تلنگانہ اسمبلی انتخابات : وقارآباد ضلع میں پرامن طور پر بحیثیت مجموعی 69.79 فیصد رائے دہی

وقارآباد ضلع میں پرامن طورپر بحیثیت مجموعی 69.79 فیصد رائے دہی
حلقہ اسمبلی وقارآباد میں 68.10 فیصد، تانڈور میں 71.20 فیصد 
پرگی میں 69.34 فیصد اور کوڑنگل میں 70.50 فیصد رائے دہی

وقارآباد/تانڈور: 30.نومبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ)

ریاست تلنگانہ میں رائے دہی کاعمل آج مکمل ہوگیا۔وقارآبادضلع میں آج شام 5 بجے تک بحیثیت مجموعی 69.79 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی ہے۔جبکہ چند مقامات پر شام 5 بجے کے بعد بھی قطاروں کےباعث رائے دہی کاعمل شام دیر گئے تک بھی جاری رہا۔جس کے باعث رائے دہی کے تناسب میں اضافہ کا امکان ہے۔ضلع میں موجود چار اسمبلی حلقہ جات میں سے آج شام 5 بجے تک
⬅️ حلقہ اسمبلی تانڈور میں سب سے زیادہ 71.20 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے۔
⬅️ حلقہ اسمبلی وقارآباد میں 68.1 فیصد
⬅️ حلقہ اسمبلی کوڑنگل میں 70.50 فیصد
⬅️ حلقہ اسمبلی پرگی میں 69.34 فیصد
رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے۔سوائے اکا دکا واقعات کے وقار آباد ضلع میں سخت پولیس بندوبست کے درمیان رائے دہی کا عمل مکمل طور پر پرامن رہا۔رائے دہندوں نے آج امیدواروں کی فتح و شکست کے فیصلہ پر اپنی مہر ثبت کرتے ہوئے اسے ووٹنگ مشینوں میں بند کر دیا ہے ۔ان ووٹوں کی گنتی 3 ڈسمبر کو ہوگی۔

حلقہ اسمبلی تانڈور سے جملہ 21 امیدواروں نے مقابلہ کیا جن میں 9 آزاد امیدوار بھی شامل ہیں۔جبکہ حلقہ اسمبلی وقارآباد میں 12 امیدوار، پرگی اسمبلی حلقہ سے 15 اور حلقہ اسمبلی کوڑنگل سے 13 امیدوار مقابلہ کررہے ہیں۔ضلع الیکشن آفیسر و کلکٹر ضلع وقارآباد نارائن ریڈی کی جانب سے جاری کردہ فہرست رائے دہندگان کے مطابق وقارآباد ضلع کے ان چاروں اسمبلی حلقہ جات میں جملہ 9 لاکھ 60 ہزار 376 رائے دہندے موجود ہیں۔ان میں مرد رائے دہندوں کی تعداد 4 لاکھ 77 ہزار 528 ہے۔اور خاتون رائےدہندگان کی تعداد 4 لاکھ 82 ہزار 808 ہے۔ضلع میں 40 رائے دہندگان کا تعلق تیسری صنف سے ہے۔

یاد رہے کہ حلقہ اسمبلی تانڈور میں 2018ء میں منعقدہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں 76.96  فیصد رائے دہی شمار ہوئی تھی جو کہ 2014ء کے اسمبلی انتخابات کی بہ نسبت 6 فیصد زیادہ تھی۔اس طرح آج ہونےوالی رائے دہی میں تانڈورمیں 2018ء کی بہ نسبت 5.76 فیصد کم رائے دہی ریکارڈ ہوئی ہے۔ضلع کے ان چاروں اسمبلی حلقہ جات میں بی آر ایس اور کانگریس کے درمیان سیدھا مقابلہ تھا۔

