مجازؔ کو خبر کرو کہ ہماری بچیوں نے آنچل کو پرچم بنالیا ہے!رشید ودود

” مجازؔ کو خبر کرو کہ ہماری بچیوں نے آنچل کو پرچم بنالیا ہے! "
تمہاری آواز پر وطن عزیز کا انصاف پسند طبقہ تمہارے ساتھ کھڑا ہے

تحریر: رشید ودود

ہندوستان کی بیٹیو! خدا تمہارے عزم کو سلامت رکھے،تم لوگ اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھنا،ہندوستان کا انصاف پسند طبقہ تمہارے ساتھ ہے،تمہارے حق میں آواز اٹھا رہا ہے،وہ سیکولرزم جو آج ہندوؤں اورمسلمانوں دونوں میں گالی کا درجہ اختیار کرچکا ہے،آج اُسی کی دہائی دی جا رہی ہے۔

دیویو! سیکولرزم کمزور ضرور ہوچکا ہے لیکن ختم نہیں ہوا ہے،ہم اُسےختم ہونے بھی نہیں دیں گے،ملت کی بیٹیو!سیکولرزم اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ تمہیں تمہارے بنیادی حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔لیکن اب دیکھو نا!یہ اُسی کمزور سیکولرزم کا کرشمہ ہے کہ تم پوری قوت سے احتجاج بھی کررہی ہو،تمہاری آواز پر وطن عزیز کا انصاف پسند طبقہ تمہارے ساتھ کھڑا ہے،تم لوگ پڑھی لکھی ہو ،تم جانتی ہو کہ ہمارے دیش کو ایک دھارمک دیش میں بدلنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

خدانخواستہ اگر یہ کوشش کامیاب ہو گئی تو جانتی ہو کیا ہوگا؟تمہیں احتجاج کا حق بھی نہیں ملے گا،تمہاری آواز تمہارے گلے ہی میں گھٹ کر رہ جائے گی،تمہاری آواز دبا دی جائے گی۔اس لیے میری بہنو! تم لگی رہو،تم لڑتی رہو اپنے لیے اور اپنے بعد آنے والوں کیلئے،تمہیں کامیاب ہونا ہی ہے،اس لیے کہ تم اپنے لیے نہیں لڑ رہی ہو،دستور کے لیے لڑ رہی ہو،فرد کی آزادی کیلئے لڑ رہی ہو،قانون کی بحالی اور بالادستی کے لیے لڑ رہی ہو،اُس ہندوستانی سیکولرزم کے لیے لڑ رہی ہو جو لباس کی وجہ سے کسی انسان کے بنیادی حق کو معطل نہیں کرتا۔

میری بہنو! شکر ادا کرو کہ تم ہندوستان میں ہو،یہاں کا سیکولر طبقہ تمہاری مخالفت نہیں تمہاری حمایت کررہا ہے،اگر مصر کی طرح یہاں بھی کوئی علی عبدالرزاق جیسا ” سیکولر” ہوتا تو وہ تمہارے پردے کو فرسودہ کہہ کر آج تمہارے پردے کا مذاق اڑا رہا ہوتا۔

شکر ادا کرو کہ یہاں کے دھارمک لوگوں میں کوئی پردہ کے مصنف جیسا بے رحم نہیں ہے،نہیں تو وہ بھی یہی کہتا کہ ہم نے اسلامی ملک بنایا ہے تم رام راجیہ بنا لو،دستور ہند اور ہندوستانی سیکولرزم نے مودی جیسے فاشسٹ کے بھی ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔ورنہ یہ مصطفیٰ کمال پاشا بننے میں ایک منٹ کی بھی دیر نہ لگائے!!

تمہارے اوپر تو آج یہ آفت آئی ہے،ترکی کا وزیراعظم بھی کبھی اس قدر مجبور تھا کہ وہ اپنی بچیوں کو بیرون ملک پڑھا رہا تھا اس لیے کہ ترکی میں حجاب پر پابندی تھی۔

تو میری بہنو! ابھی ہندوستان میں اتنا برا وقت نہیں آیا،آئے گا بھی نہیں اس لیے کہ ابھی دستور باقی ہے،تمہیں پڑھنے سے روکا نہیں جا رہا ہے بلکہ تمہارے ذریعے ملک کی نبض ٹٹولی جا رہی ہے کہ ملکی باشندے دستور کے لیے سنجیدہ ہیں یا نہیں؟

 

تم صرف اپنی لڑائی نہیں لڑ رہی ہو بلکہ ان ہندو عورتوں کی بھی لڑائی لڑ رہی ہو جو فرد کی آزادی کے لیے کوشاں ہیں،تمہیں سُوَاتی کھنا تو یاد ہی ہوگی،قانون کی وہی طالبہ جس نے سی اے جیسے کالے قانون پر جم کر اپنی مخالفت درج کرائی تھی۔سواتی نے کہا تھا کہ اگر یہ ملک ہندو راشٹر ہو گیا تو سب سے پہلے ہم عورتوں کو جھیلنا پڑے گا۔ہم سے کہا جائے گا کہ تم یہ پہنو،تم یہ نہ پہنو،تم تو دیویاں ہو، میری بچیو! اُس سواتی نے بھی تمہارے حق میں پوری قوت سے اپنی آواز کو بلند کیا ہے۔

