جیون کامطلب تو آنا اور جانا ہے
دو پل کے جیون سے ایک عمر چُرانی ہے
بلبلِ ہند،سُروں کی ملکہ لتامنگیشکر کا انتقال موسیقی کی دنیا کا ناقابل تلافی نقصان
آٹھ دہائیوں تک اردو کی چاشنی کے ذریعہ فلمی نغموں کو لازوال بنادیا
ممبئی: 06 ۔فروری (سحرنیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)
بلبلِ ہند،سُروں کی ملکہ لتامنگیشکر اب جبکہ ہمارے درمیان نہیں رہیں لیکن ان کے گائے ہوئے لازوال نغموں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ان کے انتقال سے موسیقی کی دنیا کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔لتامنگیشکر زائد از آٹھ دہائیوں (80 سال) تک زیادہ تر اردو زبان کی چاشنی میں لپیٹے ہوئے فلمی نغموں کے ذریعہ انہیں لازوال بنادیا۔ان کی سُریلی آواز کی وجہ سے لتامنگیشکر کو بھارت کی بلبل کا خطاب دیا گیا تھا۔
92 سالہ سُروں کی ملکہ لتامنگیشکر کے 8 جنوری کو کوروناوائرس اور نمونیہ سے متاثر ہونے کے بعد سے ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں زیرِ علاج تھیں۔26 جنوری کو ان کی حالت میں بہتری پر وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیاتھا جس کے بعد سے وہ آئی سی یو میں تھیں،کل حالت بگڑنے پر انہیں دوبارہ وینٹی لیٹر پرمنتقل کیا گیا تھا۔جن کا آج صبح 15-8 بجے انتقال ہوگیا۔

ممبئی کے شیواجی پارک میں آج شام سرکاری اعزازات کے ساتھ لتامنگیشکر کی آخری رسومات ادا کی گئیں جس میں وزیراعظم نریندرمودی ،اداکار عامر خان، شاہ رخ خان اور کرکٹر سچن ٹنڈولکر سمیت کئی سیاسی و فلمی شخصتیں شریک تھیں۔ملک میں دو روز کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔قبل ازیں لتامنگیشکر کی موت پر صدر جمہوریہ، وزیراعظم کے علاوہ مختلف ریاستوں کے وزرائےاعلیٰ، مرکزی و ریاستی وزرا، فلمی شخصیتوں کے بشمول دیگر نامور شخصیتوں نے اپنے تعزیتی پیامات جاری کیے تھے۔
لتامنگیشکر کو 1969 میں پدمابھوشن، 1989 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ،1997 میں مہاراشٹرا بھوشن ایوارڈ،1999 میں پدم وبھوشن،2001 میں بھارت رتن سے سرفراز کیا گیا تھا۔لتامنگیشکر کو متعدد فلم فیئر ایوارڈز بھی حاصل ہوئے تھے۔
وہ ہندوستانی سنیما کی ایک مشہور، قابل احترام اور غیر متنازعہ شخصیت مانی جاتی تھیں۔جنہوں نے ہندی فلموں کی ایک وسیع فہرست کے لیے اپنی آواز دی تھی۔انہوں نے بشمول مراٹھی،بنگالی،ملیالی،تمل،تلگو،کنڑا سمیت 36 ہندوستانی علاقائی زبانوں میں بھی گانے گائے تھے۔جبکہ جگجیت سنگھ اور دیگر غزل گلوکاروں کے ساتھ البم بھی بنائے تھے۔لتامنگیشکر نے مختلف زبانوں میں زائد از 30،000 گیت گائے ہیں جن میں ہندی فلموں کے لیے 20،000 سے زائد نغمے، گیت، غزل اور بھجن شامل ہیں۔
دنیا بھر میں جہاں جہاں فلمی نغموں اور اردو کے چاہنے والے موجود ہیں وہ آج لتامنگیشکر کے انتقال سے غم میں ڈوبے ہوئے ہیں۔لتا منگیشکر کے گیت،ان کے نغمے اور سُر کبھی فراموش نہیں کیے جا سکیں گے۔لتامنگیشکر کی موت دنیا بھر میں ان کے پرستاروں کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے۔لتامنگیشکر اردو زبان کی چاشنی سے بہت متاثر تھیں اور گائیکی کے دؤران گیتوں کے الفاظ کی ادائیگی کا خاص خیال رکھتی تھیں۔
