جینے کے لیے سوچا ہی نہیں دردسنبھالنے ہونگے! کسان باپ اور دو بچے اپنے کھیت میں جانوروں کی طرح کام کرنے پر مجبور

جینے کے لیے سوچا ہی نہیں درد سنبھالنے ہونگے!

کسان باپ اور دو معصوم بچے اپنے کھیت میں جانوروں کی طرح کام کرنے پر مجبور

وقارآباد/تانڈور: 28۔جولائی(سحرنیوزڈاٹ کام/خصوصی رپورٹ)

کسان!اس ملک کا بدنصیب طبقہ! دن رات اپنے کھیتوں میں جانوروں کی طرح جانوروں کے ساتھ کام کرتا ہے۔کبھی موسموں کی مار تو کبھی ساہوکاروں کا اُدھار اس کی کمر توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔

سال میں دو یا تین فصلوں کی تیاری دیکھ کر خوش ہوجاتا ہے کہ چلو اس سال اپنے گھر کی ٹپکتی چھت کی مرمت کروالے گا یا پھر اپنے بچوں کو نئے کپڑے سلوادے گا یا اپنی بیوی کو کئی سال بعد ایک نئی ساڑی خرید کر دےگا!

لیکن جب فصل مارکیٹ پہنچتی ہے تو سود پر لی گئی رقم، ساہوکار کی جانب سے دلائے گئے بیج، کھاد، جراثیم کش ادویات اور ان سب پر سود کی ادائیگی کے بعد اس کے ہاتھ میں صرف ایک "چٹھی” آتی ہے۔

جس پر منشی اپنے مخصوص رسم الخط میں جو لکھتا ہے اسے خود منشی کے سوا کسان تو کیا ساہوکار تک نہیں پڑھ سکتا،جس نے اس کسان کا حساب برابر کردیا ہو!!

قسمت اچھی رہی تو کسان کے ہاتھ حساب کی ” چٹھی ” کے ساتھ چند نوٹ بھی آجاتے ہیں جس سے مایوس کسان یہ سوچ کر اپنی پھٹی پرانی جیب میں کچھ اس حفاظت سے باندھ لیتا ہے کہ جیب کی سوراخ سے یہ رقم بھی نہ گر جائے۔

گاؤں واپس جانے کیلئے خالی ہاتھ لوٹتا یہ کسان نہ گھر کی چھت کی مرمت کا سامان خرید پاتا ہے، نہ اپنے بچوں کے لیے کپڑے اور نہ اپنی بیوی کے لیے ساڑی!!

ہاں اپنے ساتھ شہر میں سڑک کے کنارے لگی بنڈی سے کچھ گرماگرم تلن کی مرچیں، بھجئے، جلیبی، آدھا درجن موزضرور گاؤں لے جاتا ہے۔

باپ کے شہر سے گاؤں واپس لوٹنے سے مطمئن یہ بچے ان اشیاء کے پالی تھین دیکھ کر خوش ہوجاتے ہیں،جبکہ کسان اپنی بیوی کو سمجھاتا ہے کہ ساہوکار کا سارا قرض ادا ہوگیا۔

اور چند روپئے یہ کہہ کر اس کے ہاتھ میں تھمادیتا ہے کہ صبح جاکر سرکاری راشن کی دُکان سے چاول اور دیگر اشیاء لالے.درحقیقت وہ کھیت میں خود اپنی محنت و مشقت سے اُگایا گیا اعلیٰ قسم کا چاول دانہ دانہ جمع کر کے ساہوکار کو دے آیا ہوتا ہے۔

ضلع وقارآباد میں بھی ایک ایسا ہی کسان خاندان منظر عام پر آیا ہے جن کے پاس کھیت جوتنے، ہل چلانے اور دیگر زرعی کاموں کی انجام دہی کی خاطر نہ بیل (جانور) ہیں اور نہ اتنی رقم ہے کہ مزدوروں کے ذریعہ یہ کام کرواسکیں لہذا کسان باپ اور اسکے تینوں معصوم بچے جانوروں کی جگہ پر جانوروں کی طرح کام کرنے پر مجبور ہیں۔

