تجھے اعتبار و یقیں نہیں ٭٭ نہیں دنیا اِتنی بُری نہیں!
راجستھان فساد: جلتے مکان میں داخل ہوکر ایک تین سالہ بچہ اور
تین خواتین کی جان بچانے والے جانباز پولیس کانسٹیبل کی تصویر وائرل
حکومت نے عہدہ پر ترقی دی،سوشل میڈیا پر جم کر سراہنا
حیدرآباد:05۔اپریل(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)
ایک پولیس کانسٹیبل نیتریش شرما(31 سالہ) جنہوں نے اپنی جان کی بازی لگا تے ہوئے راجستھان کے کرولی میں گزشتہ ہفتہ کے اواخرمیں دو فرقوں کے درمیان بحث و تکرار،مذہببی ریالی پر پتھراؤ کے الزام کے بعد فسادات اور آتش زنی کے دؤران ایک جلتے ہوئے مکان میں پھنسی ہوئیں تین خواتین اور ایک بچہ کو بچانے کے لیے ایک فلمی ہیرو کی طرح جلتے ہوئے مکان کے اندر داخل ہوئے تھے۔اور انہوں نے اس مکان میں لگی آگ کے شعلوں سے تین خواتین اور خود ایک تین سالہ بچہ کو اٹھاکر جلتے مکان سے باہر نکالا تھا۔
اب پولیس کانسٹیبل نیتریش شرما کی یہ تصویر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہوگئی ہے۔اور سوشل میڈیا صارفین پولیس کانسٹیبل نیتریش شرما کی جم کر ستائش کرتے ہوئے انہیں اصلی ہیرو قرار دے رہے ہیں۔
ڈیوٹی کے دؤران پولیس کانسٹیبل نیتریش شرما کی اس جانبازی پر چیف منسٹرراجستھان اشوک گہلوٹ نے خود پیر کے دن نیتریش شرما کو فون کرتے ہوئے ان کی بہادری کو زبردست سراہنا کی اور نیتریش شرما کو کانسٹیبل سے ہیڈ کانسٹیبل کے عہدہ پر ترقی دیتے ہوئے مبارکباد پیش کی۔
راجستھان کے کرولی اس اصلی ہیرو پولیس کانسٹیبل نیتریش شرما کی اس بہادری کی وہ فوٹو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پیچھے بھیانک آگ شعلے بھڑک رہے ہیں اور وہ اپنے دونوں میں ہاتھوں میں کمبل میں لپٹے ہوئے تین سالہ معصوم بچہ کواٹھاکر دؤڑ رہے ہیں۔اور خود ان کے پیر کے جوتے جلے ہوئے ہیں۔پس منظر میں شعلوں میں لپٹی عمارت سے ہنوز آگ کے گولے نکل رہے ہیں۔
شاید بالی ووڈ کے ایک ایکشن اداکار کےلیے بھی ایسے منظر پرمشتمل کردار ادا کرنا مشکل ہی ہوگا! انہوں نے اس جانبازی کا مظاہرہ اس وقت کیا ہے جب ایک مشتعل ہجوم وہاں موجود تھا۔آگ کے شعلے عمارتوں میں بھڑک رہے تھے اور موت نیتریش کمار کا تعاقب کررہی تھی۔
واقعی یہ کسی فلم کے منظر سے زیادہ خطرناک نظارہ ہے۔جسے دیکھ کراس بہادر اور جانباز پولیس کانسٹیبل نیترش شرما کےحوصلہ،ہمت، بہادری اور انسانی جذبہ کی ستائش نہ کرنا ان کے ساتھ ناانصافی ہی کہلائے گی!

