تھک کر پڑاؤ ڈالا تو خیمے اُکھڑ گئے!
بیٹوں نے 80 سالہ ماں کو بوجھ مانتے ہوئے تین دن قبل بس اسٹانڈ میں لاکر چھوڑ دیا
وقارآباد/کوڑنگل:21۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام)
بیٹوں نے اپنی ضعیف ماں کو بوجھ مانتے ہوئے تین دن قبل بس اسٹانڈ کے احاطہ میں لاوارث چھوڑکر فرار ہوگئے۔
ضلع وقارآباد کے کوڑنگل بس اسٹانڈ میں پیش آئے اس انسانیت سوز واقعہ کی تفصیلات کے مطابق ایک 80 سالہ ضعیف خاتون کو تین دن قبل اسکے بیٹے اس کی دیکھ بھال اور ذمہ داری سے فرار حاصل کرنے کی غرض سے کوڑنگل کے بس اسٹانڈ لے کر آئے اور اسے تنہا چھوڑکر فرار ہوگئے۔

دو دن تک یہ بیچاری ماں بھوک سے لاغر ہوکر بس اسٹانڈ کے فرش پر ہی پڑی۔جب آج اس خاتون سے متعلق اطلاع چند مقامی افراد کو ملی تو وہ کھانے کے ساتھ بس اسٹانڈ پہنچ گئے اور اس بدنصیب ماں کو کھانا کھلایا۔
بتایا گیا ہے کہ اس ضعیف خاتون کو تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔
اس ضعیف خاتون کی حالت زار پر صدر نشین بلدیہ کوڑنگل جگدیشورریڈی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں اسکے بیٹوں اور بیٹی کو طلب کرکے تفصیلات حاصل کریں گے اور اس ضعیف خاتون کو کسی اولڈ ایج ہوم کو روانہ کرنے کا انتظام کریں گے۔
اس خاتون سے متعلق مزید اطلاعات کاانتظار ہے۔ سال میں ایک مرتبہ آج کی نئی نسل سوشیل میڈیا پر ” مدرس ڈے ” اور ” فادرس ڈے” کے مواقع پر چند کلمات لکھ کر یہ سمجھ بیٹھتی ہے کہ اس نے اؤلاد ہونے کا فرض نبھادیا!!
جبکہ ماں اور باپ انسان کے لیے ایک نعمت ہوتے ہیں جن کی قدر کرنا اور ان کی تمام ضرورتوں کو بلاء کسی شکوہ شکایت کے پورا کرنا بچوں کا فرض ہوتا ہے جیسے انہوں نے بچپن میں انہوں نے ان کی ہرخواہش کو پورا کیا تھا!!

کسی نے سچ ہی کہا کہ ایک ماں اور باپ لاکھ مصیبتیں برداشت کرکے، تنگ حالی اور تنگ دستی کے باؤجود اپنے چار بچوں کی بناء کسی شکوہ شکایت اچھی طرح سے پرورش کرتے ہیں اور انہیں بہتر تعلیم اور تربیت کے ذریعہ سماج میں ایک اونچا مقام اور مال و دؤلت کمانے کے قابل بناتے ہیں پھر بھی وہ کبھی اپنے بچوں پر کوئی احسان نہیں جتاتے اور نہ ہی اپنی زندگی میں کبھی کسی قسم کا معاوضہ ہی طلب کرتے ہیں!
لیکن زیادہ تر گھرانوں میں دیکھا جاتا ہے کہ جب یہی اؤلا د بڑی ہوکر سماج میں ایک مقام حاصل کرلیتی ہے تو AntiQu چیزیں تو لاکھوں روپیوں میں خرید کر اپنے گھر سجالیتی ہی لیکن انہیں اپنے ہی ضعیف ماں اور باپ ایک بوجھ لگنے لگتے ہیں اور یہی چار بچے مل کربھی ماں باپ کی دیکھ بھال نہیں کرسکتے!! آج کے اس ترقی یافتہ دؤر کی یہی تلخ حقیقت ہے!!
ماں کی قربانیوں اور اؤلاد کے تئیں اس کی محبت کے متعلق مشہور شاعر عباس تابش نے کبھی کہا تھا کہ :
ایک مدت سے مِری ماں نہیں سوئی تابشؔ میں نے اِک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
یاد رہے کہ دو ماہ قبل بھی نارسنگی،حیدرآباد کے ساکن دو بیٹوں نے موٹرسیکل پر سوار کرکے اپنے باپ سوامی 62 سالہ کو وقارآباد کے قریب موجود اننت گیری ہلز کے گھنے جنگلات میں لاکر چھوڑ دیا تھا۔ چار دن بعد یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب بیچارہ باپ بھوک اور پیاس کی شدت کو برداشت نہ کرتے ہوئے چار کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طئے کرکے وقارآبا د پہنچا تھا۔
جس کے بعد اس معاملہ میں پولیس نے دونوں بیٹوں کو وقارآباد پولیس اسٹیشن طلب کرتے ہوئے سخت تنبیہ کے بعد باپ کو گھر لے جانے کی ہدایت دی تھی۔
( اس واقعہ کی تفصیلات نیچے دی گئی لنک پر پڑھی جاسکتی ہیں )
دوبیٹوں نے اپنے ضعیف باپ کو اننت گیری ہلز کے جنگل میں لاکر چھوڑ دیا

