کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ سے بیدر کے طلبہ اور اسکول انتظامیہ کو راحت، شاہین اسکول پر دائر غداری کی ایف آئی آر مسترد

کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ سے بیدر کے طلبہ اور اسکول انتظامیہ کو راحت
سی اے اے،این آر سی کے خلاف ڈرامہ پر شاہین اسکول پر دائر غداری کی ایف آئی آر مسترد

بنگلورو/گلبرگہ : 14/جون
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

کرناٹک ہائی کورٹ نے آج بیدر کے شاہین اسکول کے انتظامیہ سےتعلق رکھنے والے چار افراد کےخلاف شروع کی گئی کارروائی کو منسوخ کردیا۔ کرناٹک ہائی کورٹ کی کلبرگی( گلبرگہ) کی سنگل بنچ کے معزز جسٹس ہیمنت چندنگودر نے علاؤ الدین اور دیگر کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں کو سماعت کےلیےمنظور کیااور تعزیرات ہند 1860 کی دفعہ 34 کے ساتھ ان کے خلاف سیکشن 504، 505 (2)، 124A، 153A کے تحت شروع کی گئی استغاثہ کو منسوخ کر دیا۔

عرضی گزاروں کی جانب سے پیش ہونےوالے سینئر وکیل امیت کمار دیش پانڈے نےتصدیق کی کہ عدالت نے کارروائی کو منسوخ کر دیا ہے۔اور اس فیصلہ کی تفصیلی آرڈر کاپی کا انتظار ہے۔

شاہین اسکول بیدر کے طلبہ نے 2020ء میں سی اے اے CAA# اور این آر سی NRC# پر ایک ڈرامہ پیش کیا تھا،جس کےبعدایک سماجی و قانونی کارکن نیلیش رکھشالا کی شکایت پر بیدر نیو ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں ” ملک مخالف سرگرمیاں” کرنے اور پارلیمنٹ کے متعلق "منفی رائے پھیلانے” اور ملک سے غداری کے الزامات کے تحت اسکول انتظامیہ اور ایک طالبہ کی ماں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

بیدر پولیس کی جانب سے اس وقت درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق،شاہین پرائمری اور ہائی اسکول کی ہیڈ مسٹریس فریدہ بیگم اوراس ڈرامہ میں کردارکے تحت ڈائیلاگ اداکرنے والی ایک طالبہ کی ماں نجم النساء پر بھی پولیس نے وزیر اعظم نریندر مودی کی توہین گردانتے ہوئے اس ایف آئی آر میں نام درج کیا تھا۔بعدازاں انہیں 30 جنوری 2020 کو گرفتار کرلیاگیا تھا۔تاہم ایک سیشن عدالت نے انہیں 14 فروری 2020 کو رہا کر دیا تھا۔

کرناٹک ہائی کورٹ کی گلبرگہ بنچ کے آج کے اس فیصلہ کے بعد جہاں اسکول انتظامیہ کو راحت نصیب ہوئی ہے وہیں اس طالبہ کی ماں سمیت اسکول میں زیر تعلیم طلبہ کو بھی سکون کی سانس نصیب ہوئی ہے جنہیں ملک سے غداری کے الزامات کا سامنا تھا۔

 

" یہ بھی پڑھیں "

پاکستانی وی لاگر ابرار حسن کا موٹرسیکل کے ذریعہ ہندوستان کا سفر، مہمان نوازی سے متاثر، ایک ماہ میں سات ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طئے

” نوٹ : اس خبر کی ترتیب میں قانونی ویب سائٹ ” لائیو لاء Live Law سے بشکریہ مدد لی گئی ہے "