
غزل
شاعر : بشیر بدر
لہروں میں ڈوبتے رہے دریا نہیں ملا
اس سے بچھڑ کے پھر کوئی ویسا نہیں ملا
٭٭
وہ بھی بہت اکیلا ہے شاید مِری طرح
اس کو بھی کوئی چاہنے والا نہیں ملا
٭٭
ساحل پہ کتنے لوگ مِرے ساتھ ساتھ تھے
طوفاں کی زد میں آیا تو تِنکا نہیں ملا
٭٭
کچھ لوگ تھوڑی دیر تو اچھے لگے مگر
ہم جس کے ہوسکیں کوئی ایسا نہیں ملا
٭٭
دو چار دن تو کتنے سکوں سے گزر گئے
سب خیریت رہی کوئی اپنا نہیں ملا

