اردو زبان و ادب کے خمیر میں ہندوستانیت ہے
اور اس کی روح میں ہندوستانی تہذیب و تقافت پوشیدہ ہے
شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد میں نامورمحقق،نقاد
اور ماہر دکنیات پروفیسرنسیم الدین فریس کاتوسیعی لیکچر
رپورتاژ : نیہا نورین نورؔ
ریسرچ اسکالر، یونیورسٹی آف حیدرآباد
شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد کے زیر اہتمام آن لائن توسیعی لیکچر”تحریک آزادی اور اردو شاعری”کے عنوان سے30جنوری 2022 بروز اتوارصبح 11:30بجے منعقدکیا گیا۔جس میں کثیر تعداد میں مختلف جامعات کے پروفیسرز اور طلبا نے شرکت کی۔
حکومت ہند کی جانب سے جشن آزادی کے 75 ویں سالگرہ کے موقع پر "آزادی کے امرت مہا اتسو”تقاریب کا سلسلہ منایا جارہا ہے۔اسی ضمن میں شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد کی جانب سے اس توسیعی لیکچر کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔
اس پروگرام کی صدارت صدر شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدر آباد پرفیسر سیدفضل اللہ مکرم نے کی۔اس پروگرام کی نظامت کی ذمہ داری ریسرچ اسکالر اسماء امروز نے سنبھالی۔اسماء امروز نے سب سے پہلے مہمان خصوصی کا زبان و ادب کے مختلف حوالوں سے تعارف کروایا۔ نیز صدر شعبہ اردو اور تمام حاضرین کا استقبال کیا۔
انہوں نے پہلے تحریکِ آزادی کاپس منظر پیش کیا اور کئی ایک اشعار سنائے اور ساتھ ہی لیکچر کے مقاصد پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے ان اردو شعراء و ادبا کے لیے خراج عقیدت بھی پیش کیا۔غرض تحریک آزادی نے اردو شاعری میں بغاوت کی آمیزش سے نیا اسلوب نئے رجحانات و میلانات کو شرف قبولیت بخشا۔
ناظمِ پروگرام اسما امروز نے مہمانِ خصوصی پروفیسرنسیم الدین فریس کو توسیعی لیکچر کے لیے مدعو کیا۔
پروفیسرنسیم الدین فریس نے اپنے توسیعی لیکچر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان و ادب کے خمیر میں ہندوستانیت ہے۔اس لیے جب بھی ہندوستان پر کوئی مصیبت آئی تو اردو زبان کی فطرت اور اس کے خمیر کو دھکا پہنچا ہے،اس کی روح بلبلا اٹھی ہے اور اس نے اس جارحیت اور صدمے کے خلاف احتجاج بلند کیا ہے۔

اگر اردو زبان میں سامراجیت کے خلاف،استعماریت کے خلاف آواز سب سے پہلے اٹھی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو کا خمیر ہندوستانی ہے،اس کی روح ہندوستانی ہے۔ان تمہیدی کلمات کے بعد وہ اردو شاعری کی طرف آئے اور کہا کہ یوں تو نثر میں بھی کافی سرمایہ موجود ہے لیکن اردو شاعری میں جدوجہد آزادی کے متعلق بہت ہی عظیم الشان اور بہت ہی وسیع لٹریچر ملتا ہے یہ ایسا سرمایہ ہے کہ جس کا احاطہ کرنے کے لیے ایک مضمون تو کجا ایک کتاب بلکہ کئی جلدیں بھی نہ کافی ہوں گی۔
سینکڑوں شعراءنے جدوجہد آزادی میں حصہ لیا اور اپنی شعری تخلیقات کے ذریعہ تحریک آزادی سے اپنا رشتہ جوڑا۔انہوں نے چند اہم شعراء کے حوالے سے اپنی گفتگو کی اور ابتدا دکنی شعرا اور ان کی شاعری سے کی۔
تجھے چاکری کیا تو اپنیچ بول
ترا شعر دکنی ہے تو دکنیچ بول
