مدھیہ پردیش میں ایمبولنس کی آمد میں تاخیر
حادثہ میں زخمی نوجوان جے سی بی مشین کے ذریعہ ہسپتال منتقل
بھوپال:13۔ستمبر
(سحر نیوزڈاٹ کام/ایجنسیز )
سوشل میڈیا پر آج مدھیہ پردیش کا ایک ویڈیو وائرل ہواہے کہ جہاں حادثہ میں شدید زخمی نوجوان کو ایمبولنس نہ ملنے پر جے سی بی مشین کے ذریعہ ہسپتال منتقل کیا گیا۔ضلع کٹنی میں پیش آئے اس واقعہ کی تفصیلات کےمطابق گائرتلائی کا رہنے والا مہیش برمن اس کی موٹرسیکل کے ایک اور موٹر سیکل سے ٹکرا جانے کے بعد حادثہ میں شدید زخمی ہوگیا۔
مقامی لوگوں کےمطابق اطلاع دئیے جانے کے نصف گھنٹہ بعد تک بھی ایمبولنس نہیں آئی اور زخمی نوجوان کے جسم سے زائد مقدار میں خون خارج ہورہا تھا توجے سی بی مشین مالک پشپندروشوکرما نےرضاکارانہ طور پر اس زخمی نوجوان کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا یہ حادثہ ان کی دکان کے سامنے پیش آیاتھا۔
اس نوجوان کو جے سی بی کے اگلے حصہ میں لٹاکر ہسپتال منتقل کیے جارہےمنظر پرمشتمل ویڈیو سوشل میڈیاپر وائرل ہوگیاہے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق زخمی مہیش برمن کا اس حادثہ میں ایک پیر ٹوٹ گیا ہے۔ابتدائی طبی امداد کے بعد اسے ضلع ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
مدھیہ پردیش سے وقفہ وقفہ سے مریضوں اور نعشوں کومختلف طریقوں سےمنتقل کیے جانے کے ویڈیوز وائرل ہوتے رہتے ہیں۔گزشتہ ماہ دموہ ضلع سے ایک ویڈیو سامنے آنے کےبعدعہدیداروں نےتحقیقات کا آغاز کیا۔اس ویڈیو میں دیکھا گیاتھا کہ ایک شخص اپنی حاملہ بیوی کو ٹھیلہ بنڈی پر لادکر ہسپتال لے جارہا تھا۔
اس وقت اس حاملہ خاتون کے شوہر کیلاش اہیروال نے الزام عائد کیاتھا کہ اس نے ڈائل 108سرکاری ایمبولینس سروس کو کال کیاتھالیکن دو گھنٹوں سے زائدوقت تک ایمبولنس نہیں آئی اور اس کی بیوی دردزہ سے تڑپ رہی تھی۔اس نے یہ بھی الزام عائدکیاتھا کہ جب وہ دو کلومیٹر کا فاصلہ طئے کرکے سرکاری آروگیہ سنٹر پہنچا تو وہاں کوئی ڈاکٹر یا نرس موجود نہیں تھے۔بعدازاں اس کی بیوی کو سرکاری ایمبولینس کے ذریعہ ہٹہ منتقل کیا گیا۔لیکن وہاں مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اسے دموہ ضلع ہسپتال لے جانا پڑا۔
حکومت کی جانب سے 108 ایمبولنس گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کےاعلانات کےباوجود مریضوں کی ایمبولنس تک رسائی کامسئلہ برقرار ہے۔جبکہ ریاستی حکومت ہر سال اس پر 220 کروڑ روپے خرچ کرتی ہے۔
2 اگست کوبھی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہواتھا کہ انوپ پورضلع کےموضع گوڈارو کی جیمنتری یادو کی شاہڈول میڈیکل کالج میں موت کے بعدمتوفی کے فرند سندر یادو نے کہاتھا کہ ہسپتال انتظامیہ نے ان کی ماں کی نعش منتقل کرنےکے لیے انہیں ایمبولنس یا مردہ گاڑی فراہم نہیں کی۔اور کہاگیا کہ کسی خانگی گاڑی کاکرایہ ادا کرتے ہوئے نعش کو گھر لے جایا جائے۔جس کے بعد سندریادو اپنی ماں کی نعش موٹرسیکل پر باندھ کر لے گیا تھا۔

جبکہ مدھیہ پردیش سے 10 جولائی کوبھی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہواتھا۔جس میں دیکھا گیاتھاکہ مدھیہ پردیش کےموریناڈسٹرکٹ ہسپتال کے قریب نہرو پارک کی دیوار سے ٹیک لگاکرایک 8 سالہ بھائی گلشن اپنے دو سالہ بھائی راجہ کی خون کی کمی،جگرکے عارضہ اور نمونیہ سے موت کے بعد دوگھنٹوں تک اپنی گود میں اس کی نعش رکھ کر وہیں بیٹھارہا۔کیونکہ ہسپتال انتظامیہ نے ایمبولنس دینے سےانکار کردیا تھا اور ان کا باپ پوجارام جاناؤ کسی سستی سواری کا انتظام کرنے گیا تھا۔اس بچے کی نعش کو 30 کلومیٹر دور موجود ان کے گاؤں بدفرا لے جانا تھا جوکہ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال سے 450 کلومیٹر شمال میں موجود ہے۔

