
شاعر : محسن نقوی

بچھڑنا ہے تو خوشی سے بچھڑو سوال کیسے،جواب چھوڑو
ملی ہیں کس کوجہاں کی خوشیاں ملے ہیں کس کو عذاب چھوڑو
٭٭
نئے سفر پہ جو چل پڑے ہو مجھے خبر ہے کہ خوش بڑے ہو
ہے کون اجڑا تمہارے پیچھے یا کس کے ٹوٹے ہیں خواب چھوڑو
٭٭
محبتوں کے تمام وعدے نبھائے کس نے بُھلائے کس نے
تمہیں پشیمانی ہو گی جاناں جو میری مانو حساب چھوڑو
٭٭
ملے ہو مدت کے بعد جاناں تو کیسا شکوہ گلا بھی کیسا
تمہیں ملا ہے سکون کتنا ،ہُوا میں کتنا خراب چھوڑو
٭٭
دُکھی دلِوں کی پکار سننا بنا لو محسن عمل یہ اپنا
ہے اس میں تم کو گناہ کتنا ملے گا کتنا ثواب چھوڑو