لتامنگیشکر زائداز 80 سال تک سُروں کی دنیا پر حکومت کرتی رہیں۔ان کی آواز کا جادو آج بھی جوں کا توں قائم ہے۔بالی ووڈ پر لتامنگیشکر کا راج ان کی زندگی تک قائم رہا۔اس درمیان دوسری کئی گلوکارائیں آئیں جن کی اپنی آواز،اپنا انداز اور اپنی پہچان رہی لیکن لتامنگیشکر کا مقام کسی کو بھی حاصل نہیں ہوپایا۔
لتا منگیشکر 28 ستمبر 1928 کو دینا ناتھ منگیشکر اور شیوانتی منگیشکر کے گھر مدھیہ پردیش کے اندور میں پیدا ہوئی تھیں۔ان کا نام ہیما رکھا گیا تھا بعد میں ان کے والد نے ان کے نام کو لتا منگیشکر میں تبدیل کردیا۔لتامنگیشکر جملہ پانچ بہنوں اور ایک بھائی میں سب سے بڑی تھیں۔جن میں مشہور گلوکارہ آشا بھونسلے کے علاوہ مینا کھادیکر،اوشا منگیشکر اور بھائی ہردئے ناتھ منگیشکر شامل ہیں۔وہ غیرشادی شدہ تھیں۔
لتامنگیشکر نے اپنا پہلا گانا 13 سال کی عمر میں وسنت جوگلیکر کی مراٹھی فلم” حسال کے لیے ریکارڈ کروایا تھا۔اپنے والد کے انتقال کے بعد اپنے خاندان کی کفالت کے لیے جدوجہد کر رہیں لتامنگیشکر 1945 میں باقاعدہ طور پر ہندی فلم انڈسٹری میں کام کی تلاش ممبئی منتقل ہوئیں۔
لتامنگیشکر نے 1946 میں فلم آپ کی سیوا میں کے لیے کلاسیکل موسیقی کی تعلیم” استاد امان علی خان،بھنڈی بازار گھرانہ” بمبئی سے حاصل کی۔1948 میں موسیقار غلام احمد نے لتا منگیشکر کی سرپرستی اور رہنمائی کی۔1949 میں لتامنگیشکر نے پروڈیوسر ششادھر مکھرجی کی فلم "انداز ” میں گیت گایا جس کے بول تھے "اٹھائے جا ان کے ستم”۔
یہیں سے لتامنگیشکر نے ہندی فلم انڈسٹری میں اپنی پہچان قائم کی۔لتامنگیشکر نے اپنے اپنے وقت کی بڑی اداکاراؤں نرگس اور وحیدہ رحمن سے لے کر مادھوری ڈکشٹ،ایشوریہ رائے تک کو اپنی آواز دی۔لتامنگیشکر نے غلام احمد سے لے کر اے آر رحمٰن تک ہندی فلمی دنیا کے تمام مشہور موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔
انہوں نے مختلف راگوں کے ساتھ فلمی دنیا کے عظیم موسیقار نوشاد کے ساتھ فلم دیدار 1951،بیجوباورا 1952،امر 1954،اڑن کھٹولا 1955، مدر انڈیا 1957 کے گیت گائے۔موسیقار جوڑی شنکر جئے کشن نے لتامنگیشکر سے اپنی فلموں برسات 1949،آہ 1953،شری 420 (1955)اور فلم چوری چوری 1956 کے لیے گیت ریکارڈ کروائے۔موسیقار ایس ڈی برمن کی فلموں سزا 1951،ہاوز نمبر44(1955) اور دیوداس 1957 کے لیے لتامنگیشکر نے گیت گائے۔
سال 1960، 1970 اور 1980 میں فلمی گانوں کے لیے لتامنگیشکر کا سنہرا دؤر مانا جاتا ہے۔جس کے دؤران انہوں نے ایک سے بڑھ ایک گیت گاتے ہوئے معیاری گیتوں کے دلدادہ فلمی شائقین کے دلوں پر قبضہ کرلیا تھا۔1960 میں بنی شہرہ آفاق فلم مغل اعظم کا وہ گانا "پیار کیا تو ڈرنا کیا جب” ہو یا پھر فلم دل اپنا اور پریت پرائی کا وہ گیت”عجیب داستاں ہے یہ، کہاں شروع کہاں ختم” ہو۔ان دونوں نغموں کو مدھو بالا اور مینا کماری پر فلمایا گیا تھا۔
لتا منگیشکر نے حب الوطنی پر مبنی گانا”ائے میرے وطن کے لوگو،زرا آنکھ میں بھرلو پانی،جو شہید ہوئے ہیں ان کی زرا یاد کرو قربانی” کے ذریعہ اس وقت کے وزیراعظم جواہرلال نہرو سمیت ملک کے عوام کی آنکھوں میں آنسو بھردئیے تھے۔جسے کوی پردیپ نے لکھا اور اس گانے کو سی۔رام چندر نے موسیقی سےسجایا تھا۔
لتا منگیشکر کی تنہا آواز اور اپنے ساتھی گلوکاروں محمدرفیع،مکیش،کشورکمار،سریش واڈیکر،محمدعزیز،شبیر کمار،کمار شانو اور دیگرکے ساتھ گائے ہوئے چند مقبول گیت یہاں پیش ہیں :-
٭٭ ہوا میں اڑتا جائے میرا لال دوپٹہ ململ کا
٭٭ برسات میں ہم سے ملے تم ، تم سے ملے ہم ”
٭٭ جیا بے قرار ہے چھائی بہار ہے
