بہار میں چلتی ٹرین کی کھڑکی سے موبائل فون چوری کرنے کی کوشش، مسافر چور کا ہاتھ پکڑ کر پانچ کلومیٹر تک کھڑکی پر لٹکا کر پٹائی کرتے رہے

چلتی ٹرین کی کھڑکی سے موبائل فون چوری کرنے کی کوشش
مسافر چور کا ہاتھ پکڑ کر پانچ کلومیٹر تک کھڑکی پر لٹکاکر پٹائی کرتے رہے

بھاگلپور: 17۔جنوری
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)

ملک کے مختلف ریلوے اسٹیشنوں پر بالخصوص رات کے وقت ایسے نظارے دیکھے جاتےہیں کہ ٹرینوں میں کھڑکیوں کے پاس حفاظتی شیشے اتار کر بیٹھے ہوئے مسافرین بالخصوص خواتین چوروں کا آسان نشانہ بن جاتی ہیں۔

ماہر چور جب تک ٹرین پلیٹ فارم پر رکی ہوئی ہوتی ہے اس وقت تک وہ اِدھر اُدھر ٹہلتے رہتے ہیں۔جونہی ٹرین چلنا شروع ہوتی ہے چیل کی طرح جھپٹ کر مسافرین کے ہاتھوں میں موجود موبائل فونس یا پھر سکون کے ساتھ بیٹھی ہوئیں خواتین کے گلوں سے زیور اڑا لیتے ہیں۔اس وقت ایسےمسافر سوائے چیخ و پکار کے کچھ نہیں کرسکتے۔ایسے زیادہ تر واقعات ان ریلوے اسٹیشنوں پر انجام دئےجاتے ہیں جہاں پلیٹ فارمز پر مسافرین کی تعداد انتہائی کم ہوتی ہے۔چور اس واردات کے فوری بعد فرار ہوجاتے ہیں۔

بہار کے بھاگلپور میں دن دہاڑے ٹرین چلنےکے دوران اچانک جھپٹ کر ایک مسافر کے پاس سے موبائل فون چھین لینے کی ایک ایسے ہی چور کی کوشش ناکام ہوگئی اور چور کو اس چوری کی کوشش اس وقت بہت مہنگی ثابت ہوئی جب مسافروں نے اس چور کا ایک ہاتھ پکڑ کر دؤڑتی ٹرین کے ساتھ اس چور کے سر پر گھونسے تھپڑ مارتے رہے اور وہ چلاتا رہا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو اس واقعہ کےتفصیلات کےمطابق ٹرین جب بھاگلپور ریلوے اسٹیشن پہنچ رہی تھی تو ایک چور نے پلیٹ فارم کی دوسری جانب سے کسی طرح کھڑکی پر لٹک کر مسافر کا موبائل فون چوری کرنے کی کوشش کی تاہم چوکس مسافروں نے اس چور کےدونوں ہاتھ پکڑ لیے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق اس چور کو پانچ کلومیٹر کے فاصلہ تک یونہی چلتی ٹرین کے باہر لٹکا کر ہاتھوں سے مارتے رہے۔

اس وائرل شدہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ٹرین چلتی ٹرین کی ایک کھڑکی پر چور لٹکا ہوا ہے اور اندر سے مسافر اس کو مار رہے ہیں وہ اس کے ہاتھ چھوڑ دینے کی منت سماجت کررہا ہے۔جب ٹرین پٹری بدل کر دوسری پٹری پر دؤڑنےلگتی ہےتو چور کی جانب پٹریوں پردؤڑتے ہوئے چند افراد پہنچ جاتے ہیں "مرے پر سؤ درّے”کے مصداق وہ بھی اس چور کو چلتی ٹرین کے ساتھ دؤڑتے ہوئے مارنے لگتے ہیں کہ اسی دؤران یہ ٹریک رک جاتی ہے۔

ویڈیو میں دیکھاجاسکتا ہے کہ ٹرین کے مکمل طور پر رُک جانے اور اس چور کے کھڑکی سے اترنے کےبعد کوئی شخص اس کو پکڑ کر لےجارہا ہے شاید یہ کوئی ریلوے پروٹیکشن فورس RPF# کا جوان ہوگا۔؟

یاد رہے کہ 15ستمبر 2022 کو بہار کے سمستی پور۔کٹیہار پاسنجر ٹرین،بیگوسرائے سےکھگڑیا تک اپنے سفرکے اختتام کےقریب تھی کہ ایک چور نے صاحب پور کمال اسٹیشن کے قریب پلیٹ فارم سے ایک مسافر کا موبائل فون اڑانے کی کوشش کی۔لیکن ایک ہوشیار مسافر نے اس کا ایک ہاتھ زور سے پکڑ لیا تھا۔

جیسے ہی ٹرین چلناشروع ہوئی یہ چور التجا کرنے لگا تھاکہ اسےچھوڑ دیاجائے،لیکن مسافروں نے اس کاہاتھ نہیں چھوڑے۔آخر کار اس چور نے اپنا دوسرا ہاتھ بھی ٹرین کی کھڑکی کے اندر ڈال کر لٹکتے ہوئے مسافرین سے اپیل کی تھی کہ اس کے ہاتھ پکڑ کر رکھیں ورنہ وہ گر جائے گا۔

اس و قت سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو بہت زیادہ وائرل ہوا تھا۔ میڈیا میں اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ خطرناک طریقہ سے اس چور کا سفر تقریباً 10 کلومیٹر تک جاری رہا تھا۔اور آخر کار جب ٹرین کھگڑیا ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر پہنچی تو اسے چھوڑدیا گیا۔مقامی لوگوں نے میڈیا کو بتایا تھا کہ جونہی اس کے ہاتھ چھوڑ دئیے گئے وہ وہاں سے فرار ہوگیا تھا۔اس خبر اور ویڈیو کی لنک نیچے پیش ہے۔⬇️

یہ بھی پڑھیں "

چلتی ٹرین کی کھڑکی سے موبائل فون چرانے کی کوشش، مسافروں نے چور کے دونوں ہاتھ پکڑ کر دس کلومیٹر تک کھڑکی کے باہر لٹکادیا

 

جموں و کشمیر کی سیاحت کے لیے گزشتہ سال 2 کروڑ سیاح پہنچے، ملک کی آزادی کے بعد ایک ریکارڈ : مرکزی وزیر سیاحت کشن ریڈی

منور رانا کا انتقال اردو دنیا کا عظیم نقصان، ماں پر شاعری اور مہاجر نامہ سے منفرد پہچان