سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز اور اہانت آمیز مواد کے خلاف ہوگی سخت قانونی کارروائی
واٹس ایپ اور فیس بک پر پولیس کی گہری نظر : ڈی ایس پی تانڈور شیکھر گوڑ کا انتباہ
وقار آباد/تانڈور : 02۔اگست
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ)
جی۔شیکھر گوڑ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس تانڈور، وقارآباد ضلع نے آج باقاعدہ ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تانڈور پولیس کی جانب سےسوشل میڈیا کےتمام پلیٹ فارمس پر گہری نظر رکھی گئی ہے۔انہوں نےکہاکہ چند واٹس ایپ گروپس میں سیاسی اور مذہبی اشتعال انگیزی کی اطلاعات ہیں اور ان واٹس ایپ گروپس پر بھی پولیس کی گہری نگاہ ہے۔
ڈی ایس پی تانڈور جی۔شیکھر گوڑ کہا کہ تانڈور کے چند واٹس ایپ گروپس میں ایک دوسرے کے درمیان اہانت آمیز بحث و مباحثہ، اشتعال و اہانت آمیز سیاسی بحث کی جارہی ہے اور ساتھ ہی کردار کشی پر مشتمل پوسٹس اور کمنٹس بھی کیے جارہے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف ناشائستہ الفاظ استعمال کیے جا رہے ہیں،جس سے اشتعال پیدا ہوگا۔
ڈی ایس پی تانڈور جی۔شیکھر گوڑ نے اپنے ویڈیو پیغام میں سخت انتباہ دیا ہے کہ ایسے واٹس ایپ گروپس، ان اشتعال انگیز پوسٹ اور بحث کے ذریعہ کسی کی کردارکشی یا کسی بھی قسم کی نفرت پھیلائے جانے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسا کرنے والوں کے خلاف پولیس کی جانب سے بناء کسی کی شکایت کے ازخود Suo Moto# کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نےمشورہ دیاکہ گروپس میں اپنے اپنے بلدی حلقوں اور علاقوں کے مسائل پر گفتگو کی جائے اور ان کے حل کی جانب توجہ دی جائے تو سوشل میڈیا کا بہترین استعمال ہوگا۔
یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ چند مقامی واٹس ایپ گروپس میں مذہبی اشتعال انگیز ویڈیوز اور فوٹوزپوسٹ کئے جارہے ہیں۔ساتھ ہی تشدد پرمشتمل جھوٹے، بناوٹی، غیر ملکی یا قدیم ویڈیوز کو پوسٹ کرتے ہوئے دو فرقوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ساتھ ہی مختلف سیاسی جماعتوں کے حامی افراد مختلف سیاسی شخصیتوں کے خلاف اہانت آمیز پوسٹس اور کمنٹ کر رہے ہیں۔
https://www.facebook.com/khanyahiya276/videos/1980160899034827
یونیفارم سول کوڈکے متعلق مسلمانوں کے خلاف زہر بھی پھیلایا جا رہا ہے اور جاگو ہندو جاگو کے کیاپشن کے ساتھ ایسے پوسٹس ویڈیوز بھی وائرل کیے جا رہے ہیں کہ شرڈی سائی بابا مندر کے ٹرسٹ نے رام مندر کی تعمیر کےلیے ایک پیسہ تک نہیں دیا جبکہ اسی ٹرسٹ نے حج کمیٹی کو 36 کروڑ روپئے کا عطیہ دیا ہے۔
وہیں زیادہ تر واٹس ایپ صارفین کا کہناہےکہ جئے پور ایکسپریس واقعہ اور منی و ہریانہ میں جاری فرقہ وارانہ اورنسلی تشدد پرمشتمل ویڈیوزکےعلاوہ ان سےمتعلق جھوٹے اور بناوٹی یا کسی اور قدیم واقعہ کےویڈیوز کو بھی وائرل کیا جا رہا ہے۔جس کا مقصددونوں طبقات کے درمیان منافرت پھیلانا ہے۔
ان سوشل میڈیاصارفین کا مطالبہ ہےکہ تانڈور پولیس ایسے سماج دشمن عناصر کےخلاف سخت قانونی کارروائی کویقینی بنائے اور تانڈور کی پرامن فضاء اور فرقہ وارانہ قومی یکجہتی کو قائم رکھے۔

" یہ بھی پڑھیں "
حیدرآباد ایئرپورٹ پر 82.42 لاکھ روپئے مالیتی سونا ضبط، دوحہ اور بنکاک سے پہنچے تھے دونوں مسافر

