدہ اضلاع رنگاریڈی،محبوب نگر اور میدک میں پچاس فیصدسے زیادہ تور، کپاس اور دھان کی کاشت کی جاتی ہے۔

وہیں جاریہ سال ماہ مارچ میں ریاست تلنگانہ کے چند اضلاع بالخصوص وقارآبادضلع میں غیرموسمی بارش اور شدید ژالہ باری ہوئی تھی۔ژالہ باری کی شدت اتنی تھی کہ وقارآباد ضلع کا مرپلی منڈل کشمیر کا منظر پیش کررہا تھا۔جہاں ہر طرف اولوں کی شکل میں برف کی چادر جمع ہوگئی تھی۔اس غیر موسمی بارش اور شدید ژالہ باری کےباعث ترکاریوں،پھولوں اور آم کی فصلوں کےساتھ ساتھ دیگرفصلوں کوبھی شدید نقصان پہنچاتھا۔

" ماہ مارچ میں وقار آباد ضلع کے مرپلی میں شدید ژالہ باری کے ویڈیوز اور تفصیلی رپورٹ اس لنک پر

وقار آباد ضلع کے مرپلی میں ایک گھنٹہ تک شدیدترین ژالہ باری اور بارش، پورا علاقہ کشمیر کا منظر پیش کررہا تھا، فصلیں تباہ