جن کا پیشہ ہو مسائل کی تجارت کرنا
کب وہ چاہیں گے کوئی مسئلہ حل ہوجائے!!
لتا منگیشکر کو خراج کے دؤران شاہ رخ خان کی پھونک کو تھوک بتاکر
میڈیا اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم ،ایک بڑا طبقہ شاہ رخ خان کی تائید میں
ایک اور طبقہ اپنے طریقہ سے اداکار کی مذمت اور تائید میں مصروف!!
ممبئی:07۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ممبئی کے شیواجی پارک میں کل شام مکمل سرکاری اعزازات کے ساتھ لتامنگیشکر کی آخری رسومات ادا کی گئیں جس میں وزیراعظم نریندر مودی،اداکار عامر خان،شاہ رخ خان اور کرکٹر سچن ٹنڈولکر سمیت کئی سیاسی و فلمی شخصتیں شریک تھیں۔
اس موقع پر اداکار شاہ رخ خان اور ان کی مینجئر پوجا ددلانی نے بھی لتا منگیشکر کی نعش کو اپنے اپنے مذاہب کے طریقہ سے خراج پیش کیا۔
اس موقع پر لی گئیں تصاویر اور ویڈیوز کا کل رات سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر سیلاب آیا ہوا ہے۔دراصل شاہ رخ خان نے دعا کے وقت اٹھائے جانے والے ہاتھوں کے انداز میں دعا کی تو ان کے قریب کھڑی ہوئیں ان کی مینجئر پوجا ددلانی نے ہندو رسم و رواج کے مطابق اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر پرارتھنا کی۔بعد ازاں شاہ رخ خان نے اپنے چہرہ سے ماسک ہٹاکر لتامنگیشکر کی نعش پر پھونک ماری ساتھ ہی شاہ رخ خان اور ان کی مینجئر پوجا ددلانی نے نعش کے پیر چھوئے۔!!

ملک کے چند مشہورصحافیوں،سابق فوجی عہدیداروں،مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی نامورشخصیتوں، کھلے ذہن اور سیکولر سوچ کے حامل سوشل میڈیا صارفین اس موقع پر لی گئیں شاہ رخ خان کی تصاویر کو بڑی تعداد میں شیئر کرتے ہوئے لکھ رہے ہیں کہ”یہ ہے اصلی ہندوستان”!!۔
وہیں وہ طاقتیں جو اس ملک کے مسلمانوں کو ہمیشہ ویلن بناکر پیش کرنے کے لیے موقع کی تلاش میں رہتی ہیں شاہ رخ خان کے اس ویڈیو اور تصاویر کو وائرل کرتے ہوئے لکھا کہ” شاہ رخ خان نے اپنے چہرہ سے ماسک ہٹاکر پھونک نہیں ماری بلکہ نعش پر تھوکا ہے!!اس سلسلہ میں ٹوئٹر پر ارون یادو Arun Yadav@ کے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل پر جو کہ ہریانہ اسٹیٹ بی جے پی انفارمیشن ٹکنالوجی ڈپارٹمنٹ کے انچارج ہیں نے گزشتہ رات شاہ رخ خان کے اس ویڈیو کو پوسٹ کرتے ہوئے سوالیہ نشان کے ساتھ لکھا کہ” کیا اس نے تھوکا ہے؟”
اس نفرت انگیز ٹوئٹ کو 4،529 صارفین نے”ری ٹوئٹ” کیا اور 13،600 نے لائیک کرتے ہوئے 3،500 کمنٹ کیے۔اس ویڈیو کو دیگر نے بھی اپنے اپنے حساب سے نفرت پھیلانے کی غرض سے ٹوئٹ کرتے ہوئے باقاعدہ ایک مہم چلائی۔اس کے بعد ٹوئٹر کے علاوہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس مذموم مہم کو چلایا گیا۔جس پر Fact Check@ نے ٹوئٹر پر اسی ویڈیو کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ” نہیں شاہ رخ خان نے لتامنگیشکر کی نعش پر نہیں تھوکا”۔
ارون یادو کے اس ٹوئٹ پر شدید مذمتی کمنٹس کیے گئے۔جس پر ونئے کمار ڈوکنیا Vinay Kumar Dokania@نے اپنے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل سے کمنٹ کیا ہے کہ ” تمہارے ماں باپ کو،تمہارے ماں باپ ہونے پر آج بہت افسوس ہوا ہوگا ؟”
وہیں شریمی ورما Shreemi Verma@ نے اپنے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل سے اس پوسٹ پر کیے گئے اپنے کمنٹ میں لکھا کہ”شرم کر حرامی”۔