میری بہنو! تمہیں آج ایک وعدہ کرنا ہوگا،تم ہماری نسلوں کی امین ہو،تم وعدہ کرو کہ تمہارے بچے قانون کے جانکار ہوں گے،اس لیے کہ مستقبل میں ہمیں ایسے افراد کی ضرورت ہے جو قانون کی لڑائی لڑ سکیں،جو مظلوموں کو ان کا حق دلائیں،جو دستور کے لیے لڑ سکیں۔ تم ایک وعدہ اور کرو کہ تمہارے بچے سیکولرزم پر بھی یقین رکھنے والے ہوں گے،اس کا مذاق اڑانے والے نہیں ہوں گے۔اس پر شک و شبہ نہیں ظاہر کریں گے،تمہارے بچے ہندوستانی سیکولرزم کو سمجھنے والے ہوں گے!

میری بیٹیو! تمہارے بڑے سیکولرزم کا نام سنتے ہی وحشی ہرن کی طرح بدک جاتے ہیں،وہ دنیا جہان کے لغات کا سہارا لے کر بتلاتے ہیں کہ سیکولرزم کا معنی لادینیت ہے!!

اے کاش کہ کبھی وہ ہندوستانی سیکولرزم کو دستور کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں،یہ اہم نہیں ہے کہ سیکولرزم کا معنی آکسفورڈ پریس کے لغت نے کیا بتلایا ہے،اہم یہ ہے کہ دستور ہند،جواہر لال نہرو،رادھا کرشنن اور سید عابد حسین نے سیکولرزم کا کیا معنی بتلایا ہے۔اہم یہ نہیں ہے کہ سیکولرزم نے مغرب کا کیا حال کیا؟ اہم یہ ہے کہ ہندوستانی سیکولرزم نے کیسے انصاف کی فراہمی کو یقینی بتلایا ہے۔

اس لیے میری بچیو! تمہیں ایسے افراد پیدا کرنے ہیں جو ہندوستانی سیکولرزم کو سمجھنے والے ہوں-
میری بچیو!غم نہ کرو،پریشان نہ ہو،تمہیں ڈٹے رہنا ہے اس لیے کہ کامیابی ڈٹنے والوں ہی کو ملتی ہے،شاہین باغ کی خواتین اگر پورے ملک کا مزاج تبدیل کرسکتی ہیں،اپنی تحریک کے بطن سے کئی تحریکیں پیدا کرسکتی ہیں تو تم بھی ایسا کر سکتی ہو۔

ہمیں یقین ہے کہ یہ وقتی مسائل تمہارے قدموں میں لغزش نہیں پیدا کریں گے،ہم جانتے ہیں کہ تم لوگ رجائی ہو،اگر قنوطی ہوتیں تو اپنے گھر میں بیٹھ جاتیں،تم جانتی ہو کہ اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا اس لیے کہ ہر شر میں خیر ہوتا ہے۔اب زیادہ کیا لکھوں،تھوڑے لکھے کو زیادہ جانو اور” چک دے انڈیا!” حقا کہ ہم جیتیں گے۔

٭٭٭٭٭

ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تو اس آنچل سے اِک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

یہ شعر اسرارالحق مجاز کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ماتھے پہ آنچل ہونے کے کئی معنی ہیں۔مثلاً شرم وحیا ہونا، اقدار کا پاس ہونا وغیرہ اور ہندوستانی معاشرے میں ان چیزوں کو عورت کا زیور سمجھا جاتا ہے۔

مگر جب عورت کے اس زیور کو مرد اساس معاشرے میں عورت کی کمزوری سمجھا جاتا ہے تو عورت کی شخصیت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

شاعر نے اسی حقیقت کو اپنے شعر کا مضمون بنایا ہے۔شاعر عورت سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ ” اگرچہ تمہارے ماتھے پر شرم و حیا کا آنچل خوب لگتا ہے مگر اسے اپنی کمزوری مت بنا۔وقت کا تقاضا ہے کہ تم اپنے آنچل سے انقلاب کا پرچم بنا اور اپنے حقوق کے لیے اس پرچم کو بلند کرو”۔ (بشکریہ: ریختہ)

 

کرناٹک کے اُڑپی، کنداپور اور چکمگلور میں مسلم طالبات کے حجاب پہن کر کالجوں کے آنے کے خلاف چلائی گئی مہم کی مکمل تفصیلات اس لنک کو کلک کرکے پڑھی جاسکتی ہیں۔ 

کرناٹک میں "حجاب مخالف مہم ” کی آگ دیگر کالجوں تک پہنچ گئی، طلبہ کا جئے شری رام اور بھارت ماتا کی جئے کے نعروں کے ساتھ احتجاج