پولیس کانسٹیبل نیتریش شرما اس واقعہ کے متعلق میڈیا کو بتایا کہ میں نے بازار میں دو دکانوں کے درمیان جن کے درمیان بہت کم فاصلہ تھا جلتے ہوئے مکان کے اندر سے مدد کے لیے عورتوں کے چیخنے کی آوازیں سنی۔تو ایک سیکنڈ کے لیے کچھ بھی سوچے بغیر میں اس جلتے ہوئے مکان کے اندر داخل ہوا”۔
اصل زندگی کے اس اصلی ہیرو نیتریش شرما نے کہا”پہلے میں نے تین سالہ بچے کو اپنی بانہوں میں لیا اور اسے کمبل سے ڈھانپ دیا اور بچہ کے ساتھ آگ کے شعلوں میں گھری ہوئیں ان تین خواتین سے کہا کہ ہمت کریں اور میرے پیچھے چلیں جو کہ انتہائی خوفزدہ تھیں اور ان میں ان آگ کے شعلوں سے باہر نکلنے کا اعتماد ختم ہوگیا تھا۔
میں نے ان خوفزدہ اور ہمت ہار چکیں خواتین سے وعدہ کیا کہ میں وہ بالکل نہ گھبرائیں اور ہمت کے ساتھ میرے ساتھ چلیں اور میں انہیں بحفاظت باہر نکالوں گا۔اور میں نے اپنے وعدہ کے مطابق اس تین سالہ بچہ سمیت ان تینوں خواتین کو بحفاظت اس جلتے مکان سے باہر لانے میں کامیاب ہوگیا۔”
اس واردات کے دن پولیس کانسٹیبل نیتریش شرما جو کہ کرولی کی نداوتی تحصیل کے بڑا گاوں کے رہنے والے ہیں، نیتریش کوتوالی پولیس اسٹیشن سے منسلک ٹاؤن چوکی کی ایک ٹیم کے حصہ کے طور پر تشدد پر قابو پانے کی کوشش میں سارا دن گزار چکے تھے۔راجستھان کے کرولی میں دو دن بعد حالات معمول پر آگئے۔تو اس اصلی ہیرو نوجوان پولیس کانسٹیبل نیتریش شرما اپنی شہرت کے چرچوں سے واقف ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ جب چیف منسٹر راجستھان اشوک گہلوٹ نے انہیں فون پر مبارکباد دیتے ہوئے بات کی تو یقیناً میں بہت خوش ہوا”۔ اور کہا کہ چیف منسٹر صاحب نے مجھے مبارکباد دی اور کہا کہ مجھے ترقی ملے گی۔میں نے ان سے کہا کہ میں صرف اپنا فرض اداکررہا ہوں”۔
پولیس کانسٹیبل نیتریش شرما نے کہا کہ میں ان لوگوں کونہیں جانتا جن کی میں نے جانیں بچائی ہیں۔مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ اس واقعہ کے بعد کہاں چلے گئے ہیں۔”
کرولی میں جلتے مکان سے ایک معصوم تین سالہ بچہ اور اس کے ساتھ تین خواتین کو بحفاظت باہر نکال کر انہیں نئی زندگی دینے والے پولیس کانسٹیبل نیتریش شرما نے مزید کہا کہ”جب کہ عہدہ پر ترقی ان کے لیے کافی حوصلہ افزائی ہے کہ وہ اپنے فرائض جاری رکھیں۔ساتھ ہی انہیں مقامی سطح سے لے کر میڈیا اور سوشل میڈیا پر ملنے والی شہرت اور ان کی ستائش سے نیتریش شرما کافی خوش ہیں۔انہوں نے خالص راجستھانی لہجہ میں کہا کہ”انہیں کئی لوگوں کے فون آرہے ہیں۔اور ساتھ ہی محکمہ پولیس کے بڑے عہدیداران بھی انہیں مبارکباد دے رہے اور ان کی تعریفیں کررہے ہیں۔
دوسری جانب اس بات کا انکشاف نہیں ہوا ہے کہ پولیس کانسٹیبل نیتریش شرمانے جس تین سالہ بچہ اور تین خواتین کو جلتے ہوئے مکان سے نکالا ہے وہ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں؟
تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ نیریش شرما نے کسی ہندو یا کسی مسلمان کو نہیں بلکہ”انسان” کو بچایا ہے اور ایک بار پھر”انسانیت” کی فتح ہوئی ہے۔نفرت،سازشوں،ہنگانہ آرامیوں اس دؤر میں اور خوف و عدم تحفظ کے احساس کے درمیان یہ واقعہ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ؎
تجھے اعتبار و یقین نہیں،نہیں دنیا اِتنی بُری نہیں!!
دوسری جانب سوشل میڈیا پر راجستھان کے کرولی فساد کے ایسے ویڈیوز بھی وائرل ہوئے ہیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس کی موجودگی میں املاک کو آگ لگائی جارہی ہے۔راجستھان جہاں خود کو سیکولر کہنے والی کانگریس کی حکومت ہے۔اور اس پر کانگریس کی اشوک گہلوٹ والی حکومت تماشائی کا رول ادا کررہی ہے۔اس ویڈیو کو دیکھ کر بی جے پی حکومتوں والی چند ریاستوں اور کانگریس حکومت والی ریاست راجستھان میں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا؟

