تلنگانہ اسمبلی انتخابات : بحیثیت مجموعی 64 فیصد رائے دہی، مختلف ایگزٹ پولز میں کانگریس کو سبقت، بی آر ایس بھی تعاقب میں!

تلنگانہ اسمبلی انتخابات : ریاست میں بحیثیت مجموعی 64 فیصد رائے دہی
میدک میں سب سے زیادہ اور حیدرآباد میں سب سے کم رائے دہی ریکارڈ
مختلف ایگزٹ پولز میں کانگریس کو سبقت، بی آر ایس بھی تعاقب میں!

حیدرآباد : 30؍نومبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ)

ریاست تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات2023ء کی رائے دہی کا عمل آج مکمل ہوگیا۔تلنگانہ میں صبح 7 بجے سےشام 5 بجے تک ہونےوالی رائے دہی کا تناسب بحیثیت مجموعی 64 فیصد ریکارڈ کیا گیاہے۔جبکہ تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں سب سے کم یعنی 39.97 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے۔جبکہ 2018ء میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں ریاست میں بحیثیت مجموعی 73.7 فیصد رائے دہی ریکارڈ ہوئی تھی۔

ریاست کے کئی اضلاع میں آج شام 5 بجے کے بعد بھی رائے دہندوں کی طویل قطاروں کے باعث مراکز رائے دہی مقفل کر دئیے گئے اور مراکز کے اندر موجود رائے دہندگان کی رائے دہی کا عمل جاری ہےجس کے باعث رائے دہی کے تناسب میں اضافہ ریکارڈ ہوگا۔

آج شام 5 بجے تک ریکارڈ شدہ اضلاع کی رائے دہی کے تناسب کی بات کی جائے تو
⬅️ ضلع میدک میں سب سے زیادہ : 80.28 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے۔
⬅️ ضلع جنگاؤں میں : 80.23 فیصد
⬅️ ضلع یادادری بھونگیر میں : 78.31 فیصد
⬅️ ضلع محبوب آباد میں : 77.50 فیصد
⬅️ ضلع عادل آباد میں : 73.58 فیصد
⬅️ ضلع وقارآباد میں : 69.79 فیصد
⬅️ ضلع ہنمکنڈہ میں : 62.46 فیصد
⬅️ ضلع میڑچل/ملکاجگیری میں : 49.25 فیصد
⬅️ ضلع رنگاریڈی میں 53 فیصد

رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے۔

اپ ڈیٹ :- 

شام 5 بجے کے بعدبھی رائے دہندوں کی قطاروں کےباعث شام دیر گئے تک جاری رہنےوالی رائے دہی کےبعد رات دیر گئےریاست کے 33 اضلاع میں رائے دہی کا قطعی تناسب جاری کیا گیا ہے۔اس طرح ریاست تلنگانہ میں 30 نومبر کو 70.66 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے۔جبکہ حیدرآباد میں بحیثیت مجموعی 46.65 فیصد رائے دہی ریکارڈ ہوئی ہے۔

⬅️ ضلع عادل آباد : 79.86 فیصد
⬅️ یادادری بھونگیر : 90.03 فیصد
⬅️ ضلع ورنگل : 78.06 فیصد
⬅️ ضلع ونپرتی: 77.54 فیصد
⬅️ ضلع وقارآباد: 76.47 فیصد
⬅️ ضلع سوریہ پیٹ : 84.83 فیصد
⬅️ ضلع سدی پیٹ : 79.84 فیصد
⬅️ ضلع سنگاریڈی : 76.61 فیصد
⬅️ ضلع رنگاریڈی : 59.94 فیصد
⬅️ ضلع راجنا سرسلہ : 76.12 فیصد
⬅️ ضلع پیدا پلی : 76.57 فیصد
⬅️ ضلع نظام آباد : 73.72 فیصد
⬅️ ضلع نرمل : 78.23 فیصد
⬅️ ضلع نارائن پیٹ : 76.74 فیصد
⬅️ ضلع نلگنڈہ : 85.49 فیصد
⬅️ ضلع ناگر کرنول : 79.46 فیصد
⬅️ ضلع ملگ : 82.09 فیصد
⬅️ ضلع میڑچل ملکاجگیری : 56.96 فیصد
⬅️ ضلع میدک: 86.96 فیصد
⬅️ ضلع منچریال : 75.59 فیصد
⬅️ ‘ضلع محبوب نگر : 77.72 فیصد
⬅️ ضلع محبوب آباد: 83.70 فیصد
⬅️ ضلع کومرم بھیم : 80.82 فیصد
⬅️ ضلع کھمم : 83.28 فیصد
⬅️ ضلع کریم نگر: 74.61 فیصد
⬅️ ضلع کاماریڈی : 79.59 فیصد
⬅️ ضلع گدوال : 82 فیصد
⬅️ ضلع جئے شنکر بھوپال پلی : 82 فیصد
⬅️ ضلع جنگاؤں : 85.74 فیصد
⬅️ ضلع جگتیال: 76.60 فیصد
⬅️ ضلع ہنمکنڈہ : 66.38 فیصد
⬅️ ضلع بھدرادری : 78.74 فیصد

