حجاب،حلال اور اذاں پر اعتراض کے بعد اب اردو زبان نشانہ! کرناٹک میں مسلم پھل فروشوں کے بائیکاٹ کی مہم

وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے

حجاب،حلال اور اذاں پر اعتراض کے بعد 
انقلاب زندہ آباد کا نعرہ دینے والی اردو زبان نشانہ پر
کرناٹک میں مسلم پھل فروشوں کے بائیکاٹ کی مہم

نئی دہلی: 07۔اپریل (سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)

گزشتہ دو تین ماہ سے مخصوص زعفرانی تنظیموں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف مختلف طریقوں سے ایک نیا محاذ کھول دیا گیا ہے۔کرناٹک کے چند اضلاع میں مسلم لڑکیوں کے حجاب پہن کر اسکولوں اور کالجوں کو آنے کے خلاف منظم طریقہ سے زعفرانی شالوں، پگڑیوں اور جھنڈیوں کے ساتھ احتجاج کا آغاز کیا گیا۔پھر حکومت کی جانب سے پابندی عائدکی گئی جس پر کرناٹک ہائی کورٹ نے اپنی مہر ثبت کردی۔

پھر اسی کرناٹک کے انہی اضلاع میں زعفرانیوں کے احتجاج کے بعد منادر کمیٹیوں نے منادر کے تہوار(جاتراوں)کےموقع پرمسلم بیوپاریوں کی جانب سے دُکانات لگانے پر پابندی عائد کردی۔

اسی کرناٹک میں ایک نئی مہم شروع کی گئی کہ حلال گوشت پر پابندی عائد کردی جائے۔اس کا مقصد چکن اور مٹن سنٹرس کے مسلم مالکین کو بیروزگار بنانا ہے!جس پر چیف منسٹر کرناٹک نے کہا کہ اس اعتراض پر غور کیا جائے گا۔

اب کرناٹک میں دائیں بازو کی تنظیمیں مسلم پھل فروشوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کررہی ہیں۔”ہندو جناجاگرتی منچ Hindujanajagruti” کے کوآرڈینیٹر چندرو موگر کا یک ویڈیوسوشل میڈیا پروائرل ہوا ہے۔جس میں وہ ہندوؤں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ پھلوں کےمسلم تاجروں کا بائیکاٹ کریں۔اور ان کی اجارہ داری کو توڑنے کے لیے مزید پھلوں کی دکانیں قائم کرنے کا مشورہ دیا گیاہے۔

ہندو جناجاگرتی منچ Hindujanajagruti”کے کوآرڈینیٹر چندرو موگر کے اس بیان کے بعد آج صدر بندو مکتی مورچہ ضیا نعمانی کی جانب سے بنگلورو کے سنجے نگر پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف ایک شکایت درج کروائی گئی ہے۔

دوسری جانب یکم رمضان کو راجستھان کے کرولی میں جامع مسجد کے روبرو ہندؤں کے نئے سال کے موقع پر نکالی گئی شوبھا یاترا کے دؤران کھلے عام تلواروں اور دیگر ہتھیاروں کے ساتھ نعرہ لگاتے ہوئے رقص کیا گیا اورشرانگیز نعرے لگاتے ہوئے نوجوانوں کا ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔یاد رہے کہ راجستھان میں کانگریس کی حکومت ہے جو خود کو سیکولرازم کا بہت بڑا ٹھیکہ دار گردانتی ہے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ پولیس کی جانب سے کیونکرایسی اجازت دی گئی ہے اور کیوں ان کا راستہ تبدیل نہیں کیا گیا؟

راجستھان کے اسی کرولی کا ایک ویڈیو سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ "ششانک شیکھر جھا Shashank Shekhar Jha@ نے اپنے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل پر ٹوئٹ کیا ہے۔جس میں جلتے ہوئے مکانات اور دکانات کے ساتھ دنگائیوں کا جھنڈ اور ان کے ساتھ پولیس فورس نظر آرہی ہے!اس معاملہ میں سیکولرازم کی ہول سیل دُکان کانگریس کی قومی صدرمسز سونیا گاندھی،ان کے فرزند راہول گاندھی اور ان کی دختر نیک اختر پرینکا گاندھی اپنے منہ میں دہی جماکر بیٹھے ہیں۔وہیں چیف منسٹر راجستھان اشوک گہلوٹ کی خاموشی بھی معنی خیز ہے!! 

