حیدرآباد سے کتا خریدنے کی اطلاع غلط، 100 کروڑ میں بھی کتا فروخت کرنے سے انکار، بنگلورو کے 20 کروڑ کی قیمت والے کتے کے مالک ستیش کا بیان

حیدرآباد سے کتا خریدنے کی اطلاع غلط، 100 کروڑ میں بھی کتا فروخت کرنے سے انکار
بنگلورو کے 20 کروڑ کی قیمت والے روسی نسل کے کتے کے مالک ستیش کا بیان

بنگلورو/حیدرآباد: 08۔جنوری
(سحر نیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

گذشتہ چند سال سے گھروں میں پالتوں جانوروں اور پرندوں کو پالنے کا شوق پروان چڑھتا جارہا ہے۔بالخصوص ہزاروں اور لاکھوں روپئے خرچ کرکےاعلیٰ نسل کےکتے اور پرشین بلیاں خریدی جارہی ہیں۔جن کاماہانہ خرچ اور ان کی دیکھ بھال پربھی ہزاروں روپئے خرچ کیے جاتے ہیں۔یہ جانور عام قسم کی غذاء نہیں کھاتے بلکہ ان کے لیے باقاعدہ بازار میں الگ الگ ذائقوں پر مشتمل مختلف غذا ملتی ہے جن کی قیمت ہزاروں روپئے ہوتی ہے۔

کہتے ہیں کہ شوق پورا کرنے کےلیے خرچہ نہیں دیکھا جاتا۔ان کتے اور بلیوں کا لگاؤ بھی ان کی پرورش کرنےوالوں کے ساتھ بہت ہوتا ہے۔ان کا کھانا پینا،اٹھنا بیٹھنا اور حتیٰ کہ سونا بھی انتہائی ترتیب کے ساتھ ہوتا ہے۔کئی گھرانوں میں تو ان کی دیکھ بھال کے لیے ملازم تک رکھے جاتے ہیں۔اور ان پالتو جانوروں کے بیمار ہونے پر باقاعدہ وٹرنری ڈاکٹر سے رجوع کیا جاتا ہے۔

اب بازار میں باقاعدہ ان پالتو کتوں اور بلیوں کی غذا کی دکانات بھی وجود ہیں آگئی ہیں اور وٹرنری ڈاکٹرز کےکلینک بھی کھول دئیے گئے ہیں۔ان جانوروں کو اپنے مالکین سے اور مالکین کو ان جانوروں کے ساتھ ایک انسیت پیدا ہوجاتی ہے۔ویسے بھی کہاجاتا ہے کہ جب بھی وفاداری کی مثال دی جاتی ہے تو خود انسان کتے کی مثال دیتا ہے۔! شاید اسی لیے کسی نے کہا تھا کہ؎

وفا کی تلاش تھی صاحب 
بازار سے کتا خرید لایا ہوں

انسانی بچوں جیسی ان جانوروں کی حرکتیں پرورش کرنے والوں کی تھکان دور کردیتی ہیں اور بچوں کے ساتھ ساتھ یہ بڑوں کے لیے بھی ایک زندہ کھلونہ بن کر رہتے ہیں۔وہیں کتے مکانات کی حفاظت کے کام بھی آتے ہیں۔

گزشتہ دنوں میڈیا پر ایسی خبر عام ہوئی تھی کہ بنگلورو کے ایک شخص نے 20 کروڑ روپئے میں روسی” کاکاسیان نسل ” کا ایک کتاخریداہے۔تاہم یہ خبر جھوٹی اور محض افواہ ہی ثابت ہوئی ہے۔اطلاعات کےمطابق حیدرآباد سےتعلق رکھنے والےایک کنسٹرکٹر نے بنگلورو میں موجود انڈین ڈاگ بریڈرس اسوسی ایشن کے صدر،ویٹ اور اس روسی نسل کےسب سے مہنگے کتے کے مالک ایس۔ستیش سے ربط قائم کرتےہوئے انہوں نے اس دنیا کی سب سے مہنگی نسل کے کاکاسیان نسل کے کتے کو 20 کروڑ روپئے میں خریدنے کی پیشکش کی تھی۔تاہم کتے کےمالک ستیش نے اس پیشکش کویہ کہتے ہوئے ٹھکرا دیا کہ وہ اس کتے کو 100 کروڑ میں بھی فروخت نہیں کریں گے۔!!

ساتھ ہی ستیش نے ان خبروں کو افواہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا کہ انہوں نے یہ کتا حیدرآباد سے خریدا ہے یا اپنے اس کتے کو 20 کروڑ روپئے میں فروخت کردیاہے۔روسی کاکاسیان نسل کے اس کتے کی عمر فی الوقت دیڑھ سال کی ہے اور اس کا وزن 100 کلوگرام ہے۔یہ مہنگی نسل کے کتے جنوبی روس کے علاوہ آرمینیا، آذر بائیجان، جارجیا کے علاوہ ترکی میں پائے جاتے ہیں۔

دیکھنے میں یہ کتے مادہ شیر کی طرح نظر آتے ہیں۔بنگلورو میں موجود انڈین ڈاگ بریڈرس اسوسی ایشن کے صدر اور اس روسی نسل کے سب سے مہنگے کتے کے مالک ستیش نے بتایا کہ ان کے اس کتے کا نام” کیڈبامس ہائیڈر” ہے۔جس نےحال ہی میں کیرالا کے تریونڈرم میں منعقدہ کینل کلب مقابلوں میں مختلف زمروں میں 32 میڈلز حاصل کرتے ہوئے ” بہترین کتے ” کا اعزاز اپنے نام کیا تھا۔

امریکہ کینل کلب کےمطابق روسی نسل کے یہ کتے دؤڑا کر جانوروں کا شکار کرنےوالے بھیڑیوں سےان جانوروں کاتحفظ کرتے ہیں۔اور انہیں زیادہ تر مکانات کی حفاظت کے لیے پالا جاتا ہے۔وہیں خوفناک نظرآتے والے یہ کتے بہت نرم دل اور انسان دوست بھی ہوتےہیں۔اور ان کی طبعی عمر 21 سال ہوتی ہے۔

” اس روسی نسل کے دنیا کے سب سے مہنگے کتے اور اس کے مالک ایس۔ستیش کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ "

بنگلورو انڈین ڈاگ بریڈرس اسوسی ایشن کے صدر اور اس روسی نسل کےسب سے مہنگے کتے کےمالک ایس۔ستیش کتوں کو پالنےکے شوقین ہیں اور ان کے پاس مختلف نسل کے 15 مہنگے کتے موجود ہیں،جن کا شمار دنیا اور ملک کے سے زیادہ مہنگے کتوں میں ہوتا ہے۔ستیش فروری میں بنگلورو میں منعقد ہونے والے ایک میگا ایونٹ میں کتوں کے شائقین کےسامنے اپنے روسی نسل کے اس کتے کیڈبامس ہائیڈر کو متعارف کروانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

ایس ستیش کے پاس ایک کروڑ روپے میں خریدی گئی کورین ڈوسا ماسٹف،ایک تبتی مستیف جس کی قیمت 10 کروڑ روپے ہےکےعلاوہ الاسکن مالموٹ نسل کا 8 کروڑ روپے قیمت والا کتا بھی موجود ہے۔ایس۔ستیش نے اپنے انسٹاگرام ہینڈل کے پروفائل پر خود کو اداکار اور ڈاگ لور لکھا ہے۔ان کے پاس موجود مختلف مہنگے کتوں کے ویڈیوز اور تصاویر بھی پوسٹ کیے ہیں۔ان کا ایک یوٹیوب چینل بھی ہے۔