گجرات پولیس نے مسلمانوں کو سرعام کوڑے مارے، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل

گجرات پولیس نے مسلمانوں کو سرعام کوڑے مارے
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل
درگاہ کے انہدام کی نوٹس کے بعد پرتشدد احتجاج کا شاخسانہ

احمد آباد: 17/جون
(سحر نیوز ڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

سوشل میڈیا پر گجرات کا ایک انتہائی دل دہلا دینے والا ویڈیو تیزی کے ساتھ وائرل ہورہا ہے جس میں دیکھا جاسکتا کے مردوں کے ایک گروپ کی دو افراد کوڑو ں سے بے رحمی کے ساتھ پٹائی کررہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ان کا تعلق محکمہ پولیس کا ہے۔ یہ ویڈیو جوناگڑھ علاقہ کا بتایاجارہا ہے جہاں تشدد کے حالیہ واقعہ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک شخص کی موت واقع ہوگئی تھی۔

صحافی سچن دوبے Sachin Dubey@ کی جانب سے ٹوئٹر پر اپ لوڈ کی گئی 23 سیکنڈ کی ویڈیو میں رات کےوقت درگاہ کےسامنے چند مردوں کو ایک قطار میں کھڑے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ دو افراد کو بیلٹ سے ان مردوں کی پیٹھ کے نچلے حصہ پر بے تحاشہ مارتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ صحافی سچن دوبے نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں افراد پولیس اہلکار تھے جو تشدد میں ملوث افراد کو مار رہے تھے۔کوڑوں کے ذریعہ بے رحمی کے ساتھ مارے جانے کے دوران یہ لوگ چیخ رہے ہیں اور رونے کی آوازیں بھی سنی جاسکتی ہیں۔

سچن دوبے نے اس ویڈیو کو ٹوئٹ کرتےہوئے کیپشن میں لکھا ہے کہ”تصویر گجرات کے جوناگڑھ کی ہے۔جہاں درگاہ کو قانونی حیثیت دینے کے لیے نوٹس مانگنے پر تشدد پھوٹ پڑا۔جس میں مشتعل لوگوں نے پولیس چوکی پر پتھراؤ کیا۔جس کے بعد پولیس نے حملہ آوروں کو پکڑکرمارنا شروع کر دیا۔”

تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہوپائی ہے کہ آیا اس ویڈیو کا احتجاج والے واقعہ سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ویڈیو میں مار کھانے والوں کی شناخت کی تصدیق ہوئی ہے۔

گجرات میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو پولیس کی جانب سے سرعام کوڑے مارنے کا ایک واقعہ 4 اکتوبر 2022 کو بھی منظر عام پر آیا تھا۔جب گربا پنڈال پر پتھراؤ کا الزام عائد کیے جانے کے بعدمجمع کے سامنے 9 نوجوانوں کو کھمبے سے باندھ کر پولیس نے کی جم کرپٹائی کی تھی۔اس وقت بھی اس واقعہ کے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے تھے اور پولیس پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

دوسری جانب میڈیا اطلاعات کے مطابق گجرات کے جوناگڑھ ضلع میں پولیس جھڑپ کے بعد ایک شخص ہلاک ہو گیاجب بلدی عہدیداروں کی ایک ٹیم نے ایک درگاہ کوغیر قانی تعمیرات قرار دیتے ہوئے اسے منہدم کرنے کی نوٹس دی۔حکام نے اس بات کا ثبوت پیش کرنے کے لیے پانچ دن کی مہلت دی کہ درگاہ قانونی طریقہ سے تعمیر شدہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق 300 افراد کل جمعہ کی شام درگاہ کے قریب جمع ہوکر احتجاج کرنےلگے جب پولیس نے ہجوم پر قابو پانے کے لیے طاقت کا استعمال کیاتو ہجوم نے پتھراوکیا اور گاڑیوں میں آگ لگادی۔اس حملہ میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمیت تین پولیس عہدیدار زخمی ہوئے ۔بعد ازاں پولیس نے بھیڑ پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

مقامی پولیس عہدیداروں کے مطابق اس تشدد میں ایک شخص کی موت ہوئی ہے اور حالات کو قابو میں لانے کے لیے پولیس نے 174 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کےعہدیداروں کو تعینات کیا گیا ہے۔اس واقعہ کا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔

سویڈن میں مقیم ہندوستانی پروفیسر اشوک سوائن نےبھی اس واقعہ کا ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئےلکھاہے کہ” گجرات،انڈیا میں پولیس نےمسلمانوں کے ایک گروپ کو سرعام کوڑے مارے، کیونکہ انہوں نے ایک مقامی مسجد کو مسمار کرنے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ دنیا طالبان پر الزام کیوں لگاتی ہے؟ ”

https://twitter.com/ashoswai/status/1669955365633511424

 

یہ بھی پڑھیں "

گجرات میں گربا پنڈال پر پتھراؤ کا الزام، 9 نوجوانوں کی کھمبے سے باندھ کر پولیس نے کی جم کرپٹائی، مدھیہ پردیش میں نوراتری میں خلل کا الزام تین مکانات منہدم