اترپردیش انتخابات: دوسرے مرحلہ کی رائے دہی سےقبل یوگی کا متنازعہ ٹوئٹ، غزوہ ہند کا ذکر،کہا ملک آئین سے چلے گا شریعت سے نہیں

غزوہء ہند کا خواب دیکھنے والے طالبانی سوچ کے اسیر یاد رکھیں
ہندوستان شریعت کے مطابق نہیں، ہندوستانی آئین کے مطابق چلے گا
دوسرے مرحلہ کی رائے دہی سے قبل چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ کا متنازعہ ٹوئٹ

نئی دہلی: 13۔فروری(سحرنیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

کل 14 فروری کو اترپردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی رائے دہی کے دوسرے مرحلہ سے عین قبل آج چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے غزوہء ہند کا حوالہ دیتے ہوئے ریاست کے رائے دہندوں کو متنبہ کیا ہے!۔دوسرے مرحلہ میں کل اترپردیش کی 55 نشستوں کے لیے رائے دہی ہونے والی ہے۔

آج شام 5 بجے ٹوئٹر پر کیے گئے اپنے ہندی ٹوئٹ میں چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ نےلکھا ہے کہ”غزوہءہند کا خواب دیکھنےوالے ،طالبانی سوچ کے اسیر،مذہبی جنونی،یہ بات گانٹھ باندھ لیں… وہ رہیں یا نہ رہیں،ہندوستان شریعت کے مطابق نہیں،ہندوستانی آئین کے مطابق چلے گا،جئے شری رام”۔

یاد رہے کہ اتر پردیش ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے لیے سات مرحلوں میں رائے دہی ہورہی ہے جس کے لیے 10 فروری کو رائے دہی کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے۔اب 14، 27،23،20 ، اور 3 مارچ اور 7 مارچ کو رائے دہی ہوگی۔جبکہ 10 مارچ کو انتخابی نتائج کا اعلان ہوگا ۔

پہلے مرحلہ کی 10 فروری کو ہوئی رائے دہی کے دن صبح کی اولین ساعتوں میں 3 بجے ٹوئٹ کرتے ہوئےچیف منسٹر اُتر پردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے رائے دہندگان کو انتباہ دیا تھا کہ”اگر اتر پردیش میں بی جے پی دوبارہ اقتدار پر نہیں آئی تو ریاست اتر پردیش بھی کیرالا،بنگال اور کشمیر میں تبدیل ہوجائے گی”۔ 

اس اس ٹوئٹ کے خلاف اسی دن چیف منسٹر کیرالا پنارائی وجین نےاپنے ٹوئٹ کے ذریعہ چیف منسٹر اتر پردیش آدتیہ ناتھ پر طنز کرتے ہوئے لکھا تھا کہ”اگر یوپی کیرالا میں تبدیل ہوجاتا ہے توخدشہ ہے کہ یہ بہترین تعلیم،صحت کی خدمات،سماجی بہبود اور معیار زندگی سے لطف اندوز ہوگا۔اور ایک ہم آہنگ معاشرہ ہوگا جس میں مذہب اور ذات پات کے نام پر لوگوں کا قتل نہیں کیا جائے گا اور یوپی کے لوگ یہی چاہیں گے”۔

اپنے انتخابی جلسوں میں یوگی آدتیہ ناتھ مسلسل مذہبی منافرت والی تقاریر کرنے میں مصروف ہیں۔انہوں نے راجے پور اور کمل گنج میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ سماج وادی پارٹی بھوجپور کو اسلام آباد بنانا چاہتی ہے۔وہ اپوزیشن جماعت سماج وادی پارٹی پر بارہا یہ الزام عائد کرچکے ہیں کہ وہ پاکستان اور اس کے بانی محمد علی جناح کے حامی ہیں۔