حلقہ پارلیمان چیوڑلہ پر بی جے پی کا قبضہ، کونڈا وشویشور ریڈی کامیاب، کانگریس کے امیدوار رنجیت ریڈی کو دیڑھ لاکھ سے زائد ووٹوں سے شکست

حلقہ پارلیمان چیوڑلہ پر بی جے پی کا قبضہ، کونڈا وشویشور ریڈی کامیاب
کانگریس کے امیدوار رنجیت ریڈی کو دیڑھ لاکھ سے زائد ووٹوں سے شکست

حیدرآباد/وقارآبا: 04۔جون
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

ریاست تلنگانہ کے حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سے بی جے پی امیدوار کونڈا وشویشور ریڈی نے اپنے قریبی حریف کانگریس پارٹی کے امیدوار اور موجودہ رکن پارلیمان ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی کو ایک لاکھ 78 ہزار 968 ووٹوں کی ریکارڈ اکثریت سے شکست دے دی جن میں بیالٹ ووٹ بھی شامل ہیں۔

لوک سبھا انتخابات کے لیے ریاست میں 13 مئی کو ایک مرحلہ میں ہونےوالی رائے دہی میں حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں شامل رنگاریڈی ضلع کے اسمبلی حلقہ جات مہیشورم، راجندرنگر، چیوڑلہ اور سیری لنگم کے علاوہ وقارآباد ضلع کے تین اسمبلی حلقہ جات وقارآباد، تانڈور اور پرگی کے جملہ 16 لاکھ 76 ہزار 564 رائے دہندوں نے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا تھا۔

آج چیوڑلہ کے بنڈاری سرینواس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں صبح 8 بجے سے رٹرننگ آفیسر حلقہ پارلیمان چیوڑلہ و کلکٹرضلع رنگاریڈی مسٹر کے۔ششانک کی نگرانی میں رائے شماری کا آغاز ہوا۔شام دیر گئے تک ہونے والی اس رائے شماری میں بی جے پی امیدوار کونڈا وشویشور ریڈی نے جملہ 8 لاکھ 9 ہزار 882 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔

جبکہ ان کے حریف کانگریسی امیدوار ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی جو کہ اس حلقہ سے موجودہ رکن پارلیمان بھی ہیں نے 6 لاکھ 36 ہزار 985 ووٹ حاصل کیے وہیں بی آر ایس پارٹی کے امیدوار کاسانی گنانیشورنے ایک لاکھ 78 ہزار 420 ووٹ حاصل کرتے ہوئے تیسرے نمبر پر رہے۔

اس طرح بی جے پی امیدوار کونڈا وشویشور ریڈی نے اپنے کانگریسی حریف امیدوار ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی کو ایک لاکھ 78 ہزار 968 ووٹوں کی ریکارڈ اکثریت سے شکست دیتے ہوئے اس حلقہ سے 2014 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد اب 2024 کے پارلیمانی انتخابات میں دوسری مرتبہ اپنی کامیابی درج کروائی ہے۔

نتائج کے باقاعدہ اعلان کے بعد رٹرننگ آفیسر حلقہ پارلیمان چیوڑلہ و ضلع کلکٹر رنگاریڈی مسٹر کے۔ششانک نے بی جے پی کے کامیاب امیدوار کونڈا وشویشور ریڈی کو کامیابی کا سرٹیفکیٹ حوالے کیا۔کونڈا وشویشورریڈی کی کامیابی کے ساتھ ہی وقارآباد ضلع کے اسمبلی حلقہ جات وقارآباد، تانڈور اور پرگی کے علاوہ ضلع رنگاریڈی کے اسمبلی حلقہ جات مہیشورم،راجندرنگر،سیری لنگم پلی اور چیوڑلہ میں بی جے پی کارکنوں اور ان کے حامیوں نے جشن منایا اور زبردست آتشبازی کی۔

اپنی کامیابی کے بعد نومنتخب رکن پارلیمان حلقہ چیوڑلہ کونڈا وشویشور ریڈی نے حلقہ کے تمام رائے دہندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ حلقہ پارلیمان چیوڑلہ میں شامل تمام ساتوں اسمبلی حلقہ جات کی مساوی ترقی کو یقینی بنائیں گے اور ساتھ ہی عوام کےلیے درکار تمام سہولتوں کی فراہمی اور درپیش مسائل کو حل کرنے کو ترجیح دیں گے۔

یاد رہے کہ کونڈا وشویشور ریڈی نے اپنے پرچہ نامزدگی کےساتھ داخل کردہ اپنے اثاثہ جات پرمشتمل جو حلف نامہ داخل کیا ہے اس کے مطابق وہ 4 ہزار کروڑ مالیتی اثاثہ جات کے مالک ہیں۔جس کے مطابق ان کے اپنے پاس 1,178.72 کروڑ کے اثاثے ہیں۔ان کی اہلیہ سنگیتا ریڈی جو کہ اپولو گروپ آف ہاسپٹلس کی مینجنگ ڈائرکٹر ہیں کے پاس 3,203.9 کروڑ، فرزند ویراٹ مادھو ریڈی کے نام پر 107.44 کروڑ کے اثاثوں کے علاوہ اراضیات اور عمارتوں کی مالیت 71.35 کروڑ روپئے ہے۔ساتھ ہی انہوں نے اپنے اس حلف نامہ میں بتایاہے کہ ان پر ایک کروڑ 76 لاکھ کا قرض بھی ہے۔اپنے حلف نامہ میں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے پاس کار نہیں ہے اور ان پر چار کیس درج ہیں۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگاکہ 2008ء میں جدید پارلیمانی حلقوں کی تشکیل اور درجہ بندی کے بعد حلقہ پارلیمان چیوڑلہ وجود میں آیا تھا۔پہلی مرتبہ 2009ء کے پارلیمانی انتخابات میں اس حلقہ سے کانگریس کےسینئر قائد آنجہانی ایس۔جئے پال ریڈی کامیاب ہوئے تھے جو بعد میں وزیراعظم منموہن سنگھ کی مرکزی کابینہ میں وزیر پٹرولیم و دیہی ترقیات کی وزارتیں حاصل کی تھیں۔

