حکومت سے سوال پوچھنے کیلئے ہی تلنگانہ میں نئی سیاسی پارٹی کا قیام : وائی ایس شرمیلا

حکومت سے سوال پوچھنے کیلئے ہی تلنگانہ میں نئی سیاسی پارٹی کا قیام 

وائی ایس آر کی جینتی کے دن 8 جولائی کو پارٹی کے نام کااعلان:وائی ایس شرمیلا

کھمم : 9۔اپریل (سحر نیوز ڈاٹ کام) 

آنجہانی وزیراعلیٰ متحدہ آندھرا پردیش ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی دختر اور وزیراعلیٰ آندھرا پردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی کی ہمشیرہ وائی ایس شرمیلا نے جمعہ کی رات تلنگانہ کے ضلع کھمم کے پویلین گراؤنڈ میں منعقدہ سنکلپ سبھا جلسہ عام میں اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی نئی سیاسی جماعت کا اپنے والد آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے یوم پیدائش 8 جولائی کو اعلان کریں گی اور اسی دن پارٹی کا جھنڈہ اور ایجنڈہ بھی عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

وائی ایس شرمیلا نے اس سنکلپ یاترا سے طویل خطاب کے دؤران ریاستی وزیر اعلیٰ کے۔ چندراشیکھر راؤ کو خاص نشانہ بناتے ہوئے اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ ان کی نئی سیاسی پارٹی کے قیام کا مقصد ” حکومت سے سوال پوچھنا ہے
وائی ایس شرمیلا نے اپنی پرُجوش تقریر میں ٹی آرایس حکومت اور وزیر اعلیٰ کے سی آر کے متعلق کئی سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ریاست تلنگانہ میں تمام سیاسی جماعتوں کے مفاد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں وائی ایس شرمیلا نے کانگریس پارٹی کو ٹی آر ایس پارٹی کی ” کمپنی ” قرار دیا جو ایک اپوزیشن کا رول ادا کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔

وہیں بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے وائی ایس شرمیلا نے کہا کہ بی جے پی کے پاس سوائے مذہب کی سیاست کے کچھ اور نہیں ہے جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان کے پاس کوئی ترقیاتی کام نہیں ہیں جن کو دکھاکر وہ عوام سے ووٹ مانگ سکیں انہوں نے ورنگل میں ریلوے کوچ فیکٹری اور نظام آباد میں ہلدی بورڈ کے عدم قیام کا حوالہ بھی دیا۔ وائی ایس شرمیلا نے الزم عائد کیا کہ تلنگانہ میں اپوزیشن پارٹی کے عدم وجود کے باعث ہی حکومت کی من مانی چل رہی ہے عوامی مسائل جوں کے توں برقرار ہیں اور حکومت سے یہی سوال کرنے کی غرض سے ان کی جانب سے ایک نئی سیاسی جماعت قائم کی جارہی ہے۔

زائد از ایک گھنٹہ طویل اپنے خطاب میں تالیوں اور نعروں کی گونج میں وائی ایس شرمیلا نے کہا کہ 18سال قبل آج ہی کے دن یعنی 9 اپریل کو رنگاریڈی کے چیوڑلہ سے انکے والد وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی جانب سے پرجا پرستھانم پد یاترا کا آغاز کیا گیا تھا اور یہ عوامی مفاد میں اٹھنے والا پہلا قدم تھا اور اس پدیاترا کے دؤران انکے والد وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے سخت موسم گرما میں روزآنہ 20 کلومیٹر کی پدیاترا کرتے کے دؤران  اپنی مخصو ص مسکراہٹ کیساتھ عوام اور کسانوں کے مسائل سے واقفیت حاصل کی تھی اور اقتدار پر آنے کے بعد ان مسائل کو حل کیا تھا۔اور  آروگیہ شری،108 ایمبولنس سرویس ،طلبا کیلئے فیس ری ایمبرسمنٹ،اسکالرشپس ،مفت برقی، بے گھر لوگوں کیلئے پختہ مکانات کی فراہمی اوراقلیتوں کو تحفظات کی فراہمی کی بنیاد وہیں سے پڑی تھی۔

وائی ایس شرمیلا نے کہا کہ سیاست میں کسی نے بھی اس طرح کی اور اتنی طویل پدیاترا کی ہمت نہیں کی تھی انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والد آنجہانی وائی ایس آر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے راجنا کی بیٹی کے طور پر قدم بڑھارہی ہیں۔

اور تلنگانہ میں دوبارہ وہی دور حکومت واپس لانا چاہتی ہیں،سیاسی پارٹی کا قیام اس لیے ضروری ہے کہ انکے والد وائی ایس آر نے کسانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے کی غرض سے 64 لاکھ کسانوں کے قرض معاف کیے تھے،جلا یگنم کے تحت 16 لاکھ ایکڑ اراضی کو سیرآب کرنے کی غرض سے وائی ایس آر نے 36,000 کروڑ کی لاگت سے پرانیہتا چیوڑلہ پراجکٹ کا آغاز کیا تھا وائی ایس شرمیلا نے الزام عائد کیا کہ پرانیہتا پراجکٹ کو ری ڈیزائن کے نام سے وزیر اعلیٰ کے سی آر لاکھوں کروڑ صرف کررہے ہیں وائی ایس شرمیلا نے اسے بدعنوانی جیسے الزام سے منسوب کردیا۔

