ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابشؔ
میں نے اِک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
ماں! ایک ایسی عظیم ہستی جس کا قرض کوئی ادا کرہی نہیں سکتا
حیدرآباد: 08۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام)
ماں! تین بغیر نقطوں کے حروف سے بنا ہوا یہ ایک لفظ اور یہ ہستی دنیا کے ہر انسان کی بنیاد ہوتی ہے!جو کہ زمانے کے تھپیڑوں اور برے حالات و مصائب سے اپنے بچوں کے تحفظ اوران کی بہترین پرورش کے ساتھ انہیں بہترین تعلیم و تربیت کے ذریعہ سماج کا ایک حصہ بناتے ہوئے اسے اس قابل بناتی ہے کہ وہ سماج میں اپنا ایک مقام حاصل کرے اور ان سب کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے ماں کچھ بھی کر گرزنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہے۔اسی لیے تو ماں کی گود کو بچے کا پہلا اسکول کہا گیا ہے۔
جب کوئی بچہ بیمار یا پریشان ہوجائے تو مائیں اپنی نیندیں،اپنی تمام ضروریات و خواہشات کو ممتا کی صلیب پر چڑھا کرخود کو اپنے بچے کی تیمارداری،دیکھ بھال اور اس میں جینے کا حوصلہ پیدا کرنے میں لگ جاتی ہیں۔نامور شاعرعباس تابش نے کبھی کہا تھا کہ؎
ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اِک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
لیکن یہ بھی طئے ہے کہ ماں کا قرض دنیا کی کوئی اؤلاد ادا نہیں کرسکتی لیکن ان کی خدمت کے ذریعہ اور انہیں دنیا کی سب سے سستی اور ساتھ ہی سب سے مہنگی دواء ” میں ہوں نہ ” جیسے احساس کے ذریعہ ماں کی زندگی کے باقی ماندہ کچھ سال بہتر اور طویل بناسکتا ہے اور اس میں جینے کا حوصلہ پیدا کرسکتا ہے۔
بقول منور رانا ؎
یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا
ماں اور باپ انسان کے لیے ایک نعمت ہوتے ہیں جن کی قدر کرنا اور ان کی تمام ضرورتوں کو بلاء کسی شکوہ شکایت کے پوراکرنا بچوں کا فرض ہوتا ہے جیسے انہوں نے بچپن میں انہوں نے ان کی ہرخواہش کو پورا کیا تھا!!
کسی نے سچ ہی کہا کہ ایک ماں اور باپ لاکھ مصیبتیں برداشت کرکے،تنگ حالی اور تنگ دستی کے باؤجود اپنے چار بچوں کی بناء کسی شکوہ شکایت اچھی طرح سے پرورش کرتے ہیں اور انہیں بہتر تعلیم اور تربیت کے ذریعہ سماج میں ایک اونچا مقام اور مال و دؤلت کمانے کے قابل بناتے ہیں پھر بھی وہ کبھی اپنے بچوں پر کوئی احسان نہیں جتاتے اور نہ ہی اپنی زندگی میں کبھی کسی قسم کا معاوضہ ہی طلب کرتے ہیں!
لیکن چند گھرانوں میں دیکھا جاتا ہے کہ جب یہی اؤلا د بڑی ہوکر سماج میں ایک مقام حاصل کرلیتی ہے تو AntiQu چیزیں تو لاکھوں روپیوں میں خرید کر اپنے گھر سجالیتی ہے۔لیکن انہیں اپنے ہی ضعیف ماں اور باپ ایک بوجھ لگنے لگتے ہیں!اور یہی چار بچے مل کربھی ماں باپ کی دیکھ بھال نہیں کرسکتے!! آج کے اس ترقی یافتہ دؤر کی یہی تلخ حقیقت ہے!!
آج عالمی یوم ماں Mother’s Day منایا جارہا ہے جو کہ مغربی تہذیب کی دین ہے۔حالانکہ ماں ہمیشہ اور ہر دم ہر لحظہ و ہر آن پیار کرنے کی چیز ہوتی ہے۔اسلام ہمیں ہر روز ماں باپ کی خدمت اور ان کی تعظیم کا درس دیتا ہے۔باپ کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کہ ماں کی۔
"نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اپنے والدین کو پیار بھری نگاہوں سے دیکھا تو اسے ایک مقبول حج کا ثواب ملے گا”۔
اب جبکہ مدرز ڈے مغربی تہذیب ہے اور اب یہ سماج کا ایک حصہ بن گیا ہے کہ ہر دن کا کوئی ایک دن منایا جائے۔لازمی نہیں کہ اس کلچر کو ہم بھی منائیں!لیکن وہیں دیگر اقوام کے کلچر کی سوشل میڈیا کے ذریعہ مخالفت کرتے ہوئے ہمارے حساب سے زندگی گزارنے کی ضد کرنا یا ان سے نفرت کرنے کا بھی ہمیں حق نہیں ہے!
باپ کی اہمیت پر "طاہر شہیر” کا کلام بھی مشہور ہے؎
عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگ جاں سے
یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے
٭٭
وہ ماں کے کہنے پہ کچھ رعب مجھ پہ رکھتا ہے
یہی ہے وجہ مجھے چومتے جھجھکتا ہے
٭٭
وہ آشنا مرے ہر کرب سے رہے ہر دم
جو کھل کے رو نہیں پاتا مگر سسکتا ہے
٭٭
جڑی ہے اس کی ہر اک ہاں فقط مری ہاں سے
یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے
٭٭
ہر ایک درد وہ چپ چاپ خود پہ سہتا ہے
تمام عمر وہ اپنوں سے کٹ کے رہتا ہے
٭٭
وہ لؤٹتا ہے کہیں رات دیر کو دن بھر
وجود اس کا پسینے میں ڈھل کے بہتا ہے
٭٭
گلے ہیں پھر بھی مجھے ایسے چاک داماں سے
یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے
٭٭
پرانا سوٹ پہنتا ہے کم وہ کھاتا ہے
مگر کھلونے مرے سب خرید لاتا ہے
٭٭
وہ مجھ کو سوئے ہوئے دیکھتا ہے جی بھر کے
نہ جانے سوچ کے کیا کیا وہ مسکراتا ہے
٭٭
مرے بغیر ہیں سب خواب اس کے ویراں سے
یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے
(کلام بشکریہ: ریختہ)
” ماں پر مختلف شعرا کے چند اشعار یہاں پیش ہیں”
کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی
٭٭
ماں محبت ، شفقت ، عبادت ، ریاضت
وہ لفظ ہی نہیں اُترا ، جس سے تجھے لکھوں
٭٭
منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کر نہیں رونا
جہاں بنیاد ہو اتنی نمی اچھی نہیں ہوتی
٭٭
گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں
مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں
٭٭
لبوں پہ اس کے کبھی بد دعا نہیں ہوتی
بس ایک ماں ہے جو مجھ سے خفا نہیں ہوتی
٭٭
جب چلی ٹھنڈی ہوا ، بچہ ٹھٹھر کے رہ گیا
ماں نے اپنے لعل کی تختی جلا دی رات کو !
٭٭
سوچتی رہتی ہے ماں افسر بنے گا میرا لعل
بھوکا بچہ آج ردی میں کتابیں دے گیا
٭٭
اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصّے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
٭٭
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
٭٭
کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میں
یہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے
٭٭
گھر کی اس بار مکمل میں تلاشی لوں گا
غم چھپا کر مرے ماں باپ کہاں رکھتے تھے
٭٭
شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے
کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا

