جموں وکشمیر پولیس نے "ان کہی کشمیر فائلز” نامی ویڈیو جاری کیا،سوشل میڈیا پر وائرل

ہم دیکھیں گے ٭٭ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

جموں وکشمیر پولیس نے ” ان کہی کشمیر فائلز ” نامی ایک ویڈیو جاری کیا
ویڈیو میں فیض احمد فیض کا کلام اور اردو اشعار کا استعمال

نئی دہلی: 07۔اپریل(سحرنیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

جموں و کشمیر پولیس نے 57 سیکنڈ کی ایک ویڈیو اپنے ٹوئٹر ہینڈل J&K Police@ پر پوسٹ کیا ہے۔جس کا مقصد اس بات کی نشاندہی کرنا ہے کہ کس طرح تمام مختلف عقائد کو ماننے والے کشمیری شہری عسکریت پسندی کا شکار ہوئے۔یہ ویڈیو جموں و کشمیر پولیس کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر 31 مارچ کو پوسٹ کیا گیا ہے 

"ان کہی کشمیر فائلز”The Untold Kashmir Files” کے ٹائٹل کے ساتھ بنائی گئی اس 57 سیکنڈ کی ویڈیو میں فیض احمد فیض کے شہرہ آفاق کلام ” ہم دیکھیں گے ٭٭ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے” استعمال کیا گیا ہے۔اس ویڈیو کا پردہ کھلتا ہے بلکتی ہوئی عورتوں سے اور جنازوں کے مناظر بھی اس ویڈیو میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

دی انڈین ایکسپریس کے مطابق جموں و کشمیر کے ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ”یہ ایک کوشش ہے جو کہ شہریوں تک پہنچ جائے کہ ہم ان کے درد کوسمجھتے ہیں اور ہم سب دہشت گردوں کے ساتھ جاری اس لڑائی میں ساتھ ہیں۔جموں کشمیر پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے اس ویڈیو کا آغاز؎

وہ آج بھی زندہ ہیں مرکے بھی فضاؤں میں
بس ماردینے سے کوئی مردہ نہیں ہوتا

سے ہوتا ہے۔اس ویڈیو میں واضح کیا گیا ہے کہ دہشت گرد ایس پی او مشتاق احمد کے مکان میں داخل ہوگئے تھے اور مشتاق احمد کے ساتھ ان کے بھائی عمر کو گولی ماردی تھی۔اس پر لکھا ہے امن پسند کشمیریوں کے سلسلہ وار قتل کا حصہ تھا۔اس ویڈیو پر لکھا گیا ہے کہ ان دہشت گردانہ واقعات میں 20،000 سے زائد معصوم کشمیری ہلاک ہوئے تھے۔اس ویڈیو میں اردو کے مشہور شعر؎

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ملک میں 11 مارچ کو فلم دی کشمیر فائلز ریلیز کی گئی تھی۔جس کے رائٹر اور ڈائرکٹر وویک اگنی ہوتری ہیں اور اس فلم کے اداکاروں میں وویک اگنی ہوتری کی بیوی پلوی جوشی،انوپم کھیر اورمتھن چکرورتی کے علاوہ دیگر شامل ہیں۔اس فلم کو ملک کی 600 سینما تھیٹرس میں ریلیز کیا گیا۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کےمطابق کشمیر فائلزنے7 اپریل تک یعنی 28 دنوں میں 250 کروڑ روپئے سے زیادہ کا بزنس کیا ہے۔

فلم دی کشمیرفائلز کے بہت چرچے ہوئے حتیٰ کی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ یہ فلم اظہار رائے کی آزادی ہے اور1989-1990 میں کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کی نسل کشی اور ان کی نقل مکانی کو”چند جماعتوں”نے چھپانے کی کوشش کی تھی۔