جبکہ علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد 2014ء میں منعقدہ پہلے پارلیمانی انتخابات میں اس وقت کی ٹی آر ایس پارٹی(موجودہ بی آر ایس) کے امیدوار کے طور پر کونڈا وشویشور ریڈی 4 لاکھ 35 ہزار 77 ووٹ حاصل کرتے ہوئے اپنی کامیابی درج کروائی تھی اور ان کے مخالف کانگریسی امیدوار پی۔ کارتک ریڈی 3 لاکھ 62 ہزار 54 ووٹ حاصل کرتے ہوئے دوسرے نمبر رہے تھے۔

اسی طرح 2019ء کے پارلیمانی انتخابات سے عین قبل کونڈا وشویشور ریڈی بی آر ایس پارٹی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوتے ہوئے کانگریس کے ٹکٹ پر حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سے مقابلہ کیا تھا ان کا مقابلہ ٹی آر ایس امیدوار ڈاکٹر رنجیت ریڈی اور بی جے پی کے امیدوار بی۔جناردھن ریڈی سے تھا۔

2019ء کے ان پارلیمانی انتخابات میں حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سےٹی آر ایس امیدوار ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی نے 5 لاکھ 28 ہزار 148 ووٹ حاصل کرتےہوئے 14 ہزار 317 ووٹوں کی اکثریت سے اس وقت کے کانگریسی امیدوار کونڈا وشویشور ریڈی کو شکست سے دوچار کیا تھا۔جو 5 لاکھ 13 ہزار 831 ووٹ حاصل کرتے ہوئے دوسرے نمبر پر رہے تھے۔وہیں بی جے پی امیدوار جناردھن ریڈی کو 2 لاکھ ایک ہزار 960 ووٹ حاصل ہوئے تھے اور نوٹا پر 9 ہزار 244 ووٹ ڈالے گئے تھے۔

https://www.facebook.com/KondaVishweshwarReddy/videos/475913655108634

جاریہ سال ماہ مارچ میں موجودہ رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر رنجیت ریڈی بی آر ایس سے کنارہ کشی اختیار کرتےہوئے کانگریس میں شامل ہوگئے تھے اور حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سے کانگریس نے دوبارہ انہیں اپنا امیدوار بنایا تھا۔جبکہ گزشتہ سال سابق رکن پارلیمان چیوڑلہ کونڈا وشویشور ریڈی کانگریس چھوڑکر بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے اب حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سے انہوں نے بی جے پی امیدوار کےطور پر اپنی کامیابی درج کروائی ہے۔

اس طرح 2009 کے پارلیمانی انتخابات میں حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سے کانگریس نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ 2014ء اور 2019ء کے انتخابات میں بی آر ایس پارٹی نے کامیابی حاصل کی تھی اب 2024ء کے پارلیمانی انتخابات میں پہلی مرتبہ بی جے پی نے اس نشست پر قبضہ کرلیا ہے۔

حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سے کانگریس کی شکست کے بعد کانگریسی حلقوں میں مایوسی کی لہر پیدا ہوگئی ہے۔یاد رہے کہ قبل ازیں حلقہ پارلیمان چیوڑلہ سے کانگریس نے صدرنشین ضلع پریشد وقارآباد مسز پی۔سنیتا مہندرریڈی جو سابق ریاستی وزیر و موجودہ رکن قانون ساز کونسل ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی کی اہلیہ ہیں جنہوں نے اپنے حامیوں کےساتھ بی آر ایس پارٹی چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی تھی کو اپنے امیدوارکے طورپر پیش کر دیا تھا۔

تاہم انتخابات سے عین قبل ماہ مارچ میں رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر رنجیت ریڈی بھی بی آر ایس چھوڑکر کانگریس میں شامل ہوگئے تھے جنہیں کانگریس نے اپنا امیدوار برقرار رکھتے ہوئے مسز  پی۔سنیتا مہندرریڈی کو حلقہ پارلیمان ملکاجگیری سے اپنا امیدوار بنایاتھا۔انہیں بھی آج شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔!!

جبکہ 2019ء کے پارلیمانی انتخابات میں ریونت ریڈی نے اس حلقہ سے کامیابی حاصل کی تھی جنہوں نے ڈسمبر 2023ء میں تلنگانہ میں کانگریس کی کامیابی اور وزیراعلیٰ کے عہدہ پرفائز ہونے کے بعد بحیثیت رکن پارلیمان ملکاجگیری اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔اس طرح کانگریس کی اس نشست پر آج بی جے پی امیدوار و سابق ریاستی وزیر ایٹالہ راجندر نے کامیابی حاصل کی ہے۔

"یہ بھی پڑھیں ” 

جامن مختلف جسمانی مسائل کے حل کیلئے نہایت مفید پھل، سال میں ایک جامن ضرور کھائیں