وقارآباد ضلع کے تانڈور میں ایک خوبصورت مکان کو تین فیٹ اوپر اٹھایا جارہا ہے، سیول انجینئر شعیب احمد کا کارنامہ

وقارآباد ضلع کے تانڈور میں ایک خوبصورت مکان کو تین فیٹ اوپر اٹھایا جا رہا ہے
سیول انجینئر شعیب احمد کا کارنامہ، مکان کو کوئی نقصان نہیں ہوگا،ضلع میں پہلا تجربہ
45 ٹن وزنی مکان کے لیے 130 جیک کا استعمال، 18 افراد کاموں میں مصروف

وقارآباد/تانڈور: 29/اپریل
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ خصوصی)

قارئین نے اکثر یوٹیوب،انسٹاگرام یا فیس بک پر دیکھا ہوگا کہ ترقی یافتہ ممالک میں مشینوں کی مدد سے مکانوں کی منتقلی یا ان کی اونچائی میں اضافہ کرنا عام بات ہے۔یا پھر سڑکوں اور دیگر مقامات پر پہلے ہی سے موجود تناور درختوں کو کاٹنے کےبجائےمشینوں اور خصوصی گاڑیوں کی مدد سے ان درختوں کو جڑوں کے ساتھ جوں کا توں دیگر مقامات پر پہلے سے کھود کر رکھے گئے گڑھوں میں رکھ دیا جاتا ہے اور ایسے درخت ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہونے کے بعد اسی حالت میں سرسبز و شاداب کھڑے رہتے ہیں۔

اب مختلف وجوہات کے باعث مکانات کی اونچائی میں اضافہ کرنے کے کاموں کا ملک اور حیدرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے دیگر مقامات پر بھی شروع کیا گیا ہے۔اور اس کو ٹیکنالوجی،عزم و حوصلہ، دستیاب ذرائع اور انجننئرنگ کا شاہکار ہی کہا جاسکتا ہے۔

وقارآبادضلع کے تانڈور شہر میں ایک عالیشان مکان کوبناءکسی توڑ پھوڑ زمین سے تین فیٹ اونچا اٹھانےکےکاموں کا دو دن قبل آغاز کیاگیا ہے جس نے سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔لوگ حیرت زدہ ہیں کہ ایک ٹاؤن میں اس خوبصورت اور عالیشان مکان کو کس طرح بناء کسی توڑ پھوڑ کے زمین سے تین فیٹ اونچا کیا جاسکتا ہے۔؟ اس جاریہ کام اور اس کےلیے استعمال کی جارہی تیکنک کو دیکھ کر دم بخود ہیں۔اور اس کام کا بیڑہ خود تانڈور کے 26 سالہ ہونہار نوجوان سیول انجینئر محمد شعیب احمد نے اٹھایا ہے۔

تانڈور کی گرین سٹی کالونی میں موجود وہ مکان جس کی زمین سے بلندی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔اور نوجوان سیول انجینئر محمد شعیب احمد دیکھے جاسکتے ہیں۔

قارئین کے ذہن میں یہ سوال اٹھنا واجبی ہےکہ آخر اس خوبصورت اورعالیشان مکان کو زمین سے تین فیٹ اونچا کرنے کی ضرورت ہی کیوں محسوس کی گئی۔؟

تفصیلات کے مطابق تانڈور منڈل کے موضع پرواتا پور کے ساکن رویندر ریڈی نے تانڈور کی گرین سٹی میں 260 اراضی پر گز پر تعمیر کردہ ایک خوبصورت مکان خرید لیا تھا۔تاہم بارش کے موسم میں یہ مکان بارش کے پانی میں مکمل طور پر محصور ہوجایا کرتا کہ جیسے یہ مکان کسی جزیرہ میں تعمیر کیا گیا ہو۔جب کبھی بے موسمی اور موسمی بارش ہوتی اس مکان کے مکین اپنے اس مکان میں ہی پھنس جایا کرتے اور نہ باہر نکلنے کا کوئی راستہ ہوتا۔

رویندر ریڈی کے دوستوں نے انہیں بتایاکہ آج کل ٹیکنالوجی اور ہائیڈرالک جیک کی مدد سے مکان کو بناء کوئی نقصان پہنچائے زمین سے مکانات کی اونچائی میں اضافہ کیا جارہا ہے اور یہ تیکنک تلنگانہ میں بھی استعمال کی جارہی ہے۔رویندر ریڈی کو اطلاع ملی کہ تانڈور کے ساکن نوجوان سیول انجینئر شعیب احمد خود حیدرآباد میں موجود اپنی ” جوبلی کنسٹرکشن ” کے ذریعہ یہ کام انجام دے رہے ہیں۔اور انہوں نے حیدرآباد میں یہ کام انجام بھی دئیے ہیں۔

https://www.facebook.com/khanyahiya276/videos/545725040966152

 

