بنگلورو کے 48 اسکولوں میں بم رکھے جانے کی دھمکی،ای۔میل میں بسم اللہ اور اللہ اکبر کا استعمال !!

بنگلورو کے 48 اسکولوں میں بم رکھے جانے کی دھمکی 
ای۔میل میں بسم اللہ اور اللہ اکبر کا استعمال!! 

بنگلورو:01۔ڈسمبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

بنگلورو کے مختلف علاقوں میں موجود زائداز 48 اسکولوں(ابتدائی اطلاعات میں 15 اسکول بتائے گئے تھے) کو آج ایک ای۔میل موصول ہونے کے بعد اسکول انتظامیہ، طلبہ اور ان کے والدین میں خوف و ہراس کی لہر دؤڑ گئی۔جس میں دھمکی دی گئی کہ ان اسکولوں میں بم رکھے گئے ہیں۔اس اطلاع کے فوری بعد پولیس،بم اسکواڈ اور ڈاگ اسکواڈ حرکت میں آگئے ہیں مذکورہ اسکولوں کو پہنچ کرانہیں فوری خالی کرنےکی ہدایت دی۔اور تلاشی مہم کا آغاز کر دیا۔

بم اسکواڈ، ڈاگ اسکواڈ اور پولیس ان اسکولوں میں بم یا کسی دھماکو مادہ کی تلاش میں مصروف ہے تاہم اب تک کوئی مشتبہ شئے دستیاب نہیں ہوئی ہے۔جیسے ہی والدین کو اسکولوں کو بم کی دھمکی موصول ہونے کی اطلاع ملی وہ خوفزدہ ہو کر اسکول پہنچے تاکہ اپنے بچوں کو بحفاظت گھر واپس لے جاسکیں۔

دھمکی موصول ہونے والے ان اسکولوں میں سے ایک بیلندور میں نیو اکیڈمی نے والدین کو ایک میل روانہ کرتے ہوئے والدین کو اس "غیر متوقع صورتحال” سے واقف کر وایا۔اسکولوں کے انتظامیہ نے والدین پر زور دیا کہ وہ پرسکون رہیں اور پریشان نہ ہوں۔’

اطلاعات کے مطابق جن اسکولوں کو دھمکی آمیز ای۔میل موصول ہوا ہے ان میں سے ایک اسکول نائب وزیراعلیٰ کرناٹک ڈی کے شیواکمار کی رہائش گاہ کے سامنے واقع ہے۔اس اطلاع کے بعد ڈی کے شیوا کمار نے چند اسکولوں کا دورہ کرتے ہوئے تلاشی مہم کا جائزہ لیا۔

نائب وزیراعلیٰ کرناٹک ڈی کے شیواکمار نے میڈیا سےکہا کہ یہ چند شرپسندوں کی حرکت محسوس ہوتی ہے لیکن ہمیں چوکس رہنے اور تلاشی لینے کی ضرورت ہے اور پولیس اس کام میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم سیل کو متحرک کر دیا گیا ہے اور دھمکی آمیز ای۔میل روانہ کرنے والوں کو اندرون 24 گھنٹے پکڑلیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ کرناٹک سدارامیا نے بھی کہا کہ پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام اسکولوں کی تلاشی لیں اور حفاظتی انتظامات میں اضافہ کریں۔بنگلورو کے کئی اسکولوں کو بم کی دھمکیاں ملنےکےبعدکرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہاکہ پولیس اس معاملہ کی تحقیقات کرے گی اور انہوں پولیس کو ہدایت جاری کردی ہے۔انہوں نےکہاکہ مزیدسخت حفاظتی اقدامات کیےگئے ہیں اور والدین کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ پولیس کو اسکولوں کا معائنہ کرنےکی اور سیکورٹی کو بڑھانے کی ہدایت دی ہے۔ محکمہ پولیس سے ابتدائی رپورٹ موصول ہو گئی ہے۔

آج بعد دوپہر موصولہ اطلاع کے مطابق یہ دھمکی آمیز ای۔میل جعلی اور جھوٹا ثابت ہوا۔جس کے بعد سب نے راحت کی سانس لی۔یاد رہے کہ گزشتہ سال 8 اپریل کو بھی بم کی دھمکی پر مشتمل ایسے ہی مکتوب کئی اسکولوں کو موصول ہوئے تھے جو بعد میں جھوٹے ثابت ہوئے تھے۔

دوسری جانب آلٹ نیوز کے فیاکٹ چیکر محمد زبیر نے ایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا ہے کہ اس بم کی دھمکی پرمشتمل روانہ کیے گئے ای۔میل کے اس مکتوب میں دو مقامات پر ” ان شا اللہ "کے بجائے”بسم اللہ” لکھا گیاہے اور مکتوب کے آخر میں اللہ اکبر لکھا ہوا ہے۔اور ایک ہی ایک ای۔میل آئی ڈی سے اسکولوں کو یہ دھمکی آمیز میل روانہ کیا گیا ہے۔!!

" یہ بھی پڑھیں "

تلنگانہ اسمبلی انتخابات : بحیثیت مجموعی 64 فیصد رائے دہی، مختلف ایگزٹ پولز میں کانگریس کو سبقت، بی آر ایس بھی تعاقب میں!

 

تلنگانہ اسمبلی انتخابات : وقارآباد ضلع میں پرامن طور پر بحیثیت مجموعی 69.79 فیصد رائے دہی

 

Bangalore#
Bengaluru#
BombThreatToschools#
Hoax#