119 رکنی تلنگانہ اسمبلی میں اقتدار حاصل کرنےکےلیے جادوئی ہندسہ 60 ارکان اسمبلی کا ہے۔رائے دہی کے اختتام کےفوری بعدمختلف ایگزٹ پول کی بات کی جائے تو

جن کی بات کے سروے کے مطابق:-

⬅️ کانگریس کو 48 تا 55 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔
⬅️ بی آرایس کو 40 تا 55 نشستیں حاصل ہوسکتی ہیں۔
⬅️ بی جے پی 7 تا 13 نشستیں حاصل کرسکتی ہے۔
⬅️ مجلس اتحادالمسلمین 4 تا 7 حلقوں میں کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔

سی این این کے ایگزٹ پول کے مطابق:-

⬅️ کانگریس کو 56 سیٹوں پر
⬅️ بی آر ایس کو 48 سیٹوں پر
⬅️ بی جے پی کو 10 سیٹوں پر
⬅️ مجلس اتحادالمسلمین کو 5 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔

چانکیہ کے ایگزٹ پول کے مطابق:۔

⬅️ کانگریس: 67 تا 78 نشستوں پر کامیابی حاصل کرسکتی ہے
⬅️ بی آر ایس : 22 تا 31 نشستوں پر
⬅️ بی جے پی: 6 تا 9 نشستوں پر
⬅️ مجلس : 6 تا 7 نشستوں پر کامیاب ہوسکتی ہے۔

سی پیک کے ایگزٹ پول کے مطابق:۔

⬅️ کانگریس: 65
⬅️ بی آر ایس: 41
⬅️ بی جے پی: 04
⬅️ دیگر: 09

سی این این نیوز 18

⬅️ بی آر ایس: 48
⬅️ کانگریس: 56
⬅️ بی جے پی: 10
⬅️ مجلس : 05

نیوز۔24 اور آج کا چانکیہ کے ایگزٹ پول کے مطابق:۔

⬅️ بی آر ایس : 33 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوسکتی ہے وہیں 9 نشستوں میں اضافہ یا کمی بھی ممکن ہے۔
⬅️ کانگریس : 71 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔اور 9 نشستوں میں کمی یا اضافہ کا امکان ہے۔
⬅️ بی جے پی : 7 نشستوں پر کامیابی کا امکان ہے، 5 نشستوں میں اضافہ یا کمی بھی ہوسکتی ہے۔
⬅️ اس کے علاوہ دیگر  8 امیدوار کامیاب ہوسکتے ہیں ان میں بھی 3 کی کمی یا اضافہ ممکن ہے۔

پول اسٹریٹجی گروپ کے مطابق:۔

⬅️ بی آر ایس : 53 تا 58 نشستوں پر کامیابی حاصل کرسکتی ہے اس کا ووٹ فیصد 39 تا 41 فیصدہوگا۔
⬅️ کانگریس : 49 تا 54 نشستوں پر کامیابی درج کرواسکتی ہے،اس کا ووٹ فیصد 38 تا 40 فیصد رہے گا۔
⬅️ مجلس : 6 تا 7 نشستوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھ سکتی ہے اوراس کا ووٹ فیصد 2 تا 3 فیصد ہوسکتا ہے۔
⬅️ دیگر: ایک امیدوار

زی نیوز کے ایگزٹ پول کے مطابق:۔

⬅️ بی آر ایس : 31 تا 47
⬅️ کانگریس : 63 تا 79
⬅️ بی جے پی 2 تا 4
⬅️ مجلس اتحادالمسلمین : 5 تا 7 نشستوں پر کامیاب ہوسکتے ہیں۔

آرا کے ایگزٹ پول کے مطابق:۔

⬅️ بی آر ایس : 41 تا 49
⬅️ کانگریس : 58 تا 67
⬅️ بی جے پی : 5 تا 7
⬅️ مجلس : 6 تا 7 نشستوں پر اپنی کامیابی درج کرواسکتے ہیں۔

ان ایگزٹ پولس کو کارگزار صدر بی آر ایس کے ٹی آر نے مسترد کرتےہوئے الیکشن کمیشن سےسوال کیاہے کہ ابھی رائے دہی کا عمل جاری ہے اور رات 9 بجے تک مکمل رائے دہی کےاختتام کا امکان ہےتو کس طرح ساڑھے پانچ بجے ایگزٹ پول جاری کرنے کی اجازت دی گئی؟

TelanganaVotings#
TelanganaElections#
TelanganaAssemblyElections#