اس فلم کی ستائش مرکزی وزیر داخلہ مسٹر امت شاہ نے بھی کی۔اس فلم کی تشہیر بی جے پی قائدین کے بشمول مرکزی و ریاستی وزرا اور حکومتوں نے تک کی اورکئی بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں فلم کشمیر فائلز کو ٹیکس فری کردیا گیا۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 1990 میں مرکز میں جنتادل کی حکومت تھی،وی پی سنگھ وزیراعظم تھے اور اس حکومت کوبشمول اٹل بہاری واجپائی اور لال کرشن اڈوانی بی جے پی کے 86 ارکان پارلیمان کی تائید حاصل تھی۔اور اس وقت آرایس ایس/بی جے پی کے منظورنظر جگموہن جموں و کشمیر کے گورنر تھے۔جنہوں نے دہشت گردوں کی وارننگ کے بعد کشمیری پنڈتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے فوری کشمیر سے بھاگ جانے کا حکم دیا تھا!!

وہیں بی جے پی نے دہلی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ فلم کشمیر فائلز کو دہلی میں بھی ٹیکس فری کیا جائے۔جس پر طنز کرتے ہوئے دہلی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر اروند کیجرال نے دوٹوک لفظوں میں کہاتھا کہ ملک کی ساری بی جے پی پارٹی اور اس کے لیڈرس کشمیرفائلز کے پوسٹر چسپاں کرتے پھرتے رہیں۔

ساتھ ہی اروند کیجریوال نے یہ سخت ریمارک بھی کیا تھا کہ 8 سال حکومت چلانے کے بعدکسی ملک کے وزیراعظم کو وویک اگنی ہوتری کے” چرنوں میں شرن” لینی پڑے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ 8 سال میں انہوں نے کچھ نہیں کیا”!!

چیف منسٹر دہلی اروند کیجریوال نے کہا تھا کہ اس فلم کو ٹیکس فری کیوں کیا جائے؟وویک اگنی ہوتری سےکہیں کہ وہ اس فلم کو یوٹیوب پر ڈال دے پوری دنیا مفت دیکھے گی۔اروندکیجریوال نے اسمبلی میں موجود بی جے پی کے ارکان اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاتھا کہ کچھ لوگ کشمیری پنڈتوں کے نام پرکروڑوں روپئے کمالیے اور تم لوگ فلم کے پوسٹرز لگاتے پھر رہے ہو۔کچھ تو شرم کرو!! 

” چیف منسٹر دہلی اروند کیجریوال دہلی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے” (ویڈیو: تین منٹ)

ان کے اس بیان کے بعد چیف منسٹر اروند کیجریوال کی رہائش گاہ واقع دہلی پر بی جے رکن پارلیمنٹ بنگلورو تیجسوی سوریہ کی قیادت میں بی جے پی قائدین اور کارکنوں نے حملہ کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی تھی۔اس غنڈہ گردی کے کئی ویڈیوز اورفوٹوز سوشل میڈیا اور میڈیا پر وائرل ہوئے تھے تاہم دہلی پولیس نامعلوم لوگوں کے خلاف ایک کیس درج کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری سے بری ہوگئی!!

جہاں ایک بہت بڑا گروپ فلم کشمیرفائلز کی تائید کررہا ہے تو دوسرا گروپ اس فلم کو نفرت پھیلانے کا ذریعہ بتا رہا ہے!!

سوشل میڈیا پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ فلم کشمیر فائلز کے ذریعہ کشمیری پنڈتوں کے ساتھ 19 جنوری 1990 کو اور اس سے قبل یا بعد کے واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئے اکثریتی طبقہ کے مذہبی جذبات کو بھڑکایا جارہا ہے!اور اس فلم کے ذریعہ پہلے ہی سے فرقہ وارانہ طور پر متاثر ہندوستان کے ماحول کو مزید بگاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے؟۔

” فلم دی کشمیر فائلز کے متعلق مکمل تفصیلات سحر نیوز ڈاٹ کام کی اس خصوصی رپورٹ دیکھی جاسکتی ہے”

فلم کشمیر فائلز بہانہ ،مسلمان نشانہ!! فلم دیکھنے والے مسلمانوں کو دھمکیاں کیوں دے رہے ہیں ؟