٭٭ چھوڑ گئے بالم ، ہائے اکیلا چھوڑ گئے
٭٭ بچھڑے ہوئے پردیسی ایک بار تو آنا تو
٭٭ راجہ کی آئے گی بارات، رنگیلی ہوگی رات
٭٭ پیار ہوا اقرار ہوا ہے پیار سے پھر کیوں ڈرتا ہے دل
٭٭ رامیا وستا ویا ، میں نے دل تجھ کو دیا
٭٭ آجا صنم مدھر چاندنی میں ہم
٭٭ عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
٭٭ جانا تھا ہم سے دور بہانے بنالیے
٭٭ دل اپنا اور پریت پرائی کس نے ہے یہ رِیت بنائی
٭٭ جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑگا
٭٭ میرے محبوب تجھے میری محبت کی قسم
٭٭ ہردل جو پیا کرے گا وہ گانا گائے گا
٭٭ او میرے صنم او میرے صنم دو جسم مگر ایک جان ہیں ہم
٭٭ ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح
٭٭ تیرے بنا زندگی سے کوئی شکوہ تو نہیں
٭٭ تیرا ساتھ ہے تو مجھے کیا کمی ہے
٭٭ تیرے میرے بیچ میں کیسا ہے یہ بندھن انجانا
٭٭ ہم بنے تم بنے ایک دوجے کے لیے
٭٭ سولہ برس کی بالی عمر کو سلام
٭٭ میں نہ بھولوں گی
٭٭ پھول آہستہ پھینکو ،پھول بڑے نازک ہوتے ہیں
٭٭ لو آگئی ان کی یاد وہ نہیں آئے
٭٭ یارا سلی سلی
٭٭ میں کا کروں رام مجھے بڈھا مل گیا
٭٭ تم آگئے ہو نور آگیا ہے ،نہیں تو چراغوں سے لؤ جارہی تھی
٭٭ لگ جا گلے کہ پھر یہ حسیں رات ہو نہ
٭٭ جو ہم نے داستاں اپنی سنائی آپ کیوں روئے
٭٭ اجی روٹھ کر اب کہاں جائیے گا
٭٭ ایک پیار کا نغمہ ہے موجوں کی روانی ہے ،زندگی اور کچھ بھی نہیں تیری میری کہانی ہے
٭٭ محبت بڑے کام کی چیز ہے
٭٭ زندگی کی نہ ٹوٹے لڑی ،پیار کرلیں گھڑی دو گھڑی
٭٭ دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے
٭٭ بات چھڑی رات بات پھولوں کی
٭٭ ہمیں اور جینے کی خواہش نہ ہوتی اگر تم نہ ہوتے
٭٭ ائے دل ناداں ، ائے دل ناداں آرزو کیا ہے
٭٭ دکھائی دئیے یوں کہ بے خود کیا
٭٭ بے دردی بالماں تجھ کو میرا من یاد کرتا ہے
٭٭ آج پھر جینے کی تمنا ہے،آج پھر مرنے کا ارادہ ہے
٭٭ پردیسیو ں سے نہ اکھیاں ملانا
٭٭ تو جہاں جہاں چلے گا،میرا سایہ ساتھ ہوگا
٭٭ ساون کا مہینہ پون کرے شور
٭٭ جینا ہم کو راس نہ آیا
٭٭ پھول تمہیں بھیجا ہے خط میں
٭٭ بندیا چمکے گی چوڑی کھنکے گی
٭٭ چھپ گئے سارے نظارے اوئی کیا بات ہوگئی
٭٭ بابل پیارے
٭٭ چلتے چلتے یونہی کوئی مل گیا تھا
٭٭ موسم ہے عاشقانہ
٭٭ چلو دلدار چلو چاند کے پار چلو
٭٭ دل تو ہے دل ،دل کا اعتبار کیا کیجئے
٭٭ سلام عشق میری جان زرا قبول کرلو
٭٭ دشمن نہ کرے دوست نے وہ کام کیا ہے،عمر بھر کا غم ہمیں انعام دیا ہے
٭٭ من کیوں بہکا رے بہکا آدھی رات کو
٭٭ زندگی ہر قدم ایک نئی جنگ ہے
٭٭ سن سائبا سن پیار کی دھن
٭٭ تم سے مل کر نہ جانے کیوں اور بھی کچھ یاد آتا ہے
٭٭ زحال مستی مکن برنجش بہ حال ہجراں بیچارہ دل ہے
٭٭ وہ جب یاد آئے بہت یاد آئے
٭٭ اہلِ دِل یوں بھی نبھا لیتے ہیں
٭٭ پت جھڑ ساون ،بسنت بہار
٭٭ میرے ہاتھوں میں نو نو چوڑیا ں ہیں
٭٭ آ میری جان میں تجھ میں اپنی جان رکھ دوں
٭٭ آجا شام ہونے آئی،موسم نے لی انگڑائی
٭٭ دل دیوانہ بن سجنا کے مانے نہ
٭٭ اور بھلا کیامانگوں میں رب سے
٭٭ میں ہوں خوش رنگ حنا
٭٭ ہم کو ہمیں سے چرالو
٭٭ دنیا میں کتنی ہیں نفرتیں
ترتیب و پیشکش: یحییٰ خان
Mail: khanreport@gmail.com
ان لنکس کوکلک کر کے آپ مضمون نگار کو فالو کر سکتے ہیں
facebook: https://www.facebook.com/khanyahiya276
Instagram : https://www.instagram.com/khan_yahiya276/