وائی ایس آر شرمیلا نے ریاستی وزیر اعلیٰ کے سی آر پر سخت تنقید جاری رکھتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ ہرگز علحدہ تلنگانہ تحریک کی مخالف نہیں رہی ہیں تاہم بہتر ہوتا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ معصوم نوجوانوں کی خودکشیوں کے بغیر حاصل ہوتی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پانی، فنڈس اور روزگار کے نام پر علحدہ ریاست حاصل کی گئی لیکن ان تینوں سے وزیر اعلیٰ اور ان کا خاندان ہی مستفید ہورہا ہے اور عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ وائی ایس شرمیلا نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ کسانوں کے نام پر قرض حاصل کرکے اپنی جیب بھری جارہی ہے۔

وائی ایس شرمیلا اپنی والدہ وائی ایس وجیہ اماں کے ساتھ کھمم کے جلسہ میں۔

وائی ایس شرمیلا نے اپنے خطاب میں سوال کیا کہ ریاست میں جاری کسانوں اور بیروزگار نوجوانوں کی خودکشیوں کیلئے کون ذمہ دار ہیں؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ کے سی آر خود سیکریٹریٹ نہیں گئے لیکن پوری عمارت منہدم کرکے جدید عمارت تعمیر کروائی جارہی ہے۔

وائی ایس شرمیلا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریاست تلنگانہ حاصل کرکے سات سال ہوگئے لیکن عوام کی خواہشات اور مسائل جوں کے توں قائم ہیں انہوں نے کسانوں، بیروزگاروں کی خودکشیوں اور وکیل جوڑے کے دن دہاڑے قتل اور دیگر واقعات کاحوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا یہ سماج انسانوں کے لیے جینے کیلئے ہے؟

وائی ایس شرمیلا نے اپنے آنجہانی والد وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے متحدہ آندھرا پردیش کے دؤر حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وائی ایس آر نے اپنے پانچ سالہ دؤر حکومت میں 11 لاکھ بیروزگاروں کوسرکاری ملازمتیں دی تھیں اور 46 لاکھ بے گھر افراد کو پکے مکانات فراہم کیے تھے جس پر اس وقت کے سی آر نے کہا تھا کہ ایسے چھوٹے مکانات میں داماد کہاں سوئے گا ؟ وائی ایس شرمیلا نے مجمع سے سوال کیا کہ کیا انہیں اب تک ڈبل بیڈورم مکانات حاصل ہوئے ہیں؟انہوں نے کہا کہ وائی ایس آر کے دؤر حکومت میں 6 لاکھ ایکڑ اراضیات تقسیم کی گئی تھیں لیکن کے سی آر کی جانب سے کیا گیا تین ایکڑ اراضی کی فراہمی کا وعدہ آج تک پورا نہیں کیا گیا!!

کھمم پہنچنے پر وائی ایس شرمیلا کا انکے حامیوں نے استقبال کیا۔

وائی ایس شرمیلا نے اپنے خطاب میں اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انکے والد آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے مسلمانوں کیلئے چار فیصد تحفظات دئیے تھے جس سے لاکھوں مسلمانوں کو فائدہ پہنچا اسی طرح انہوں نے وقف اراضیات اور جائدادوں کا تحفظ کرتے ہوئے وقف املاک کو وقف بورڈ کو واپس کروایا تھا وائی ایس شرمیلا نے یہاں بھی اپنے خطاب میں مجمع سے سوال کیا کہ وزیر اعلیٰ کے سی آر کی جانب سے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیا ہوا؟ اور زور دیکر کہا کہ یہی سوال حکومت سے پوچھنے کیلئے پارٹی کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔

وائی ایس شرمیلا نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا غریب عوام کو تلنگانہ کے قیام کے بعد بھی سفید راشن کارڈ نہیں دئیے گئے، کارپوریشنس کو فنڈس جاری نہیں کیے جارہے ہیں۔ اپنے خطاب کے آخر میں آنجہانی وزیراعلیٰ متحدہ آندھرا پردیش ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی دختر اور وزیراعلیٰ آندھرا پردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی کی ہمشیرہ وائی ایس شرمیلا نے اپنی پارٹی کے قیام کو لیکر کہا کہ شیر ہمیشہ تنہا آتا ہے اور انہوں نے اعلان کیا کہ 8 جولائی کو وہ اپنی نئی پارٹی اور اور پارٹی پرچم کا اعلان کریں گی۔

ساتھ ہی اس جلسہ میں وائی ایس شرمیلا نے اعلان کیا کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے اعلان کردہ سرکاری ملازمتوں کیلئے اعلامیہ کا اجراء عمل میں نہیں لایا گیا تو وہ 15 اپریل سے حیدرآباد میں تین روزہ بھوک ہڑتال کریں گی۔

وائی ایس شرمیلا کی جانب سےکھمم کے پویلین گراؤند میں منعقدہ اس جلسہ کے بڑے پیمانے پر انعقاد کا قبل ازیں اعلان کیا گیا تھا تاہم کورونا وائرس کی وباء کے باعث اس جلسہ میں صرف 6,000 افراد کی شرکت کی اجازت دی گئی تھی تاہم وائی ایس شرمیلا کے اس جلسہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔اس جلسہ سے وائی ایس شرمیلا کی والدہ وائی ایس وجیہ اماں نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وائی ایس آر نے بلاء مذہب و ذات پات کے تمام کو فائدہ پہنچایا تھا وہ ہرگز کسی بھی مذہب یا ذات پات کے خلاف نہیں تھے وائی ایس وجیہ اماں نے کہا کہ وہ ہمیشہ تلنگانہ کے عوام کی شکر گزار ہی رہیں گی۔

 

نوٹ : تمام تصاویر YSR Telangana Party YSRTP, Facebook Page سے لی گئی ہیں۔