جبکہ اسی ٹوئٹ پر پنکج راج پروہت نے کمنٹ کیا ہے کہ”میں بی جے پی کا سپورٹر ہوں،کبھی آپ اپنے دماغ کا استعمال کریں،ملک میں مذہب کے نام پر گندگی مت پھیلاؤ، وہ دعا کے بعد پھونک رہے ہیں”۔ارون یادو کے اس ٹوئٹ پر کئی ٹوئٹر صارفین نے ان کی مختلف انداز میں مذمت کی ہے۔
معاملہ یہیں تک نہیں رکا اس کے ساتھ زعفرانی اور نفرتی نیوز چینل” سدرشن ٹی وی” کے”سریش چوہانکے” نے تو باقاعدہ اس ویڈیو کے ساتھ ایک لائیو پروگرام کردیا۔جس میں ناظرین کو کال کرکے اپنا خیال پیش کرنے کے لیے کہا۔اس لائیو پروگرام کے دؤران ایک کالر نے کال کرکے اس نفرتی ذہن کے چوہانکے سے کہا کہ” لتامنگیشکر کی فیملی جو اس وقت آپ کے اس پروگرام کو دیکھ رہی ہوگی،وہ ضرور آپ کی شکل پر تھوک رہی ہوگی”۔جس کے فوری بعد چینل نے اس شخص کا لائیو کال کاٹ دیا۔
اس ملک میں گزشتہ چند سال سے ایک مخصوص ذہنیت کے لوگ ہندو۔مسلم نفرت پھیلانے میں بازی لے جانے میں مصروف ہیں۔سوشل میڈیا اور میڈیا کے کئی پلیٹ فارمز اس کام کو ایک ذمہ داری کے ساتھ کررہے ہیں۔یہ لوگ چاہتے ہی نہیں ہیں کہ ہندو۔مسلم نفرت کی کھائی اور خلیج کم ہو! ملک میں امن ہو اور تمام شہری پرسکون ماحول میں جی سکیں۔
کبھی لؤجہاد کے نام سے تو کبھی کورونا جہاد کے نام سے یہ لوگ روز نفرت کا کاروبار کرنے میں مصروف ہیں۔کبھی مسلمانوں کے کھانے پینے پر اعتراض تو کبھی کھلی جگہوں پر نمازوں کی ادائیگی پر احتجاج،کبھی مسلم ہوٹل مالکین،ٹھیلہ بنڈی رانوں پر ظلم، تو کبھی گائے کے نام پر موب لنچنگ،مسلم لڑکیوں کے حجاب پہن کر اسکولز اور کالجز آنے پر ان کی مخالفت!
دوسری جانب شاہ رخ خان کے اس معاملہ پر سوشل میڈیا کے خودساختہ مفتی، دانشور اور مفکران قوم بھی اپنے اپنے حساب سے مذمت اور تائید میں مصروف ہیں۔
یہ”سدا کامنقسم اور اہل تذبذب فرقہ” سے تعلق رکھنے والے لوگ سوال کررہے ہیں کہ جنازوں پر پھونکنے والی دعا آخر کونسی ہوتی ہے جس سے وہ اب تک واقف نہیں ہیں!!
آپس میں ایک دوسرے کو کافر،جہنمی،خارج از اسلام ہونے کی سند دینے والے یہ خودساختہ سوشل میڈیا کے شیروں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر ایک اور گروپ یہ کہہ رہا ہے کہ اس معاملہ میں شاہ رخ خان کی تعریف کریں کہ لاکھوں کے مجمع اور دنیا بھر کے ٹیلی ویژن پر لائیو کوریج کے دؤران بھی شاہ رخ خان نے دعائیہ طریقہ پر اپنے ہاتھ اٹھاکر یہ پیغام دے دیا کہ وہ مسلمان ہے!ورنہ وہ بھی اپنی مینجئر پوجا ددلانی کی طرح ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوجاتے تو خود یہی فرقہ اعتراضیہ کے لوگ اس وقت بھی ان پر یہ کہہ کر تنقید کررہے ہوتے کہ ایک مسلمان ہوکر غیرمسلموں کے طریقہ پر عمل کیا!!
بہر حال ملک اور عوام کو درپیش سنگین مسائل سے عوام کادھیان بھٹکانے اور آپس میں الجھائے رکھنے کے لیے روز ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔اور ہم دن رات سوشل میڈیا پر مصروف کردئیے جاتے ہیں!یاد رکھیں کسی بھی معاملہ میں مخالفت یا تائید کا سب کومساوی حق حاصل ہوتاہے۔لیکن اس کا سب سے بہتر جواب اور بدلہ خاموشی مانا جاتا ہے!! نفرت پھیلانے والوں کو اپنا کام کرنے دیں کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ محبت ہر دؤر میں جیتی ہے اور ہر دؤر میں نفرت جس کی عمر بہت کم ہوتی ہے کا مقدر ذلیل و خوار ہونا ہی رہا ہے!
شاعر جمالی نے کبھی کہا تھا کہ :-
جن کا پیشہ ہو مسائل کی تجارت کرنا
کب وہ چاہیں گے کوئی مسئلہ حل ہوجائے

