ٹیچرز کو ہراساں کر کے رقم وصول کرنے والے 6 صحافیوں کے خلاف کیس درج، ایس پی وقارآباد ضلع نندیالا کوٹی ریڈی کا انکشاف

ٹیچرز کو ہراساں کرکے رقم وصول کرنے والے 6 صحافیوں کے خلاف کیس درج
بلیک میلنگ میں مصروف افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی
ایس پی ضلع وقارآباد نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس کا سخت انتباہ

حیدرآباد/وقارآباد: 01۔مارچ
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

گزشتہ چند سال سے خود ساختہ صحافیوں کی باڑھ آئی ہوئی ہے۔سوشل میڈیا پر ہر تیسرا شخص خود کو فخریہ طور پرسینئر جرنلسٹ لکھنے اور کہنے میں مصروف ہے تو وہیں اپنی گاڑیوں پر پریس PRESS کا بڑا اسٹیکر لگاکر گھومنا بھی قابل فخر سمجھا جانے لگا ہے، تاکہ اسٹیکر دیکھ کر پولیس ان کی گاڑیوں کی چیکنگ نہ کرے۔

زیادہ تر تعلیمیافتہ طبقہ کا خیال ہے کہ صحافی بننے کے لیے کسی یونیورسٹی سے باقاعدہ جرنلزم کا کورس کرنا لازمی ہوتا ہے یا پھر صحافتی میدان میں گراؤنڈ رپورٹنگ کا طویل عرصہ کا تجربہ درکار ہوتاہے تاکہ صحافت جیسے مقدس پیشہ کےقواعد و ضوابط کی باریکی سے بخوبی ہوکر جمہوریت کا چوتھا ستون کہے جانے والے اس پیشہ کے ساتھ مکمل انصاف کیا جاسکے۔ایک دؤر تھا کہ حکومت کے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ اکریڈیٹیشن کارڈ رکھنے والوں کو ہی مسلمہ صحافی کہا جاتا تھا لیکن آج کا معاملہ الگ ہوگیا ہے۔!!

بقول راحت اندوری؎

ہم سے پوچھو کہ غزل مانگتی ہے کتنا لہو
سب سمجھتے ہیں یہ دھندہ بڑے آرام کا ہے

افسوس کہ زیادہ ترخود ساختہ صحافیوں کی حالت تو ایسی دیکھی جاتی ہے جو نہ زبان و بیان کے طریقہ سے واقف ہوتے ہیں،نہ الفاظ کےاستعمال کا تجربہ ہوتا ہے اور نہ ہی املاء کی غلطیوں کا احساس ہوتا ہے۔!!کسی بھی پریس کانفرنس میں شرکت کرکے حیرت ہوتی ہے کہ وہاں 100 سے زائد مختلف چینلوں کے نام والے لوگوز (مائیک) رکھے ہوتے ہیں کہ ٹیبل پر جگہ کم پڑ جاتی ہےان کے علاوہ پرنٹ میڈیا کے صحافی الگ ہوتے ہیں۔دوسری جانب خود کو خود ساختہ صحافی کہنے والوں کے خلاف مختلف الزامات بھی عام ہیں۔!! 

چند دن قبل سرسلہ سے ایسی خبر وائرل ہوئی تھی چندرم پیٹ کے صحافی پاتوری رمنا ریڈی مختلف معاملات میں ملوث ہو کر رقمی وصولی میں مصروف تھے۔جبکہ ماضی میں اس کے خلاف سرسلہ، تنگلا پلی، کونا راؤ پیٹ اور ویملواڑہ کے پولیس اسٹیشنوں میں دس کیس درج تھے۔تاہم وہ اپنی ان حرکتوں سے باز نہیں آ رہے تھے جس پر ضلع کلکٹر نے صحافی رمنا ریڈی کے خلاف پی ڈی ایکٹ جاری کر دیا۔   

ایسے میں ریاست تلنگانہ کے وقار آباد ضلع سے ایسی خبر آئی ہے جو کہ پیشہ صحافت پر بدنماء داغ ہی کہی جاسکتی ہے۔جہاں پولیس نے بلیک میلنگ کرکے رقم بٹورنے والے 6 صحافیوں کے خلاف کیس درج کرلیا ہے۔جو ٹیچرس کو مختلف طریقوں سے ہراساں اور بلیک میلنگ کرتے ہوئے رقم وصول کرنے میں مصروف تھے۔

ایس پی ضلع وقارآباد نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے بتایا کہ وقارآباد ضلع کے نواب پیٹ منڈل کے ایک گاؤں میں خود کو ضلع کے اسٹاف رپورٹر ظاہر کرتے ہوئے ایک آنگن واڑی ٹیچر اور ایک پرائمری اسکول ٹیچر کو ہراساں کرتے ہوئے ان سے رقم طلب اور وصول کرنے والے 6 صحافیوں کے خلاف ان ٹیچرس کی شکایت کے بعد نواب پیٹ پولیس اسٹیشن میں کیس درج رجسٹر کرلیا گیا ہے۔

ساتھ ہی ایس پی ضلع وقارآباد نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے انتباہ دیا ہے کہ ضلع وقارآباد میں کسی بھی فرد یا صحافیوں کی جانب سے بلیک میلنگ کرتے ہوئے رقم وصول کرنے والوں کو نہیں بخشاء جائے گا اور ایسے صحافیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ضلع ایس پی نے ساتھ ہی عوام کو مشورہ دیا ہے کہ اگر صحافیوں یا کسی دیگر افراد کی جانب سے انہیں ہراساں یا بلیک میل کرتے ہوئے رقم کا مطالبہ کیا جار ہا ہو تو وہ بلاء خوف اس کی شکایت پولیس سے کریں۔

" یہ بھی پڑھیں ” 

” سونی ہوگئیں شہر کی گلیاں …!! "

پنکج اُدھاس نہیں رہے

غزلوں کے منتخب ویڈیوز اور تفصیلات اس لنک پر ⬇️

پنکج اُدھاس نہیں رہے