ضلع الیکشن آفیسر و ضلع کلکٹر وقارآباد نارائن ریڈی نے آج حلقہ اسمبلی وقارآباد کےسنگم لکشمی بائی ہائی اسکول میں قائم مرکز رائے دہی پر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔اس موقع پر انہوں نے بتایاکہ ضلع وقارآباد میں مجموعی طورپر 11 بجے دن تک 20.94 فیصد رائے دہی ہوئی ہے۔ضلع الیکشن آفیسر و ضلع کلکٹر نارائن ریڈی نے بتایاکہ ضلع کے چاروں اسمبلی حلقہ جات وقارآباد،تانڈور، پرگی اور کوڑنگل میں پرسکون ماحول میں رائےدہی جاری ہے۔اس موقع پر اسسٹنٹ ٹرینی کلکٹر نارائنا امیت،پی ڈبلیو ڈی و پوسٹل بیالٹ ماڈل آفیسرللیتا کماری،اے آر او وقارآبادلکشمی نارائنا، کمشنر بلدیہ اور دیگر موجود تھے۔

ریاستی وزیر اطلاعات و معدنیات ڈاکٹر پی ۔مہیندرریڈی نےگورنمنٹ جونیئر کالج تانڈور میں قائم رائے دہی مرکز پہنچ کر اپنے فرزند رنیش ریڈی اور دختر منیشا ریڈی کے ساتھ حق رائے دہی کا استعمال کیا۔جبکہ ان کی اہلیہ و صدرنشین ضلع پریشد وقارآباد ضلع سنیتا مہیندرریڈی نے یالال منڈل میں اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔

وہیں رکن اسمبلی تانڈور و بی آر ایس پارٹی امیدوار پائلٹ روہت ریڈی نے بشیر آباد منڈل میں موجود ان کے آبائی موضع اندر چیڑ میں ان کے والد وٹھل ریڈی،والدہ و رکن ضلع پریشد پرمودنی دیوی،اہلیہ آرتی ریڈی اور بھائی رتیش ریڈی کے ساتھ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

جبکہ کانگریسی امیدوار حلقہ اسمبلی تانڈور بویانی منوہرریڈی نے شاہی پور میں موجود گورنمنٹ نمبر ون اسکول میں قائم مرکز رائے دہی پر اپنی اہلیہ ارونماں کے ہمراہ پہنچ کر ووٹ دیا۔ان کےعلاوہ رکن تلنگانہ بی سی کمیشن شبھاپردھ پٹیل نےگولہ چیئرو اسکول میں قائم مرکزرائے دہی میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ان کے علاوہ صدرنشین،نائب صدرنشین بلدیہ،ارکان بلدیہ اور دیگر عوامی نمائندوں نےبھی اپنے اپنے مراکز رائے دہی میں اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔

حلقہ اسمبلی کوڑنگل اور تانڈور پر اب سب کی نگاہیں مرکوز ہیں جہاں صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی(ٹی پی سی سی) ریونت ریڈی اور بی آر ایس کے موجودہ رکن اسمبلی و امیدوار پی۔نریندر ریڈی کے درمیان مقابلہ ہے،جنہوں نے 2018ء میں اس وقت دو مرتبہ کوڑنگل سے کامیابی حاصل کرنے والے ریونت ریڈی کو شکست سے دوچار کیا تھا۔جبکہ جاریہ انتخابات میں ریونت ریڈی حلقہ اسمبلی کاماریڈی سے ریاستی وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ کے خلاف مقابلہ کررہے ہیں۔

اسی طرح حلقہ اسمبلی تانڈور بھی سب کی نگاہوں کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں 2018ء کے انتخابات میں کانگریسی امیدوار کےطور پر اس وقت کے ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی کو شکست دینے والے بعدازاں گزشتہ سال ارکان اسمبلی کی خریدی کے معاملہ میں قومی اور ریاستی میڈیا کے ذریعہ منظر عام پر آنے والے بی آر ایس پارٹی کے موجودہ رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی اور کانگریس پارٹی کے امیدوار بویانی منوہر ریڈی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں "

تلنگانہ اسمبلی انتخابات : بحیثیت مجموعی 64 فیصد رائے دہی، مختلف ایگزٹ پولز میں کانگریس کو سبقت، بی آر ایس بھی تعاقب میں!

Telanganaassemblyelections#
#telanganaelections#
votinginvikarabaddistrict#

highestvotingintandur#