پروفیسرنسیم الدین فریس نے مزید کہا کہ جدوجہد آزادی سے متعلق اردو ادب کے تین پہلو ہمیں نظر آتے ہیں۔پہلا وہ گوشہ جس کے اندر ہندوستان سے محبت کا اظہار ہے۔دوسرا رخ قومی یکجہتی ہے اور تیسرے وہ جذبات جن سے انگریز سامراج کے خلاف بیرونی حکومت کے خلاف بغاوت اور مزاحمت کا پہلو سامنے آتا ہے۔اس کا آغاز دکنی شاعری سے ہوا۔
دکن میں اکبر کے زمانے سے ہی احتجاج جاری ہوگیا تھا جس طرح شمال میں ان کا غلبہ بڑھ رہا تھا اسی طرح جنوب میں بھی ان کے غلبہ کا سیلاب بڑھتا جارہا تھا یہ دور 17 ویں صدی کا تھا۔شاہ تراب دکن کے ایک صوفی شاعر تھے۔انہوں نے ایک مثنوی’’ظہور کلی‘‘ لکھی جو صوفیانہ مسائل پر مبنی تھی۔اس مثنوی میں انہوں نے اس زمانے میں دکن میں فرانسیسیوں کا جو غلبہ تھا اس کو بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ شمال میں جب دیکھتے ہیں تو مصحفیؔ،حسرتؔ، میرؔ،جعفرؔ علی شاہ ان سب کے یہاں ہم کو ایسی ہی شاعری ملتی ہے۔ان شعراء نے کبھی غزل کی ایمائیت اور اشاریت کے پردے میں انگریزوں کے خلاف اپنی آواز بلند کی اور اپنے جذبات کا اظہار کیا۔کیونکہ اس دؤر میں شمال سے لے کر جنوب تک اہلِ فرنگ کا غلبہ ایک طوفان کی طرح پھیلتا جارہا تھا۔
میر کا یہ شعر جو اس عہد کی بے کسی اور بے بسی کی دل چیرنے والی آواز بن کر سامنے آتا ہے:
دھوپ میں جلتی ہے غربت وطنوں کی لاشیں
تیرے کوچہ میں مگر سایہ دیوار نہ تھا
یہ شعر وہی کہہ سکتا ہے جس نے دھوپ میں مقتول شہیدوں کی لاشیں دیکھی ہوں۔اسی طرح مصحفی کا یہ شعر:
ہندوستان میں دولت و حشمت جو کچھ کہ تھی
کافر فرنگیوں نے بہ تدبیر کھینچ لی
مہمان مقرر پروفیسرنسیم الدین فریس نے ہندوستان کی دو بڑی جنگوں 1757ء کی جنگ پلاسی اور دوسری 1799ء کا تاریخی پس منظر پیش کرتے ہوئے سراج الدولہ کے ایک درباری ملازم رام نارائن کا ایک شعر بھی پیش کیا جس میں سراج الدولہ کی شہادت کا ذکر کیا گیاہے آگے نسیم الدین فریس نے شیر میسور ٹیپو سلطان اور انگریز جنرل ویلزلی کی جنگ کا ذکر کیا کہ کس طرح اپنوں کی غداری سے ٹیپو سلطان کی شہادت ہوئی۔
اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ 1857 کی جو پہلی جنگ آزادی تھی اس کے بہت سارے پہلو اور گوشے ہیں جس میں بہادر شاہ ظفر کی شکست، دہلی کی تباہی،لکھنو کی تباہی،واجد علی شاہ کی معزولی وغیرہ پر تفصیلی گفتگو فرمائی یہ ایسے واقعات ہیں جس پر شعراء نے کھل کر اظہار خیال کیا۔تین سو پچاس سے زیادہ شاعروں نے غدر کے مختلف پہلوؤں پر لکھا۔یہ نظمیں ہندوستانیوں کی دل کی دھڑکن تھیں۔
ایک طرف دہلی کی تباہی پر شہر آشوب لکھی جارہی تھیں تو دوسری طرف غدر کی تباہی کا اظہار غالب نے بھی اپنے خطوط میں کیا۔ غالب کے بعد محمد حسین آزاد،حالی،شبلی نظر آتے ہیں۔محمد حسین آزاد نے 1857 میں” تاریخ عبرت افزا ” نظم دہلی اردو اخبار میں شائع ہوئی۔اس نظم میں انہوں نے حکومت سے سخت نفرت اور انقلابیوں کی کامیابیوں پر خوشی و مسرت کا اظہار کیا۔
اس کے بعد حالی نے بھی اپنی شاعری کے ذریعہ برطانوی حکومت کے خلاف بہت کچھ لکھا۔حالی کا یہ شعر اس دؤر میں بہت مشہور ہوا:
بیٹھے بے فکر کیا ہو ہم وطنو!
