کرناٹک حجاب معاملہ: دلت طلبامسلم طالبات کی تائید میں بلو رنگ کے کھنڈوے پہن کر آگئے،کرناٹک میں احتجاج

کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی!
دلت طلبامسلم طالبات کی تائید میں بلو رنگ کے کھنڈے پہن کر آگئے
کرناٹک کے مختلف مقامات پر مسلمانوں کا احتجاج

بنگلورو: 07۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

بھدراوتی میں کیے گئے احتجاج کا منظر۔

جنوبی کرناٹک کے اضلاع اڑپی،چکمگلوراور ہاسن میں مسلم لڑکیوں کے حجاب پہن کر کالج اور اسکول آنے کے خلاف باقاعدہ ان کالجز کے اکثریتی طبقہ کے طلبا و طالبات اور زعفرانی تنظیموں کی جانب سے آغاز کردہ مخالف حجاب مہم،ان طالبات کوتعلیمی اداروں میں داخلے سے روک دئیے جانے کے بعد حکومت کرناٹک نے ایک سرکیولر جاری کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کو ہدایت دی تھی کی تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ کے علاوہ کسی اور چیز کو پہننے کی اجازت نہ دی جائے۔جس کے خلاف کرناٹک کے مختلف مقامات پر مسلمانوں کا احتجاج جاری ہے۔وہیں آج صبح کنڈا پور کے گورنمنٹ پی یو کالج انتظامیہ نے حجاب پہنی ہوئی طالبات کو کالج میں داخل ہونے کی اجازت دئیے جانے کے ساتھ یہ لزوم عائد کیا گیا کہ وہ تمام علحدہ کلاس رومس میں بیٹھیں گی!!

اسی دؤران آج چکمگلور کے” آئی ڈی ایس جی کالج” میں دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے طلبا مسلم طالبات کے حجاب کی تائید میں”جئے بھیم”کے نعروں کے ساتھ اپنے گلوں میں بلو رنگ کے کھنڈوے پہن کر پہنچ گئے۔حجاب کی حمایت میں آنے والے ان دلِت طلباء کی مخالفت میں ABVP سے تعلق رکھنے والے طلباء جو کہ حجاب کی مخالفت کر رہے ہیں کے درمیان تصادم ہوا۔کشیدہ صورتحال کو ختم کرنے کے لیے کالج انتظامیہ نے مداخلت کی۔

دوسری جانب کرناٹک کے ہی ہاویری کے گورنمنٹ کالج میں اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا(ایس ایف آئی) کے طلبا نے قومی پرچموں کے ساتھ احتجاج منظم کرتے ہوئے حجاب کی تائید کی اور ہندو۔مسلم اتحاد پرمشتمل” ہندو۔مسلم ایک ہیں” کی تائید میں نعرے لگائے۔جبکہ وجئے پورہ کے دو کالجوں شانتیشور اور جی آر بی کالج انتظامیہ نے اپنے کالجوں کے لیے اس وقت دو دن کی تعطیلات کا اعلان کیا ہے جب اکثریتی طبقہ کے طلبا زعفرانی شال اپنے گلوں میں پہن کر کالجوں کو پہنچے تھے۔

یاد رہے کہ جنوبی کرناٹک کے ضلع اُڑپی کے ایک سرکاری پی یو کالج سے 28 ڈسمبر کو مخالف حجاب مہم کا آغاز ہوا تھا۔جہاں کی 6 طالبات کو حجاب پہن کر آنے پر کلاس روم سے نکال دیا گیا تھا۔یہ طالبات بدستور کالج پہنچتی رہیں لیکن انہیں کلاس روم میں داخلہ سے روک دیا گیا تھا یہ طالبات 31 جنوری کو کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع ہوئی ہیں جس کی سماعت کل 8 فروری بروز منگل کو ہونے والی ہے۔

جنوبی کرناٹک اڑپی، چکمگلور، ہاسن، کنداپور کے ایک درجن سے زائد سرکاری اور خانگی کالجوں میں مسلم لڑکیوں کی جانب سے حجاب پہن کر کالجز کو آنے کے خلاف احتجاج اور حکومت کرناٹک کی جانب سے ڈریس کوڈ کے نفاذ کے خلاف ریاست کرناٹک کے کئی مقامات پر مسلم تنظیموں کا احتجاج بھی زروروں پر ہے۔زعفرانی تنظیموں کی جانب سے حجاب مخالف مہم کے لیے طلبہ کے استعمال اور حکومت کے اقدامات کو مذہبی آزادی میں مداخلت اور دستور ہند میں دئیے گئے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جارہا ہے۔

کرناٹک کے مختلف مقامات پر اس کے خلاف مسلمانوں کا احتجاج جاری ہے۔آج شاہ پور اور ہاسن میں مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا۔جبکہ بیلگاؤں میں کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کی جانب سے بھی احتجاج منظم کرتے ہوئے طالبات کے حجاب پہننے کو مسلمانوں کا مذہبی اور دستوری حق قرار دیا۔کرناٹک میں جاری اس احتجاج میں کثیرتعداد میں برقعہ پوش خواتین،طالبات،نوجوان شریک ہورہے ہیں۔