اسلام میں بدترین جرم قتل ہے،اللہ سے ڈرو : بیرسٹر اویسی
حیدرآباد کے سرورنگر میں ناگاراجو کے قتل کی شدید مذمت
حیدرآباد:07۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام)
صدر کل ہندمجلس اتحادالمسلمین ورکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نےحیدرآباد کےسرورنگر علاقہ میں بین مذہبی شادی کرنے والے ناگاراجو کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔
بیرسٹر اسدالدین اویسی کے اس مذمتی بیان پرمشتمل ویڈیو کو ریاستی،قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کی جانب سے اورسوشل میڈیا پر بھی اس ویڈیو کو بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔مذمتی بیان پرمشتمل ویڈیوسوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہوا ہے۔ اور اس ویڈیو کو زیادہ تر غیر مسلم برادران وطن نے پوسٹ کرتے ہوئے بیرسٹر اسدالدین اویسی کے مذمتی بیان کی سراہنا کررہےہیں کہ ان سے لاکھ مخالفت سہی لیکن ان کا یہ بیان لائق ستائش اور قابل خیرمقدم ہے۔
یاد رہے کہ ریاست تلنگانہ کے ضلع وقارآباد میں موجود مرپلی منڈل کے ساکن ناگاراجو جن کا تعلق دلت طبقہ سے ہے نے اسی موضع کی ایک مسلم لڑکی عشرین فاطمہ (اصل نام آفرین فاطمہ) سے پانچ ماہ قبل شادی کی تھی۔تاہم 4مئی کو لڑکی کے بھائی اور ان کے ساتھیوں نے حیدرآباد میں عشرین فاطمہ کے سامنے ہی ان کی گاڑی روک کر ناگاراجو پر حملہ کرتے ہوئے قتل کردیا تھا۔
اس قتل کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا پر صدرمجلس و رکن پارلیمان بیرسٹر اسد الدین اویسی کی خاموشی پرسوال اٹھائے جارہے تھے کہ انہوں نے اب تک کیوں اس قتل کی مذمت نہیں کی؟۔
لیکن کل رات سے بیرسٹر اسدا لدین اویسی کا مذمتی بیان والا ویڈیو سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہوگیا ہے۔
کل ہندمجلس اتحادالمسلمین کے ہیڈکوارٹر دارالسلام میں 6 مئی کو منعقدہ عیدملاپ تقریب سے اپنے خطاب میں بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اس قتل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ”مسلمانوں میں نکاح مسلم مرد اور عورت میں ہی ہوسکتا ہےیہ شریعت ایکٹ ہے۔جبکہ ہندو میریج ایکٹ اور اسپیشل میریج ایکٹ میں دو ہندوؤں کے درمیان شادی ہوتی ہے۔
بیرسٹر اویسی نے کہا کہ اس لڑکی نے اپنی پسند سے شادی کی تھی قانوناً اس کواجازت ہے۔انہوں نے کہا کہ لڑکی کے بھائی کو کوئی جواز نہیں کہ وہ جاکر اس بچی کے شوہر کا قتل کردے۔
بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کہا کہ یہ قانوناً جرم ہے۔اور اسلام میں بدترین جرم قتل ہے۔انہوں نے کہا کہ جو معصوم لوگوں کا قتل کرتا ہے۔وہ حساب کتاب کے دن اسی حالت میں اللہ کے دربار میں کھڑے ہوگا کہ فلاں شخص نے مجھے مارا اب آپ میرا حساب کریں۔
بیرسٹر اسدالدین اویسی نے اپنے خطاب میں استفسار کیا کہ آپ نے کیوں مارا اس بچے کو؟ اور میں کھلے طور پر کہہ رہا ہوں کہ میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آپ کو پسند نہیں تھا ٹھیک ہے آپ منہ پھیرلینا تھا،کہ ٹھیک ہے جاو تم،لیکن آپ نے ظلم کیا،غلط حرکت کی،اور مجلس اتحادالمسلمین اس کی مذمت کرتی ہے۔
انہوں نے قتل میں ملوث نوجوانوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اختیار نہیں کہ آپ جاکر اس بچی کے شوہر کو قتل کردیں ظلم ہے یہ، یادرکھو،اللہ سے ڈرو۔
صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اپنے خطاب میں قرآن کریم کی المائدہ کی سورہ نمبر 32 کاحوالہ دیتے کہا کہ پڑھو جاکر جس میں اللہ سبحان تعالیٰ فرماتے ہیں کہ”کوئی ایک ناحق انسان کو قتل کرے گا وہ پوری انسانیت کوقتل کرنے کے برابر ہے۔کسی نے ایک معصوم کی جان بچائی تو اس نے پوری انسانیت کو بچایا”۔