مسلمانوں کے لیےبلاءرکاوٹ یہ کربناک سلسلے جاری ہی تھے کہ ممبئی سے مہاراشٹرا نؤ نرمان سینا کے چیف مسٹر راج ٹھاکرے نے آواز اٹھاتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ مساجد کے لاؤڈ اسپیکرس پر اذاں دینے سے دیگر لوگوں کو تکلیف پہنچ رہی ہے لہذا فوری طورپرمساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹادئیے جائیں ورنہ ہر مسجد کے روبرو لاؤڈ اسپیکر لگاکر ہنومان چالیسیہ کا آغاز کیا جائے گا۔

اسی دؤران مذہبی منافرت کو کھل کر ہوا دینے والے نیوز چینل”سدرشن ٹی وی”کے مالک سریش چؤہانکے Suresh Chavhanke@ نے کل رات اپنے ٹی وی پر ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا۔

غلطی سے خود کو صحافی بتانے والے اس مذہبی نفرت کے ہول سیل تاجر نے اپنے اس پروگرام میں چند ہندوستانی کمپنیوں کی جانب سے تیار کردہ”مکسچر”Mixture” (کھارا)کے پیاکٹس کے ساتھ ملک کی مشہور،ذائقہ دار،نمکین اور میٹھی اشیاء تیارکرنے والی”ہلدی رام HaldiRam” کمپنی کا ایک سبز رنگ کا پیاکٹ دکھاتے ہوئے اپنے ناظرین کو بتایا کہ ان دیگر کمپنیوں کے پیاکٹس پر جب”اردو زبان”میں پراڈکٹ سے متعلق تفصیلات درج نہیں ہیں تو”ہلدی رام کمپنی اپنے پیاکٹ پر”اردو” لکھ کر ہندوؤں کے تہوار کے موقع پرکیوں دھوکہ دے رہی ہے؟ اس کا یہ ویڈیو بھی وائرل ہوا۔

یاد رہے کہ ہلدی رام کمپنی کا ہیڈ کوارٹر ناگپور میں موجود ہے۔1941 میں اس کمپنی کو”گنگا بھشن اگروال”نے قائم کیا تھا۔جس کی کئی کمپنیاں ملک کے کئی شہروں میں قائم ہیں۔

قابل ذکر اور اس کی جاہلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس جاہل اور مذہبی منافرت کے ٹھوک تاجر اور گودی میڈیا کا لیبل رکھنے والے”سریش چوہانکے” کویہ تک نہیں معلوم تھاکہ ہلدی رام کا جو پیاکٹ اپنے چینل پر دکھاکر وہ اردوزبان کےخلاف جو نفرت پیدا کرنے کی کوشش کررہا تھا دراصل وہ”عربی تحریر” ہے۔

ہر ملٹی نیشنل کمپنی خلیجی ممالک کو اپنا سامان ایکسپورٹ کرنے کی غرض سے عربی زبان میں اس پراڈکٹ کی تفصیلات Description ان پیاکٹس پر درج کرتی ہیں۔

باقاعدہ سدرشن ٹی وی چینل کی ایک خاتون رپورٹر اس لائیو پروگرام کے دؤران ہلدی رام کے اؤٹ لیٹ پر پہنچ کر وہاں کی ایک خاتون ملازمہ سے وہی پوچھنے لگ گئی جو سریش چوہانکے اپنے اسٹوڈیو میں پوچھ رہا تھا کہ اس پروڈکٹ پر”اردو کیوں”؟ جہاں اس خاتون رپورٹر کو بے عزتی کا سامنا کرنا پڑا۔وہیں ان کا وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا اور باقاعدہ ٹوئٹر پر” اردو کا #ہیش ٹیگ” چلایا جارہا ہے۔

