جب تک بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل نہیں کیا جائے گا ملک ترقی نہیں کرے گا: چیف منسٹر تلنگانہ چندراشیکھرراؤ کی پریس کانفرنس

جب تک بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل نہیں کیا جائے گا ملک ترقی نہیں کرے گا
عوام پُرامن اور ترقی یافتہ ملک چاہتے ہیں یا عوام کوتقسیم کرنے والی مذہبی سیاست؟
دستور میں ترمیم کے مطالبہ کی مدافعت،بی جے پی پر دستور کے خلاف کام کرنے کا الزام
چیف منسٹر تلنگانہ چندراشیکھرراؤ کی پریس کانفرنس،وزیراعظم اور مرکزی حکومت پر شدید تنقید

حیدرآباد:13۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام)

چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے آج مرکزی حکومت،وزیراعظم نریندرمودی اور بی جے پی پارٹی پر اپنے حملوں کو مزید تیز کرتے ہوئے ملک کے عوام سے سوال کیا کہ وہ ایک ترقی یافتہ اور خوشحال ہندوستان چاہتے ہیں یا مذہب کے نام پر پھیلائی جارہی نفرت کے ذریعہ ملک کی خوبصورت پہچان اور معیشت کو نقصان پہنچانے کو پسند کرتےہیں؟

چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کرناٹک میں جاری مخالف حجاب مہم کی ایک بار پھر مذمت کرتے ہوئے ملک کے عوام سے استفسار کیا کہ کیا وہ ایک امن پسند اور ترقی یافتہ ملک چاہتے ہیں یا جاریہ مذہبی منافرت کی وجہ سے روزآنہ لڑائی جھگڑے، فساد اور کرفیو جیسے حالات کو پسند کریں گے؟

ایک صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے طنز کیا کہ کرناٹک میں جاری حجاب معاملہ پر وزیراعظم نریندر مودی تو کیا سارا ملک خاموش ہے!

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو بھی امریکہ، چین اور جاپان کی طرح ترقی دی جاسکتی ہے اس کے لیے ہمارے پاس تمام قدرتی وسائل اور نوجوانوں کی طاقت موجود ہے۔لیکن اس ترقی میں فرقہ پرستی سب سے بڑی رکاوٹ ہے

ملک کو پانچ ٹریلین اکنامی بنانے کے لیے جھوٹ اور گول مال باتوں کے ذریعہ عوام کو دھوکہ دیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے حکومت نے ملک کے بینکس بیچ دئیے،ایل آئی سی بیچ دی گئی،ایرلائن بیچ دی گئی اور دیگر سرکاری ادارے فروخت کردئی گئے۔ 

انہوں نے عوام سے کہا کہ اب بھی موقع ہے کہ وہ جاگیں اور ملک کو تباہ و تاراج کرنے والی بی جے پی حکومت کے خلاف آواز اٹھائیں انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو جب تک اقتدار سے بے دخل نہیں کیا جائے گا ملک کی یہی حالت رہے گی اور اسی مذہبی منافرت کے سہارے سیاست کی جاتی رہے گی اور ملک برباد ہوتا رہے گا۔

آج شام پرگتی بھون حیدرآباد میں طلب کردہ پریس کانفرنس سے اپنے خطاب میں چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے ملک کے موجودہ حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے تنقید کی کہ جب کبھی ملک میں انتخابات آتے ہیں مذہبی منافرت کو ہوا دی جاتی ہے یا سرحدوں پر تناؤ پیدا کیا جاتا ہے۔

چیف منسٹر نے بی جے پی اور وزیراعظم نریندرمودی پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے 8 سالہ دؤر اقتدار میں مذہب کے نام پر ملک،اس کی تہذیب اور معیشت کو تباہ و تاراج کرکے رکھ دیا ہے۔

گزشتہ دنوں ان کی جانب سے ملک کے دستور میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے بالخصوص دلت طبقات میں برہمی پیدا کرنے والے چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے اپنے اس مطالبہ کی آج اس پریس کانفرنس میں مدافعت کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے دستور میں تبدیلی کی بات کہی تھی معمار دستور ڈاکٹر بھیم راؤ بابا صاحب امبیڈکر کے خلاف کوئی بات نہیں کہی تھی۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت دستور کی صریح خلاف ورزی میں ملوث ہے۔چیف منسٹر نے ریمارک کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی کہتے ایک ہیں اور کرتے کچھ ہیں!

انہوں نے کہا کہ دستور میں ترمیم کے ان کے مطالبہ کا مقصد محض یہ ہے ملک میں دلت طبقات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے تو ان کے لیے تحفظات میں اضافہ کیا جائے،بی سی طبقات بھی تحفظات کا مطالبہ کررہے ہیں،چیف منسٹر نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے گجرات میں دلت طبقات کے نوجوانوں کی شادیوں میں انہیں گھوڑے پر چڑھنے نہیں دیا جاتا،دستور میں تبدیلی کے ذریعہ بہت سے طبقات کو مزید حقوق ادا کرکے انہیں درپیش مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے اور ہندوستان کو دیگر ممالک سے زیادہ ترقی یافتہ بنایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس تناظر میں دستور میں تبدیلی کا ان کا مطالبہ غلط یا مخالف دلت طبقات ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ ایک سینئر سیاستداں ہیں تو اپنے تجربہ کی بنیاد پر ہی ایسا مطالبہ کیے ہیں۔

چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ بابا صاحب امبیڈکر کے دستوری اصول،مہاتما گاندھی کے عدم تشدد،سبھاش چندرا بوس کی جدوجہد ہمارے لیے ایک مشعل راہ ہے۔بنا کسی تشدد پرامن طریقہ سے جدوجہد اور ملک کی ترقی ممکن ہے۔

چیف منسٹر آسام ہیمنتا بسوا سرما کی جانب سے راہول گاندھی کے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ کے استعمال پر آج دوبارہ شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ وہ نہ کانگریس کے حمایتی ہیں اور نہ ہی راہول گاندھی کی تائید کرتے ہیں لیکن انسانی نقطہ نظر سے راہول گاندھی جیسے شخص پر چیف منسٹر آسام کا نازیبا ریمارک قابل مذمت ہے اور اس کے لیے وزیراعظم اور بی جے پی کے قومی صدر جواب دہ ہیں۔