پھر کیاتھا مکان مالک رویندر ریڈی نےسیول انجینئر محمدشعیب احمد سے ربط قائم کیا اور ان کے درمیان معاہدہ طئے ہوگیا کہ رویندر ریڈی کے اس خوبصورت و عالیشان مکان کو زمین سے تین فیٹ اونچا اٹھایا جائے گا جس کے بعد بارش کی وجہ سے انہیں کسی بھی پریشانی کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا۔اور ساتھ ہی اس کام کے دؤران مکان کو کسی بھی قسم کا کوئی نقصان بھی نہیں پہنچے گا۔

دو دن قبل تانڈور کی گرین سٹی کالونی میں اس کام کا آغاز کر دیا گیا۔45 ٹن کے حامل رویندر ریڈی کے اس مکان کو زمین سے تین فیٹ اوپر اٹھانے کے لیے 130 جیاک کا استعمال کیا جارہا ہے۔اور 18 افراد پرمشتمل عملہ اور مزدور اس کام پرایک ساتھ مستقل مصروف ہیں۔

مکان کی بنیادوں اور سیڑھیوں میں لگائے گئے جیاک دیکھے جاسکتے ہیں۔

اس سلسلہ میں نوجوان سیول انجینئر محمدشعیب احمد نے سحر نیوز ڈاٹ کام کے اس نمائندہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ حیدرآباد میں اب تک تین تا چار مکانات کی اسی طرح زمین سے اونچائی کے کاموں کو کامیاب طریقہ سے انجام دےچکے ہیں۔تانڈور کے ساکن محمد شعیب احمد نے اس نمائندہ کے استفسار پر بتایاکہ رویندر ریڈی کا مکان 260×50 پرمشتمل ہے اور اس پورے کام پر چار تا پانچ لاکھ روپئے کا خرچہ ہوگا۔

ساتھ ہی محمدشعیب احمد نے بتایا کہ پہلے اس گھر کی بنیادوں پر تعمیر کردہ پلرس میں جیاک لگائے جائیں گے پھر اس حصہ کی توڑ پھوڑ کے بعد بیس میٹ Basemit# تعمیر کی جائے گی بعدازاں ان جیاکوں کوبحفاظت نکال لیاجائے گا۔اقبال بھائی مرحوم(مالک جوبلی ٹیلرز،تانڈور) کے ہونہار نواسہ محمدشعیب احمدسیول انجنئر نے بتایا کہ اس طریقہ کار سے مکان کو کاموں کےدوران اور بعد میں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔اس طرح اس مکان کو زمین سے تین فیٹ اوپر اٹھایا جائے گا۔اور اس کام کے مکمل ہونے میں 25 دن لگیں گے۔

سیول انجنئر محمدشعیب احمد سے ایسے ضرورت مندمکان مالکین استفادہ کےلیے ان کے موبائل فون نمبر 9959732713 پر ربط قائم کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب مکان مالک رویندر ریڈی نے جاریہ کاموں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑی خواہش کے ساتھ خریدے گئے اس مکان سے بھلےہی بارش کےموسم میں شدیدمشکلات درپیش ہوتی تھیں لیکن اس مکان کو توڑکر دوبارہ اونچائی پر مکان تعمیر کرنا انہیں منظورنہیں تھا۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انہیں اور ان کے افراد خاندان کو موسم برسات میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا کیونکہ مکان کے زمین کے برابر ہونے کی وجہ سے بارش کا سارا پانی ان کے مکان میں داخل ہوجایا کرتا تھا،گھریلو اشیاء برباد ہوجاتیں اور ساتھ ہی ان کا مکان کئی دنوں تک بارش کے پانی میں محصور رہتا تھا۔

مالک مکان رویندر ریڈی نے کہاکہ دوستوں نے انہیں بتایا کہ بناء کسی نقصان ہائیڈرالک جیاک کی مدد سے مکان کی زمین سے اونچائی میں اضافہ اب ناممکن نہیں ہے۔اب زمین کے متوازی مکان کی اونچائی میں اضافہ کے کاموں کا آغاز ہوا ہے۔جیاک کی مدد سے بناء کسی نقصان مکان کی اونچائی میں اضافہ کیا جارہا ہے اور یہ ٹیکنالوجی ان جیسے مکان مالکین کے لیے حیرت انگیز اور ایک نعمت کے مماثل ہے۔