نرساپور بڑا تانڈہ، موضع مرپلی، ضلع وقارآباد کے ساکن کسان سریش کے پاس کھیت جوتنے، بیج بونے اور دیگر زرعی کاموں کی انجام دہی کے لیے بیل نہیں ہیں. کپاس کی فصل اگانے کے لیے وہ اپنے معاشی مسائل کے سبب مزدوروں کی خدمات لینے سے بھی قاصر ہے۔ کسان نریش کا کہنا ہے کہ فی مزدور روزآنہ اجرت 300 تا 400 روپئے ہے اور وہ مزدوروں کو اتنی اجرت دینے کے موقف میں نہیں ہے۔

اس لیے وہ اپنے دو معصوم بیٹوں سرینواس اور بال سنگھ کے ساتھ مل کر یہ زرعی کام انجام دینے پر مجبور ہے۔جب ان بچوں سے پوچھا گیا کہ اسکول جانے کی عمر میں وہ کیوں اس طرح کی محنت مزدوری کررہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ روز وہ آن لائن کلاسیس میں شرکت کے بعد کھیت پہنچ جاتے ہیں تاکہ ان کے والد کے کام میں ہاتھ بٹاسکیں اور ان کے کام کا بوجھ کم کرسکیں۔

کسان سریش نے بتایا کہ دن بہ دن پیشہ زراعت بہت مہنگا ہوتا جارہا ہے اس کے مقابل فصلوں کی قیمت ان کی محنت و مشقت کے لحاظ سے بہت کم ہے!

کسان سریش نے مزید بتایا کہ کھیت میں کام کروانے بیل خریدی کے لیے ایک لاکھ روپئے چاہئے جو اس کے پاس نہیں ہیں اور دوسری طرف وہ مزدوروں کی اجرت بھی نہیں دے سکتا اس لیے اپنے بچوں کے ساتھ مل کر کھیتی کا کام کررہا ہے۔

ایسی ہی حالت ضلع کے دیگر کئی کسانوں کی ہے۔موضع کوتلاپور کے کسان گوپال ریڈی اور راملو کا بھی تقریباً یہی حال ہے جو جانورخریدنے اور مزدوروں کی خدمات حاصل کرنے کے موقف میں نہیں ہیں تو خود ہی جانوروں کی جگہ ہل کھینچنے اور دیگر زرعی کاموں میں مصروف ہیں۔

حکومت رعیتو بندھو کے ذریعہ باحیات کسانوں کی اور رعیتو بیمہ کے نام پر فوت شدہ کسانوں کے افراد خاندان کی تقدیر بدلنے کے دعوے کرتی رہتی ہے۔ جب کہ زمینی حقائق رؤنگھٹے کھڑے کرنے والے ہیں کہ حکومت، کسانوں کے متعلق لاکھ دعوے اور اعلانات کرے یا اخلاص کے ساتھ واقعی کسانوں کو خود مکتفی بنانے کی کوشش کرے ان اسکیمات کے فوائد کسانوں تک نہیں پہنچ پاتے ہیں۔

یہ ضروری ہوگیا ہے کہ حکومت اس جانب توجہ دے اور کسانوں کے لیے مختص اسکیمات اور بجٹ کسانوں تک راست پہنچاتے ہوئے انہیں راحت دے۔ ورنہ اگر کسان بھی اپنی اس پشتینی محنت اور موجودہ محتاجی سے عاجز آکر اپنا پیشہ چھوڑ کر دوسرا کوئی اور پیشہ اپنانے لگ جائیں تو بریڈ اور ڈبل روٹی ہی عوام کا ناشتہ اور ڈنر ہوگا!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ ماہ ضلع وقارآباد کے ایک کسان جوڑے کی معصوم لڑکی کی رپورٹ بھی سحرنیوزڈاٹ کام پر پیش کی گئی تھی۔

جوار کے بیج بوتے ماں باپ اور سر پر ٹوکری اٹھاکر مدد کررہی کمسن لڑکی
تلنگانہ حکومت کی کسانوں کیلئے کروڑہا روپئے پر مشتمل اسکیمات پر سوالیہ نشان!

اس لنک پر پڑھی جاسکتی ہے:-

زندگی اِدھر آ جا ہم تجھے گزاریں گے!جوار کے بیج بوتے ماں باپ اور سر پر ٹوکری اٹھاکر مدد کررہی کمسن لڑکی