اس سلسلہ میں شیوسینا کی رکن راجیہ سبھا محترمہ پرینکا چترویدی نے اس رپورٹر کا ویڈیو ٹوئٹ کیاہے اور مرکزی وزیر انفارمیشن بیورو مسٹرانوراگ ٹھاکر کو ٹیاگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” کیا یہ ٹھیک ہے محترم آئی اینڈ بی وزیر ianuragthakur@جی کیا چینل کے ملازمین کو ان کی ٹی آر پی کے لیے ہراساں کرنا شروع کر دینا چاہیے اور مزید نفرت پیدا کرنی چاہیے؟کیا ایکشن نہیں لینا چاہیے؟  

اردو زبان کے خلاف منافرت پھیلانے اور اسے صرف مسلمانوں کی زبان قرار دینے والے اس واہیات نیوز چینل اور اس کے کرتا دھرتا سریش چوہانکے کو شایدمعلوم ہی ہوگا کہ جنگ آزادی کی لڑائی میں جوش بھرنے والا نعرہ”انقلاب زندہ آباد” اور”سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں دل میں ہے” جیسے نعرے اور نغمے اسی اردو زبان نے دیا ہے۔اور”سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا”جیسا قابل فخر ترانہ بھی اردو زبان کی ہی دین ہے۔
اردو صرف مسلمانوں کی ہی زبان نہیں ہے۔آج بھی فلموں اور فلمی نغموں کی سب سے بڑی طاقت اردو زبان ہی ہے۔اور سریش چوہانکے خود اور اس جیسے گودی میڈیا چینلس بھی زیادہ تر اردو الفاظ کا ہی استعمال کرتے ہیں۔
ٹوئٹر پر سریش چوہانکے کو ٹیاگ کرتے ہوئے فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز AltNews# کے معاون فاؤنڈر محمدزبیر نے ہندوستانی کرنسی کے فوٹوز کےساتھ ٹوئٹ کرتے ہوئے چٹکی لی ہے کہ”سریش چوہانکے! ریزروبینک آف انڈیا نے ہندوؤں کے تہوار پر دھوکہ دیا۔اس نوٹ پر سبز رنگ میں اردو میں لکھا ہوا ہے”۔

کرناٹک ہو یا راجستھان جہاں کہیں یہ تشدد برپا کیا جارہا ہے اور مذہبی منافرت کو ہوا دی جارہی ہے وہ یقیناً پوری دنیا دیکھ رہی ہے اس لیے ملک کے تحفظ اور اس کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم مذہب اور ذات پات کے مسئلہ پر آپس میں نہ الجھیں بیروزگاری،مہنگائی اور ایسی کئی مشکلات و پریشانیاں ہیں جن سے اس ملک کا ہر دوسرا آدمی پریشان ہے۔نامور شاعر بشیر بدر نے کبھی کہا تھا کہ؎
سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں
آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” راجستھان فساد کے دؤران جلتے مکان میں داخل ہوکر ایک تین سالہ بچہ اور تین خواتین کی جان بچانے والے جانباز ہیرو پولیس کانسٹیبل نیتریش شرما کی تصویر وائرل۔اس مکمل نیوز اسٹوری کو سحرنیوزڈاٹ کام کی اس لنک کو کلک کرکے پڑھا جاسکتا ہے۔”

راجستھان فساد: جلتے مکان میں داخل ہوکر ایک تین سالہ بچہ اور تین خواتین کی جان بچانے والے جانباز پولیس کانسٹیبل کی تصویر وائرل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"راجستھان کے کرولی میں مذہبی نفرت اور فرقہ پرستی کا ننگا ناچ!نمازیوں پر حملہ،مسجد کے اوپر چڑھ کر زعفرانی جھنڈوں کے ساتھ رقص” اس واقعہ سے متعلق مکمل ویڈیو اور تفصیلات سحرنیوزڈاٹ کام کی اس لنک کو کلک کرکے پڑھا جاسکتا ہے”

مذہبی نفرت اور فرقہ پرستی کا ننگا ناچ!مسجد کے اوپر چڑھ کر نوجوانوں کا زعفرانی جھنڈوں کے ساتھ رقص، بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کارروائی کا مطالبہ کیا