اٹھو اہل وطن کے دوست بنو!
تم اگر چاہتے ہو ملک کی خیر
نہ کسی ہم وطن کو سمجھو غیر
شبلی نے اپنے زمانے کے واقعات اور ہنگاموں کو محض مذہبی زاوئیے سے نہیں دیکھا۔نہ ہی ایک مسلمان کی حیثیت سے دیکھا تھا بلکہ قومی اور سیاسی نقطہ نظر سے دیکھا۔شبلی نے سیاسی شاعروں کی بزدلی دور کرنے کی کوشش کی۔
اسی دور میں اقبال بھی آتے ہیں اقبال کا نقطہ نظر کچھ الگ تھا اقبال کی” بانگ درا ” کی جو نظمیں ہیں وہ خالص وطنی شاعری ہے۔ اقبال نے ” نیا شوالہ ” جیسی نظم لکھی۔وہ کہتے ہیں کہ:
نہ سمجھو گے تو مٹ جاوگے اے ہندوستاں والوں
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
اردوصحافیوں کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسرنسیم الدین فریس نے اپنے خطاب میں کہا کہ حسرت موہانی بڑے صحافی اور شاعر تھے۔حسرت موہانی نے 1921 میں کانگریس کے احمد آباد کے اجلاس میں سمپورن آزادی کا نعرہ دیا اور یہ قرارداد پیش کی۔
ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
ایک طرف تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی
اسی دور میں مولانا ابوالکلام آزاد،ظفر علی خان،مولانا محمد علی جوہر ایسے صحافی ہیں جن کے اخبارات سے ہندوستان کے کسی زبان کی صحافت کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ظفر علی خان شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین صحافی تھے۔ان کی نظموں میں شعلہ،فانوسِ ہند،انقلابِ ہند،قانون ِوقت ہیں۔جن میں انہوں نے انگریزوں کی غلامی کے خلاف آواز اٹھائی۔
اس کے علاوہ نسیم الدین فریس نے مختلف شعراء کے حوالے دیتے ہوے اپنی باتیں رکھی جن میں کیفی اعظمی،ساحر لدھیانوی،رومی صدیقی،ساغر نظامی،پندت دتًاتریہ وغیرہ شامل ہیں۔اپنے پُر مغز لیکچر کے اختتام پر انہوں نے صدر شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدر آباد پروفیسر سیدفضل اللہ مکرم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس لیکچر پر گفتگو کرنے کے لیے؎
"سفینہ چاہئے اس بحر بے کراں کے لیے "
آخر میں صدر شعبہ اردو پروفیسر سید فضل اللہ مکرم نے کہا کہ پروفسیرنسیم الدین فریس ایک بڑے محقق،نقاد اور ماہر دکنیات ہیں۔تحریک آزادی اور اردوشاعری کے موضوع پر آپ نے نہایت پُر مغز اور بصیرت افروز لیکچر سے نوازا اور سامعین کی ایک کثیر تعداد نے استفادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پروفیسرنسیم الدین فریس نے اس موضوع کا پورا حق ادا کیا۔شعبہ اردو کے زیراہتمام آزادی کا امرت مہا اتسو لیکچرسیریز کے تحت مختلف دانشوروں کے توسیعی خطابات ہوں گے۔ناظم پروگرام کے شکریہ پر اس اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔

